اب ڈو مور ہی تو ہو گا؟
25 جولائی 2019 2019-07-25

وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے پہلے دورہ امریکہ سے خوش ہیں کہ وہ ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں ۔ انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ وہ امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔وہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے بارے میں کہے گئے الفاظ سے بھی بہت خوش ہیں۔وائٹ ہاوس میں مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہوئی جس میں ٹرمپ نے جو باتیں کیں اس میں کپتان نے ہاں میں ہاں ملائی ۔ جب ٹرمپ کہہ چکے کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں نے ان سے تعاون نہیں کیا۔ پریس کانفرنس میں کپتان کو برابری کی سطح پر بولنا چاہیے تھا۔اور پاکستان کا مقدمہ پیش کرتے۔اس پریس کانفرنس سے ایوب خان کا1961 کا سٹیٹ وزٹ یاد آگیا جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی۔ اس زمانے میں چین اور بھارت کی جنگ کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان اس جنگ میں غیر جانب دار رہے۔اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینڈی نے ایوب خان کو دورہ کی دعوت دی۔ ایوب خان کا یہ دورہ جولائی 1961 میں شروع ہوا جو پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہوا۔ امریکی صدر جان ایف کینڈی ایوب خان کی آمد سے قبل ہی اینڈریوز ایئر بیس پر پہنچ چکے تھے جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفیر ایم عزیز اور سفارتی عملہ بھی پہنچ چکا تھا۔ایوب خان کا جہازائربیس پر لینڈ کیا،ایوب خان جیسے ہی جہاز کی سیڑھی سے نیچے اترے توامریکی صدر جان ایف کینڈ ی نے آگے بڑھ کر جہاز کی سیڑھیوں پر ایوب خان کا استقبال کیا۔امریکی صدر کی اہلیہ جیکی کینیڈی نے ایوب خان،ان کی بیٹی جمیلہ اختر اورنگزیب کو خوش آمدید کہا اور انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔خیر مقدم کرنیوالوں میں امریکی نائب صدر جانسن،وزیر خارجہ مسٹر وین رسک کے علاوہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور دولت مشترکہ کے سفیر بھی شامل تھے۔ایوب خان 21 توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر کینڈی اور ایوب خان مہمانوں کے چبوترے پر پہنچے۔اپنے مختصر خطاب میں امریکی صدر نے ایوب خان کو خوش آمدید کہا،جواب میں ایوب خان نے اپنے مختصر خطاب میں کہا’’حضور والا میں اپنے ملک اور اپنے بارے میں تعریفی کلمات سے بہت متاثر ہوا ہوں لیکن یہ نہ بھولیے گا آپ جو کچھ کرتے ہیں وہ ہمارے ملک پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے میں دیکھتا رہتا ہوں آپ کیا کرتے ہیں‘‘۔جان ایف کینڈی اور ایوب خان ایک کھلی گاڑی میں سوار ہوئے تو امریکی شہریوں کے جم غفیر نے اپنے گھروں کی چھتوں اور بازاروں میں منوں کے حساب سے صدر ایوب پر پھول نچھاور کئے۔ سب سے اہم مصروفیت ایوب خان کا امریکی کانگرس سے خطاب تھا۔ ان کی آمد پر کانگرس کے تمام ارکان نے پر جوش انداز میں تالیاں بجا کر ایوب خان کا استقبال کیا۔ایوب خان نے پر تکلف انداز میں ایک شاندار تقریر کی جس کوتالیوں کی گونج میں زبردست پذیرائی ملی۔ جیسے ہی ایوب خان نے اپنی تقریر کے اختتامی الفاظ ادا کئے تو کانگرس کے ارکان کافی دیر تک تالیاں بجاکر ایوب خان کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ایوب خان کی کانگرس میں کی جانے والی تقریر کو کانگرس سے خطاب کرنے والے سابقہ مہمانوں کی تقاریر میں بہترین تقریر قرار دیا گیا۔ ایک امریکی اخبار نے تو ایوب خان کو سر ونسٹن چرچل کا ہم پلہ مقررقرار دیا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد بھی ایوب خان پاک بھارت جنگ کی صورت حال کے بعد ثالثی کی التجا لے کر امریکہ امریکہ کے سٹیٹ وزٹ پر گئے۔اس وقت کے امریکی صدر نے یہ ثالثی کرنے سے انکار کرکے ایوب خان کوروس کی راہ دکھائی۔امریکہ کے اس رویے نے خاصا مایوس کیا ایوب خان نے بھارت سے جو جنگ جیتی تھی وہ تاشقند کی میز پر ہار دی ۔ امریکہ صدور کی پاکستان کے بارے میں حکمت عملی امریکہ کے مفاد میں چلتی رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا رویہ کئی بار حیرت کا باعث بنتا رہا ہے۔ ابھی جو چھکا ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کے بارے میں مارا ہے ۔اس میں بھی انہوں نے لفظ اگر کا استعمال کیا ہے ۔ یہ وعدہ تو جان ایف کینڈی نے بھی ایوب خان سے کیا تھا۔ وقت گزرنے کے بعد انہوں نے اس وعدے کو اپنی زندگی میں کبھی ایڈریس نہیں کیا تھا۔ بلکہ اب ٹرمپ کپتان کے پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی تیسری مرتبہ کانگرس سے الجھ پڑے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادیں ویٹو کردیں۔ قراردادیں امریکی کانگریس نے منظور کی تھیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مئی2019 میں سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا کہا تھا اور ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ویٹو پاور استعمال کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں پہلی بار اپنی ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف منظور کردہ قرار داد کو ویٹو کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم مپ سے پہلے بل کلنٹن نے نواز شریف سے وعدہ کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے واجپائی بس میں سوار ہو کر لاہور آئے مودی اس معاہدے کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے۔ امریکی صدر بش بھی پاکستان سے کشمیر کے حوالے سے کافی کوششیں کرتے رہے تھے۔ مگر مشرف کشمیر پر فارمولوں پر فارمولے دے کر وقت ضائع کر رہے تھے۔۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کی مدد سے آگرہ کا میدان سجایا گیا تھا۔ امریکہ اگر دباو ڈالتا تو آگرہ سمجھو تہ تاریخ ساز ہو سکتا تھا۔ مشرف نے امریکہ کی ڈو مور کی جنگ کے عوض جو بلین ڈالر کی امداد لی اس کا بھی آڈٹ ہونا ضروری ہے۔ کپتان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہماری ایجنسی آئی ایس آئی نے امریکہ کو بتایا کہ دنیا کا سب سے مطلوب آدمی اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود ہے۔اسامہ اور ملا عمر کی تلاش میں ہم نے کتنا نقصان اٹھایا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔

اسامہ بن لادن کی موت ان کی حیات کی طرح آخر تک ایک معما ہی بنی رہی۔ ان کی موت کے انکشافات نائن الیون کے فوری بعدہی سے ہی شروع ہوگئے تھے۔ یہ انکشافات کرنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ اس میں وہ تمام شخصیات شامل ہیں جن کو ہم کو ہم معتبر باخبر بلکہ بعض صورتوں میں ان سازشوں میں شامل سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کا ڈراپ سین 2 مئی 2011 کو اس وقت ہوا جب اسامہ کی موت کی طرح ان کی لاش بھی ابھی تک معما بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے اعلان کیا کہ اسامہ کی لاش کو سمندر برد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اسامہ کی لاش کی تصاویر جاری کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے بقول ان کے دنیا بھر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا ۔ اب ہمارے کپتان کو یقین ہے کہ اسامہ کا کام ہمارا ہے۔فوکس نیوز کے انکشاف کے بعد کپتان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو بھی افشاں کر دیں جس میں سارے راز دفن ہیں ۔ کپتان اور سیز پاکستانیوں کو متاثر تو کر سکتے ہیں مگر پاکستان میں سیاسی بحران شدت سے سر اٹھا چکا ہے۔ایک تحریک ابھرتی ہوئی سامنے کھڑی ہے۔سب سے اہم سوال تو چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کا پاس ہونا ہے۔ اب حکومت کا وفد اپوزیشن جماعتوں کے پاس جارہا ہے۔عدم اعتماد کا فیصلہ رہبر کمیٹی کا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کو ٹکہ سا جواب دے دیا ہے۔ یوم سیاہ جو 25 جولا ئی کو منایا گیا ۔ چاروں صوبوں میں یہ کامیاب شو تھا۔کپتان تو پریشان ہیں یہ موقف بھی سامنے آرہا ہے کہ پاکستان کا اقتصادی بحران سے نکلنے کا ماڈل ہی غلط ہے مہنگائی سے جو چیخیں نکل رہی ہیں یہ حکمرانوں کو لے ڈوبیں گی۔ خارجہ پالیسی میں وہی ہو گا جو پاکستان کی عسکری قیادت کہے گی۔ طالبا ن ہی نہیں بلکہ کابل کی حکومت کو راضی کرنا بھی مشکل ہے ۔افغان صدر اپنی سپیس چھوڑ کر طالبان کو نہیں دے سکتے۔ ٹرمپ کے حربے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نے افغانستان کے اقتدار کا مسئلہ حل کرنے کی تین بار کوشش کی تھی۔ معاہدہ پشاور،معاہدہ اسلام آباداور دوحہ مذاکرات۔ مگر نہ امریکہ فوج نکالنا چاہتا ہے اور نہ طالبان کو امریکہ کی شرائط منظور ہیں ۔ پاکستان کولیشن فنڈ کی رقم لینے کے لیے بے چین ہے اسے ڈو مور کرنا ہی پڑے گا۔


ای پیپر