مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی
25 جولائی 2019 2019-07-25

وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دورہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کا بڑے اعتماد اور وثوق سے ذکر کیا۔ ملاقات ہی میں امریکی صدر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ کہتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کشمیر پر ثالثی سے متعلق مجھ سے بات کر چکے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پہلے جب بھی تنازع کشمیر پر امریکہ کو مصالحانہ یا ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے کہا گیا تو امریکی حکومت ہمیشہ کنی کتراتے ہوئے یہی کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کو باہمی مذاکرات کے ذریے حل کرنا چاہئے۔البتہ امریکہ اس سلسلے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف ثالثی کی پیش کش کی بلکہ یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نریندر مودی بھی اِس پر رضا مند ہیں۔

امریکی صدر کے ثالثی بیان پر بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کی درخواست نہیں کی۔شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ کی رو سے دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) تمام تر مسائل باہمی طور پر ہی حل کریں گے۔ انہوں نے بھارت کے پرانے راگ یعنی کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے کو ایک بار پھر دہرایا۔بھارت کے سابق وزیر ششی تھرور نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو بالکل بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان سے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملاقات کے وقت جو کچھ کہا تھا یا تو وہ ٹرمپ نے سمجھا ہی نہیں یا ٹرمپ کو بریفنگ نہیں دی گئی۔ ٹرمپ کو نہیں معلوم کہ کشمیر پر کسی تیسرے ملک کی جانب سے ثالثی سے متعلق بھارت کا موقف کیا ہے۔

صدر ٹرمپ اپنا وعدہ نباہتے ہوئے اگر کشمیر پر ثالثی کرانے کا آغاز کرتے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کے مبنی برحق وانصاف موقف کا کس حد تک لحاظ رکھتے ہیں اور کشمیریوں کی آرزوؤں اور آدرشوں کو کتنا وزن دیتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر زمین کے کسی ٹکڑے کا معاملہ نہیں ہے۔یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے مستقبل اور حق خود ارادیت کا سوال ہے۔یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی پاکستانی یا عالمی لیڈر اگر کشمیریوں کی خواہشات کو نظر انداز کر کے اگر مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا تو یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور قابل قبول حل کیلئے بھارت سے یواین قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ان کیلئے کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا کیونکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب کا حق دینا ہی اس مسئلہ کا اصل اور ٹھوس حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تعاون مانگا ۔ ہمیں کشمیر پر بہرصورت اپنے موقف کی ہی پاسداری کرنی اور کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے ہر فور م پر آواز اٹھائے رکھنا ہے۔ ٹرمپ کی کوششوں سے اگر کشمیریوں کو آزادی کی منزل حاصل ہوجاتی ہے یہی اس خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بنے گی۔

مقبوضہ کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمرفاروق نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے امریکی صدر کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اْٹھائی ہے۔اب امریکا کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا۔ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پردیرینہ حل طلب مسئلہ ہے اورریاست کی گزشتہ تین نسلیں کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی قربانی دے چکی ہیں۔ مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میر واعظ عمرفاروق نے کہا کشمیری عوام کو تنازعے کے حل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جموں کشمیر پیپلز ڈیمو کریٹ پارٹی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا کشمیر پر وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران ثالثی کی پیشکش بہت اچھی ہے اس سے برصغیر میں امن واپس آئے گا۔ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں، یہ معاملہ مذاکرات سے ہی حل ہو گا۔

آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور امیدظاہر کی ہے کہ امریکی ثالثی کے نتیجے میں جموں کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا حل نکلے گا اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو گا۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کے اعلان کو غیرمعمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکہ دیرینہ تنازعے کے حل کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گا۔ جموں کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاملہ ہے اس مسئلے کو عالمی برادری نے حل کرنا ہے چنانچہ اب اقوام متحدہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں آگے آئے۔ آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ تنازع کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔


ای پیپر