موت کا شہر : بھارت ایک غیر ذمہ دار ملک
25 جولائی 2018 2018-07-25

9جولائی کی اس خبر نے مجھے چونکا دیا کہ ’’ بھارتی شہر کلکتہ سے 5شہریوں کو کھل عام یورینیم ( ایٹمی مواد )فروخت کرتے ہوئے پکڑ اگیا ‘‘ ۔ یہ اندوہناک خبر مجھے ماضی قریب میں لے گئی ۔ امریکی جریدہ ’’ فارن پالیسی ‘‘ میں 16 دسمبر 2015کے شمارے میں ایک خفیہ رپورٹ شائع ہوتی ہے کہ بھارت اپنے خفیہ ایٹمی شہر کی تکمیل کے قریب ہے ۔ اس خبر نے دنیا بھر کے امن پسند لوگوں اور حکومتوں کو ششدر کر دیا ۔ کیونکہ وہ تو صہیونیوں کے زیر اثر مغربی میڈیا کے اس پراپیگنڈہ کا شکار تھے کہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ’’ بھارت ‘‘ ایک امن پسند ملک ہے ۔ حالانکہ بھارت شروع دن سے ہی مملکت اسلامیہ پاکستان ، بنگلہ دیش پھر سری لنکا ، نیپال اور بھوٹان میں بدترین دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریکوں کا پشتی بان رہا ہے۔ پاک سرحدوں کی آئے روز پامالی کرنا انتہا پسند بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ بھارت گذشتہ کئی سالوں سے ایک پڑوسی ملک کے ساتھ ملکر مملکت اسلامیہ پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں شورش کا باعث بھی بن رہا ہے بلکہ Cpak کے خلاف کھل کر سامنے آچکا ہے ۔ اس موقع پر بھارت میں کھلی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ایٹمی مواد جیسے واقعات کا منظر عام پر آ جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں جس کو نظر انداز کر دیا ئے ۔ دینی مد ارس اورسیکورٹی اداروں کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر راگ الاپنے والوں کو اس موقع پر جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔ ایسے حساس ایشو پر جس کا تعلق براہ راست ہماری سلامتی سے ہے۔ حکمران طبقے اوربیوروکریسی کی زبان جیسے گنگ ہو چکی ہے ۔ خدانخواستہ اگر یہی واقعہ ہمارے ہاں رونما ہوتا تو پوری دنیا کا صلیبی ، صہیونی اور چانکہ میڈیامملکت اسلامیہ پاکستان کو غیر مہ دار ملک قرار دے کر اقوام متحدہ میں اب تک ہمارے ایٹمی اثاثوں کے خلاف قرار داد بھی پاس کروا چکا ہوتا ۔
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے ، کراچی شہر سے 1200کلومیٹر دوربھارت کے جنوب میں واقع ریاست کرناٹک کے گھنے جنگلات کے ا طراف میں گھرے
ہوئے علاقے چلا کیرہ Challakere میں جوہری شہر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے ۔ جس کی بنیاد 2010میں رکھی گئی تھی۔ جو ایشیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری منصوبہ ہے ۔جس کا رقبہ 9ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے ۔ جہاں پر نسل انسانی کی ہمہ گیر تباہی کا سامان تیار کیا جائے گا ۔ جو اس سے بیشتر مغربی اقوام پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں برپا کر چکی ہیں۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑں انسان موت کی آغوش میں چلے گے تھے ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت ایسے چھوٹے موٹے 20 کے قریب موت کے مراکز تعمیر کر چکا ہے ۔ ساحلی علاقوں پرچھ سے سات مقامات پر جوہری انفراسٹرکچر بھی قائم کر رکھا ہے ۔ جن میں گجرات ، میسور ، بنگال اور کرناٹک شامل ہیں ۔ موت کے اس شہر میں بین الابراعظمی بلیسٹک میزائل، تھرمونیوکلیئربم جو عام ایٹم بم سے بھی دوگنی تباہی مچاتے ہیں تیار کیئے جائیں گئے ۔ انتہا پسند بنیا ہائیڈروجن بموں اور کیمیکل ہتھیار بنانے سمیت اپنی Submarines کوبھی جوہری ہتھیاروں سے مسلح کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے ۔ یہ سب مہلک ہتھیار اسی موت کے شہر میں بنائیں جائیں گے ۔
موت کے اس شہر میں جنگی طیاروں کے اترنے کے لیے رن وے بھی تعمیر کیئے جا چکے ہیں ۔ تھرمونیوکلیئرکی تیاری میں مدد دینے کے لیئے سینٹری فیوجزمشینوں کی تنصیب کاکام انتہائی سرعت سے جاری ہے ۔ اس کے علاوہ بغیر پائلٹ طیاروں کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیئے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کام کر چکی ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کے لیئے ایٹمی مواد کا ایک ایسا خفیہ ذخیرہ موجود ہے ، جو بین الاقوامی ادارے IAEA,International Atomic Energy Agency کے تحفظات کے نظام کے تابع نہیں ہے ۔ بھارت کے لیئے موت کے اس شہر کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ اس باامرسے لگایا جاسکتا ہے کہ گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کا سفاک قاتل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تسلسل کے ساتھ اس کا دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ ا س ہولناک منصوبے کو براہ راست وزیر اعظم ہاؤس سے کنٹرول کیا جارہا ہے ،جس پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں۔
’’ موت کے شہر ‘‘ کے چار اطراف 27کلومیٹر کے علاقے میں پندرہ فٹ اونچی دیواریں تعمیر کر کے اس کو محفوظ بنانے کی ناکام کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کے ایٹمی مراکز کے انتظامات ایران اور شمالی کوریا سے بھی زیادہ کمزور ہیں ۔ مبصرین کے مطابق بھارت جیسے جیسے ایٹمی مواد بڑھاتا جائے گا خطے میں جوہری دہشت گردی اور خوفناک حادثوں کے خدشات بھی بڑھتے جائیں گے ۔ کیونکہ بین الاقوامی ایٹمی ماہرین بھارتی ایٹمی تنصیبات کی سیکورٹی اور حفاظتی انتظامات سے مطمئن نہیں ہیں ، جہاں آئے روز ایٹمی مواد چوری ہونے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ جس سے مستقبل میں عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔
جنگی جنون میں مبتلا بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کی اپنی 40%سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ جہاں 60کروڑ انسانوں کے گھروں میں بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں اور ہر سال اوسطاََ 50ہزار خواتین دوران زچگی فوت ہوجاتی ہیں ۔ جو دنیا بھر میں خواتین سیاحوں کے لیئے غیر محفوظ ملک قرار دیا جا چکا ہے ۔ دنیا بھر میںRape کے سب سے زیادہ اندوہناک واقعات بھارت میں رونما ہوتے ہیں۔ اس خونی شہر کی تعمیر درحقیقت برہمن کی انتہا پسند انہ سوچ کی عکاسی ہے ۔ جو وہ صدیوں سے نچلی ذاتوں اور خاص کر مسلمانوں سے روا رکھے ہوئے ہے ۔
سوچنے کا مقام تو یہ ہے کہ عراق کے خود ساختہ جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر اس کے خلاف استعماری طاقتوں نے UNOکی اجازت کے بغیر لاکھوں بے گناہ عراقی مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا ۔ جب کہ دوسری جانب پوری انسانیت کی تباہی کے لیے تیار کیا گیا ’’ موت کے شہر ‘‘ سے مکمل طور پرچشم پوشی اختیار کیئے ہوئے ہیں اور کسی طور پر بھی بھارت پر کوئی قدغن لگانے کو تیار نہیں۔ جو استعماری طاقتوں کی منافقت اور اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ماہرین اس انسانیت کش منصوبے کو پوری دنیا کے لیے تباہ کن قرار دے چکے ہیں ۔


ای پیپر