کامیابیاں جن کے قدم چومتی ہیں!
25 جولائی 2020 2020-07-25

نئی بات میڈیا گروپ کے چیئرمین چوہدری عبدالرحمن پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن منتخب ہو گئے۔ یہ ایسوسی ایشن پاکستان بھر کے ٹی وی چینلز اور ریڈیوز کی نمائندگی کرتی ہے۔.... اس ایسوسی ایشن کا قیام کب عمل میں لایا گیا تھا؟ یہ ایسوسی ایشن اب تک ٹی وی چینلز اور ریڈیوز کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے کیا کردار ادا کر چکی ہے؟ اور خود اپنے شعبے میں جن اصلاحات کی ضرورت ہے، اس حوالے سے اب تک کچھ سوچا یا کیا گیا یا نہیں؟ مجھے اس بارے میں تفصیلات معلوم نہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اب تک اگر نہیں ہوا تو چوہدری عبدالرحمن اور برادرم محسن نقوی جیسے زیرک اور مثبت ذہنیت کی حامل شخصیات کے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے ارکان منتخب ہونے کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے۔ ان معاملات پر صرف غوروفکر ہی نہیں ، عملی طور پر ایسے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا جس کے نتیجے میں ایک طرف تو ٹی وی چینلز اور ریڈیوز کو درپیش مسائل کا کوئی حل نکل سکے، دوسری طرف ٹی وی چینلز اور ریڈیوز کو اخلاقی حوالوں سے جن تقاضوں پر پورا اترنا چاہئے، اور اب تک پورا اترنے کی ہلکی سی کوشش بھی نہیں ہوئی تو اس جانب بھی کچھ توجہ اب دی جائے گی.... چوہدری عبدالرحمن ایک انتہائی سمجھدار ، صلح جو ، معاملہ فہم انسان ہیں۔ غیر ضروری طور پر سرکار یا سرکار کے کسی بھی شعبے سے پھڈے بازی کا ہلکا سا تصور بھی ان کے ہاں موجود نہیں۔ پر کوئی غیر ضروری طور پر ان کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرے، یا انہیں دباﺅ میں لانے کی کوشش کرے تو یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ نہ ہی کسی کے مہذب اصولوں سے چھیڑخانی کی کوئی کوشش کی۔ صحافت میں ان کے رویئے اور مزاج کا کئی بار نئی بات میڈیا گروپ کو ناقابل تلافی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ جس کی انہیں کوئی پروا شاید اس لئے نہیں رہی نئی بات میڈیا گروپ پر جب بھی کڑا وقت کسی بھی صورت میں آیا اس ادارے سے وابستہ ہر کارکن ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ان کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہو گیا۔ مسائل کا بوجھ اس ادارے کے صرف مالکان نے نہیں، کارکنوں نے بھی اٹھایا اور اس کی وجہ صرف اور صرف اس ادارے کے مالکان کا اپنے کارکنوں کے ساتھ وہ حسن سلوک ہے جس کا کچھ دوسرے میڈیا گروپوں میں تصور تک نہیں ہے.... ہاں ایک برادرم محسن نقوی بھی ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر عام ہے اپنے کارکنوں کو اپنے خاندان کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کی ہلکی سی تکلیف بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ ان کے ایک رپورٹر اسد ساہی کے معاملے میں ہم نے دیکھا۔ ان کی اچانک وفات پر ان کے لواحقین کے ساتھ جو برتاﺅ انہوں نے کیا وہ بے مثال ہے۔ ان کے بھائی علی ساہی کو اپنے ادارے میں وہ اس مقام پر لے آئے جس پر اسد ساہی تھے۔ اسد ساہی کی ایک بہت بڑی تصویر بھی اپنے دفتر کے باہر آویزاں کر دی۔ یوں محسوس ہوتا تھا یہ سٹی 42 کا نہیں اسد ساہی کا ذاتی دفتر ہے۔ یہی رویہ چوہدری عبدالرحمن کا اپنے کارکنوں سے ہے۔ اس کے باوجود کہ میڈیا میں ان کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے، کئی تعلیمی ادارے بڑی کامیابی سے چلا رہے تھے سو جب روزنامہ نئی بات انہوں نے شروع کیا میڈیا انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا خیال ہی نہیں کچھ لوگ پورے وثوق سے کہہ رہے تھے یہ اخبار چند روز بعد بند ہو جائے گا۔ میں جب نوائے وقت چھوڑ کر نئی بات جائن کرنے لگا، مجھے ایک سینئر صحافی نے کہا ”تم یہ کیا بے وقوفی کرنے جا رہے ہو؟“۔کچھ عرصے بعد اس سینئر صحافی نے مجھ سے کہا ”میں بھی نوائے وقت چھوڑنا چاہتا ہوں، میرے لئے چوہدری عبدالرحمن سے بات کرو“.... مجھے اس ادارے سے وابستہ ہوئے کئی برس بیت گئے۔ اس دوران کئی نئے اخبارات میدان میں اترے، مجھ سے انہوں نے رابطے کئے۔ نئی بات میڈیا گروپ سے ملنے والی تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تنخواہ کی پیشکش کی۔ میں نے ہمیشہ یہی عرض کیا ”ساری بات پیسوں کی نہیں ہوتی۔ نہ اللہ نے مجھے ایسی لالچوں میں مبتلا کیا ہے۔ میرے محترم سید ارشاد احمد عارف گواہ ہیں میں بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض کے اخبار جناح کی بھاری تنخواہ چھوڑ کر اس سے کہیں کم تنخواہ پر روزنامہ نوائے وقت میں صرف عزت کے لئے آیا تھا، جو جناب مجید نظامی(مرحوم) کے خصوصی مزاج اور فطرت کے باعث نہ مل سکی.... نئی بات میڈیا گروپ میں جو عزت مجھے ملی، خصوصاً لکھنے کی جو آزادی یہاں نصیب ہوئی،اور کسی حد تک اب بھی نصیب ہو رہی ہے، کسی اور میڈیا گروپ یا اخبار میں اس کا تصور بھی محال ہے۔....”کسی حد تک“ میں نے اس لئے کہا ”آزادی صحافت“ پر یہ بہت کڑا وقت ہے۔ صحافی اغواءہو رہے ہیں ، گرفتار ہو رہے ہیں، انہیں شرمناک دھمکیاں مل رہی ہیں۔ لکھنے اور بولنے والوں کو واٹس ایپ پر ہدایات جاری ہو رہی ہیں، غلیظ ذہنیت کے حامل کچھ وزراءکو ”ہیرو“بنا کر پیش کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ زبان بند کرنے کا شاید ہی کوئی طریقہ ہو جو آزمایا نہیں جا رہا۔ زبان بندی اور ہتھ بندی کی ایسی ایسی مثالیں قائم ہو رہی ہیں، کبھی کبھی احساس ہوتا ہے یہ عمران خان کی نہیں ”جنرل عمران خان“ کی حکومت ہے۔ خاص طور پر اس عمران خان کی تو بالکل نہیں ہے جو اقتدار سے قبل آزادی صحافت کے گن گاتے تھے، اور ان کے ساتھی ساتھ طبلہ بجاتے تھے۔....ملکی مفاد کے کسی معاملے میں سیاسی واصلی قوتیں متحد ہو ں نہ ہوں میڈیا کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کے معاملے میں سب ہی متحد ہیں۔.... دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے میڈیا انڈسٹری اپنے اس کردار کا کچھ جائزہ لے جو کئی اعتبار سے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے ، بلکہ کسی حد تک ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ کچھ میڈیا مالکان کو جن خرابیوں اور لالچوں کی لت پڑ چکی ہے، اس سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً ہر کسی کی پگڑی اچھالنے کا رویہ اب تبدیل ہونا چاہئے۔ کسی اینکر یا اخبار نویس کو کوئی بات بغیر تصدیق کے نہیں کرنی چاہئے۔ یہ جو ہم اکثر غلط باتیں ”باوثوق ذرائع“ کے کھاتے میں ڈال کر خود کوبری الذمہ ٹھہرا دیتے ہیں ،اس کی کوئی حد بھی مقرر ہونی چاہئے۔ اینکرز اور اخبار نویسوں کو بولنے اور بکنے کے درمیان فرق کا پتہ ہونا چاہئے۔ یہ نہیں ہو گا تو آگ دونوں طرف برابر لگی رہے گی جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی۔ چوہدری عبدالرحمن کے سوچنے اور کرنے کی بہت سی باتیں ہیں۔ ان سے یہ امید ہرگز نہیں وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ نیک مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ان کے لئے دعاگو ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں!!


ای پیپر