کون بنا ہے وزیراعظم، کس کی اپوزیشن: صوبوں پر کون حکمرانی کریگا
25 جولائی 2018 2018-07-25

ان سطور کی اشاعت اور اخبار کے قارئین کے ہاتھوں تک پہنچنے تک انتخابات کے نتائج کافی حد تک معلوم ہو چکے ہوں گے۔۔۔ کون آگے نکل گیا ہے کون پیچھے ہے ۔ جیت کس کی ہوئی اور ہار کس کے نصیب میں لکھ دی گئی۔۔۔ کیا فی الواقعہ کسی جماعت یا اس کے رہنما کو اس حد تک اکثریت مل گئی ہے کہ ایک مضبوط اور پائیدار حکومت قائم کر لے گا جو مقابلے میں حصہ لینے والی ہر جماعت اور اس کے قائدین کی خواہش ہے یا جیسا کہ انتخابات سے قبل پیشتر اندازوں اور رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا گیا معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ۔۔۔ پھر صوبوں کے اندر کون کون حکومت قائم کرے گا۔۔۔ پنجاب جس کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی انتخابی جنگوں میں پانی پت کے میدان کا درجہ رکھتا ہے قومی اسمبلی کی نشستوں کے حساب سے اس نے کس رہنما کے گلے میں ہار ڈالا ہے اور اس کے اپنے اندر صوبائی حکومت کس کی بن رہی ہے ۔۔۔ اس کا جنوبی حصہ کس کے حق میں وزن ڈال چکا ہے ۔۔۔ کیا جنوب اور شمالی و وسطی پنجاب میں سیاسی تفریق زیادہ نمایاں ہو گئی ہے یا پراپیگنڈہ زیادہ تھا۔۔۔ اس طرح دوسرے بڑے صوبہ سندھ میں جہاں عرصہ دراز سے شہری اور دیہاتی تقسیم چلی آ رہی ہے ۔۔۔ شہروں کے لوگ واضح اور قطعی اکثریت کے ساتھ ایم کیو ایم کو کامیاب کراتے تھے۔۔۔ جبکہ دیہی سندھ کے اندر جہاں اکثریت بستی ہے وہاں پیپلزپارٹی کے حق میں فیصلہ ہوتا رہا ہے اسی بنا پر 2008ء اور 2013ء میں اور ماقبل بھی کئی بار اسی جماعت کی حکومتیں قائم رہیں۔۔۔ مگر صوبے کے شہری علاقوں پر عملاً ایم کیو ایم کا راج ہوتا تھا۔۔۔ لیکن اس مرتبہ بتایا جاتا ہے ۔۔۔ ایم کیو ایم کی پرانی اور روایتی طاقت باقی نہیں رہی کئی دھڑے وجود میں آ چکے ہیں۔۔۔ تحریک انصاف نے بھی کراچی میں قدم جما لیے ہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن) نے دو چار نشستوں پر مضبوط امیدوار کھڑے کیے۔۔۔ جماعت اسلامی اپنے پرانے ووٹ بینک کو زندہ کرنے کے لیے زور لگاتی رہی۔۔۔ اسی طرح دیہی سندھ کے بارے میں خبریں تھیں کہ پیپلزپارٹی اور زرداری خاندان کی بھٹو کے نام پر پہلی سی اجارہ داری قائم نہیں رہی۔۔۔ سندھ ڈیمو کریٹک الائنس کے عنوان سے موجودہ پیر پگاڑا کی قیادت میں چند جاگیرداروں اور کئی قوم پرستوں نے مل کر بڑا محاذ بنا لیا ہے جو سیٹیں نکالے گا۔۔۔ نتائج کیا آئے ہیں کیا پیپلزپارٹی اپنی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے سب کچھ کافی حد تک سامنے آ چکا ہو گا۔۔۔ تیسرا بڑا صوبہ خیبر پختونخوا ہے ۔۔۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک جماعت پانچ سال کے لیے حکومت کر لے تو اسے تسلسل کے ساتھ دوسرا موقع نہیں دیا جاتا۔۔۔ لیکن اس مرتبہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف دوبارہ کامیابی حاصل کر لیں گے مگر مقابلے کی جماعتوں میں اے این پی، مولانا فضل الرحمن اور ان کا متحدہ مجلس عمل کا اتحاد نیز عوامی وطن پارٹی جیسی پارٹیاں بھی عوام کی جانب سے بٹے جانے والے کیک کا اچھا خاصا وصول کر لیں گی۔۔۔ بیلٹ بکس سے بالآخر کیا نتیجہ برآمدا ہوا ہے ۔۔۔ ابتدائی نتائج خاصی حد تک ظاہر ہو چکے ہوں گے۔۔۔ کیا اس صوبے کے اندر تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے جا رہی ہے یا مخالف جماعتیں ایک بڑا اتحاد بنا کر حکومتی تسلط جما لیں گی۔۔۔ اس بارے میں بھی اے قارئین اس وقت جبکہ ان سطور کو ملاحظہ فرما رہے ہوں گے بہت کچھ واضح ہو چکا ہو گا۔۔۔ دہشت گردی نے ابھی تک یہاں خوف و ہراس کی فضا پھیلا رکھی ہے ۔۔۔ انتخابات سے چند روز قبل اے این پی کے جلسے میں جس طرح اس کے امیدوار ہارون بلور کی شہادت ہوئی ہے ، اس نے ملک سمیت پورے صوبے کو سوگوار بنائے رکھا۔
صوبہ بلوچستان ہمارے ملک کا آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے میں سب سے بڑا صوبہ ہے ۔۔۔ اس کی حساس سٹریٹجک پوزیشن ہر کہ و مہ پر واضح ہے ۔۔۔ گوادر کی بندرگاہ ااور سی پیک کا دروازہ ہے ۔۔۔ اپنے طور پر شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے ۔۔۔ دہشت گردی کی بہت بڑی آماجگاہ یہ بھی بنا رہا ہے ۔۔۔ شمال کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی مانند یہاں بھی اس کا عفریت پھنکارے جا رہا ہے ۔۔۔ معلوم نہیں اب تک کتنی معصوم جانوں کو ہڑپ کر چکا ہے ۔۔۔ قوم پرست اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے تنظیمیں جب چاہتی ہیں۔۔۔ کسی اہم مقام پر قیامت صغریٰ کا سماں باندھ دیتی ہیں۔۔۔ ان پر قابو پانے کے دعوے بہت کیے گئے۔۔۔ سکیورٹی فورسز کے چوکنا اور متحرک ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ لیکن دہشت گردی بھی ایسے ’’ باکمال‘‘ واقع ہوئے ہیں کہ ملک کے اتنے بڑے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی آنکھوں میں دھول ڈال کر خون کی ہولی کھیل ڈالتے ہیں۔ اپنی مذموم کارروائیوں سے باز نہیں آتے۔۔۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں گزرے کہ مستونگ کے مقام پر ایک بڑے سیاسی اور روایتی خاندانی لیڈر سراج رئیسانی کے جلسے پر شب خون مارا ان سمیت سوا سو زائد بے گناہ افراد کو لقمہ اجل بنا کر رکھ دیا۔۔۔ اس صوبے کے حالات پر اس کی حساس سٹریٹجک نوعیت اور داخلی بے چینی کی وجہ سے پر بین الاقوامی طاقتیں اور ہمسایہ ممالک بھی نظریں ٹکائے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ جنہیں
پاکستان کے اصل حکمران کہا جاتا ہے ۔۔۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی مقتدر قوتوں کے نام سے پکارا کہا جاتا ہے ۔۔۔ انہوں نے پچھلے ڈیڑھ برس کے اندر یہاں پر پولیٹیکل انجینئرنگ کا بڑا تجربہ کیا ہے ۔۔۔ اپنے تئیں وہ اسے کامیاب گردانتے ہیں لیکن فی الواقعہ اس طرح کی مسلط کیے جانے والی سیاسی بازیگری کیا بلوچستان کے اندر حقیقی سیاسی اور داخلی استحکام وجود میں لانے کا باعث بنے گی یہ اہم سوال ہے ۔۔۔ اس پولیٹیکل انجینئرنگ کے تحت پہلے رواں سال کے آغاز پر اچانک وہاں کے منتخب اور مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلا ف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔۔۔ ان کی اکثریت کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔۔۔ اس کی خاطر اراکین کے ووٹ خریدے گئے یا خفیہ والوں کے ٹیلی فونوں نے دباؤ ڈالا۔۔۔ بہت سی قیاس آرائیاں ہوئیں۔۔۔ ایک نامعلوم رکن اسمبلی کی قیادت میں ’’اوپر‘‘ والوں کی مرضی کی صوبائی حکومت بنا ڈالی گئی۔۔۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ نے وسط مدتی انتخابات کا مرحلہ آیا۔۔۔ بلوچستان سے من پسند اراکین کے چناؤ اور مسلم لیگ (ن) کو متوقع اکثریت سے محروم رکھنے کی خاطر جناب آصف علی زرداری اور چودھری شجاعت حسین کی مدد سے وہ وہ کمالات دکھائے گئے کہ دنیا ’’متاثر‘‘ ہوئی نوبت بایں جا رسید کہ سینیٹ کا چیئرمین بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کو بنا ڈالا کہ باقی ملک کیا صوبے کے اندر بھی کئی لوگوں نے ان کا نام پہلی مرتبہ سنا تھا۔۔۔ اس کے معاً بعد اشارہ ابرو پر بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے نام سے دوسری جماعتوں کو چھوڑ کر آنے والے حواریوں پر مشتمل اس طریقے سے نئی جماعت بنائی گئی کہ پچاس کی دھائی کے وسط میں اچانک نمودار کی جانے والی سکندر مرزا کی ری پبلیکن پارٹی کی یاد تازہ ہو گئی۔۔۔ اس جماعت نے کل ہونے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔۔۔ اس کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہوں گے کیا نئی حکومت ’باپ‘ جیسی Manufactured جماعت کی بنے گی یا پرانی و روایتی قوم پرست نیز جمعیۃ علماء اسلام جیسی مذہبی جماعتیں آڑے آئیں گی۔۔۔ اس کے بارے میں بھی اصل حقیقت جاننے میں آج یا کل نہیں تو زیادہ سے زیادہ چند روز درکار ہوں گے۔ مگر صد افسوس کہ دہشت گردوں نے روز انتخابات ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ناکام بنایا۔۔۔ کوئٹہ کے اندر ایک پولنگ سٹیشن پر حملہ کیا۔۔۔ 35 معصوم جانوں کو ڈائن کی مانند ہڑپ کر گئے۔۔۔ زخمیوں کی تعداد سوا ہے ۔۔۔ تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
پولیٹیکل انجینئرنگ کے ہتھیار سے باقی ملک کے اندر بھی نت نئے طریقوں اور انوکھے تجربوں کے ساتھ کام لیا گیا ہے ۔۔۔ فیض آباد کے دھرنے کے بعد ختم نبوت کے نعرے پر عوام کے اندر کسی حد تک نفوذ حاصل کرنے والی تحریک لبیک نے پنجاب ، صوبہ خیبر پختونخوا اور کراچی میں بھی چھوٹا چھوٹا ووٹ بینک قائم کیا ہے ۔۔۔ اس کی بدولت قومی اسمبلی میں شاید ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئی ہو۔۔۔ لیکن کئی حلقوں میں 6 سے 8 ہزار یا کم و بیش ووٹوں کی وجہ سے بڑی جماعتوں کے امیدواروں کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتی تھی۔۔۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس کا بطور خاص ہدف ہے ۔۔۔ یہ جماعت یا تنظیم اپنے مقاصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب یا ناکام رہی ہے مجموعی نتائج اس کی کارگزاری کو بھی کافی حد تک طشت از بام کر دیں گے۔۔۔ اسی طرح حافظ سعید صاحب کی سربراہی میں ملی مسلم لیگ نے بھی چند حلقوں کے اندر اپنے تئیں ووٹ چھیننے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ نتائج کی خبریں آنے کے ساتھ اہل وطن ووٹروں پر اس کی گرفت کا اندازہ بھی لگا رہے ہوں گے۔۔۔ روایتی اور خاندانی لوٹوں نے ہمیشہ ہمارے جسد سیاسی پر اثرات ڈالے ہیں۔۔۔ حکومتوں کے بناؤ اور عدم استحکام میں ان کا منفی کہلایا جانے والا کردار رہا ہے ۔۔۔ یہ بھی زیادہ تر اوپر والوں کے اشاروں یا مرضی اور ایما پر حرکت میں آتے ہیں۔۔۔ موجودہ انتخابات سے پہلے انہیں با عزت بنانے کے لیے Electables کا لباس فاخرہ پہنایا گیا۔۔۔ جنوبی پنجاب اور مغربی اضلاع جھنگ وغیرہ سے ایسے افراد معتدبہ تعداد میں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کی بنیروں سے اڑان لے کر عمران کے تحریک انصاف کے صحن میں آ بیٹھے۔۔۔ ان کے ساتھ جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کا وعدہ کیا گیا۔۔۔ یہ صوبہ بنتا ہے یا نہیں لیکن قومی اسمبلی کی چالیس نشستوں والے جنوبی پنجاب کو تین مرتبہ منتخب ہونے والے سابق اور بر طرف شدہ (حال مقیم اڈیالہ جیل) سے چھین لینے کی بھرپور سعی کی گئی۔۔۔ یہ لوگ کتنی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔۔۔ اس کی بابت بھی اب تک بہت کچھ معلوم ہو چکا ہو گا۔۔۔ جیپ کے نشان والے آزاد امیدوار میدان میں اترے نواز حکومت کے وزیر داخلہ اور اوپر والوں کے معتمد خاص چودھری نثار علی ان میں ممتاز تر ہیں۔۔۔ کچھ مبصرین کی رائے ہے اگر بہت ہی زیادہ معلق پارلیمنٹ ظہور پا گئی تو عمران خان اور شہباز شریف دونوں کے اکثریت حاصل کرنے کے دعوے مشکوک ٹھہرے تو چودھری نثار کو وزیراعظم پر ’’منتخب‘‘ کرا لینے کے امکانات موجود ہیں۔۔۔ لیکن اے قارئین جیسا کہ سب کو معلوم تھا۔۔۔انتخابات کے دن بھی روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔۔۔ اصل مقابلہ یا انتخابی معرکہ نواز شریف کی مسلم لیگ اور عمران خان کی تحریک انصاف کے درمیان ہوا ہے ۔۔۔ عمران خان کے لیے میدان کھلا اور صاف رکھا گیا۔۔۔ راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔۔۔ کرپشن کا کوئی الزام نہ تھا۔۔۔ اگر لگا تو عدالتی فیصلے کے ذریعے صفائی کا سرٹیفکیٹ عطا کردہ گیا۔۔۔ اوپر والوں کی مرضی شامل حاصل تھی اسی لیے لوٹوں نے ادھر کا رخ کیا۔۔۔ عمران خان نے بھی خوب محنت کی اپنا ووٹ بینک بنایا۔۔۔ تبدیلی کے نعرے کو گھر گھر پہنچایا۔۔۔ تین مرتبہ منتخب ہونے والے نواز شریف کے بظاہر ناقابل تسخیر قلعے کو مسمار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اپنے کارکنوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کیا۔۔۔ جلسے اور ہر روز تقریریں کیں۔۔۔ سامنے نواز شریف بھی ’’والیان ریاست‘‘ کے پیدا کردہ تمام تر حوادث ، ناقابل عبور رکاوٹوں ، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں مقید کر دیے جانے کے باوجود چٹان کی مانند کھڑا رہا۔۔۔ کرپشن کے ڈھیر سارے الزام لگے۔۔۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے مطابق کوئی ثبوت نہ ملا۔۔۔ اگرچہ لندن میں دادا کی وراثت کی وجہ سے بچوں کے نام پر جائیداد کو آمدنی سے زیادہ وسائل بنانے کا مجرم قرار دیا گیا۔۔۔ دس سال کی قید میں ڈالا گیا۔۔۔ انتخابات سے قبل ضمانت نہ ہونے دی گئی۔۔۔ مبادا پانسہ پلٹ کر رکھ دے سب کچھ کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آنکھیں چار کیں۔۔۔ اسے خلائی مخلوق کا نام دے کر عمران خان کی جگہ اپنا اصل مدمقابل ٹھہرایا۔۔۔ یوں کہیے کہ اس کی انتخابی فوج نے سر کٹے بادشاہ کی قیادت میں 2018ء کی سیاسی جنگ عظیم لڑی۔۔۔ پیچھے نہ ہٹی۔۔۔ اب کون بنے گا وزیراعظم۔۔۔ عمران خان یا نواز کا نامزد شہباز یا تیسرا بندہ بے دام مخلوط حکومت بنی تو کس کی ہو گی۔۔۔ وفاق اور سیاسی لحاظ سے سب سے طاقتور صوبے پنجاب میں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہو گی یا محاذ آرائی جنم لے گی۔۔۔ سیاسی اور جمہوری استحکام رنگ جمائے گا۔۔۔ یا انتشار ہمارے سروں پر چھایا رہے گا۔۔۔ اس وقت تک بہت سے نتائج کا غیر سرکاری غیر حتمی اعلان ہو چکا ہے ۔۔۔ تھوڑے باقی ہوں گے۔۔۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔۔۔ فوج کی غیر معمولی نگرانی اور پولنگ سٹیشنوں کے اندر اختیارات والے انتخابات کے دن کوئی بڑی دھاندلی نہیں ہوئی ہو گی لیکن اس سے قبل پس پردہ منصوبہ بندی کے تحت جو اہتمام و انصرام فرمایا گیا اس پر تادیر تبصرے اور تجزیے ہوتے رہیں گے اور یہ امر آنے والی حکومت پر بھی سایہ فگن رہے گا۔


ای پیپر