’’ اُجڑتے میلے ۔۔۔ لڑائی والے لڈّو ۔۔۔؟؟ ‘‘
25 جولائی 2018 2018-07-25

چند ماہ سے ہمارے ملک میں ۔۔۔

سیاسی میلہ لگا رہا ۔۔۔ ہر محکمہ ہر پارٹی اپنی تئیں اس میں ’’محو‘‘ رہی ’’مشغول‘‘ رہی ۔۔۔ اور پھر یہ سیاسی میلہ آج ’’اجڑنے والا‘‘ ہے ۔۔۔؟

’’آپ نے کبھی میلہ اجڑتے دیکھا؟‘‘ ۔۔۔ میں استاد کمر کمانی کے اس سوال پرحیران ہو گیا ۔۔۔ سیدھی سادھی زندگی، جدید دور تانگے چھکڑے کی جگہ مشکل مشکل ناموں والی بہت بڑی بڑی گاڑیاں، آسمان سے باتیں کرتے پلازے، جن کے نیچے پارکنگ موجود نہیں کیونکہ صرف کار پارکنگ کے لیے دس دس بارہ بارہ منزلہ پلازے بنانے پڑ رہے ہیں، کاروں کی میلوں لمبی قطاریں ۔۔۔ بچے کم کمرے زیادہ، نوکر زیادہ گھر والے کم ۔۔۔ کبھی انسان دس گھنٹے سوتا تھا ۔۔۔ اب انسان دس گھنٹے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھتا ہے اور دس گھنٹے کمپیوٹر پر ۔۔۔ باقی وقت لڑائی جھگڑوں پر صرف ہو جاتا ہے یا ایسی لڑائیوں جھگڑوں کی صلح صفائی کرانے پر ۔۔۔ یہ کمپیوٹر ایج ہے، اس کے اپنے تقاضے ہیں ۔۔۔ اپنے مزے ہیں کہتے ہیں طلاق کی شرح میں اضافہ کا باعث کمپیوٹر ہے یا موبائل فون ۔۔۔؟!

استاد جی ۔۔۔ میلہ لٹ جانے کے بابت اخبارات میں کہانیاں قصے پڑھے ہیں ۔۔۔ اجڑنے کے حوالے سے دہلی شہر سنا ہے کئی بار اجڑا ہے یا ہلاکو خان، چنگیز خان نے بغداد شہر کو اجاڑا تھا ۔۔۔ اس وقت بھی امریکہ روس میلے لگواتے ہیں اور خود ہی اُن کے اجاڑنے کا انتظام بھی کر دیتے ہیں ۔۔۔استاد نے اِدھر اُدھر پھرتیلی نظر دوڑائی اور آہستہ سے بولا ۔۔۔ ’’ارے احمق شخص ۔۔۔ میلہ لگتا ہے ۔۔۔ یہ بڑا خوبصورت منظر ہوتا ہے، بڑی بڑی گاڑیوں میں لوگ بہت سے سازو سامان کے ساتھ آتے ہیں ۔۔۔ ہاتھی، گھوڑا، بکری اور ڈانسریں اِک ساتھ ۔۔۔ میلہ سجایا جاتا ہے ۔۔۔ ڈانسر البتہ عین وقت پر تشریف لاتے ہیں کیونکہ وہ اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتے ۔۔۔ ایک ایک ’’موت کے کنوئیں‘‘ پر دس دس ڈانسر ۔۔۔ پاکستان کے ایک کونے سے میلے لگنے شروع ہوتے ہیں اور دوسرے کونے تک سارا سال چلتے ہیں ۔۔۔ دیہات میں میلہ نہ لگے تو لوگ بیمار ہو جائیں ۔۔۔ میلوں میں ’’ لڑائی والے لڈّو ‘‘ نہ ملیں تو دیہاتی مٹھائی کہاں سے کھائیں ۔۔۔ یہ لڑائی والے لڈّو اس قدر میٹھے ہوتے ہیں کہ کیڑے مکوڑے بھی کھانے سے ڈرتے ہیں اگر چیونٹی غلطی سے اس لڈّو کو منہ مار لے ۔۔۔ اسے کسی قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کروانا پڑ جائے پھر بھی اس کی موت کی خبر یقینی ہو گی ۔۔۔ لڈّو کھانے سے کئی لوگوں کے کمزور دانت ٹوٹ چکے ہیں ۔۔۔! جلیبیاں بھی میلوں میں بطورِ سویٹ ڈش استعمال ہوتی ہیں اور ان میلوں میں ایک آدمی کم از کم ایک کلو جلیبیاں کھاتا ہے اگر اس کے بعد اس نے باقاعدہ لنچ یا ڈنر نہ کرنا ہو تو نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے ۔۔۔ میلوں کی سب سے بڑی ’’تفریح‘‘ ’’موت کے کنوئیں‘‘ ۔۔۔ ’’موت کا گولہ‘‘ اور سرکس پر ہونے والے ڈانس ہیں ۔۔۔ یہ ڈانس کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ خوفناک میوزک کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، ہیجڑے اپنے ارد گرد کے زیر سایہ ناچتے ہیں اگر زمین ذرا سی نرم ہو تو ادھر وہ ڈانس ختم کرتے ہیں اُدھر زمین سے پانی نکل آتا ہے ۔۔۔ میلہ ختم ہونے سے دو تین گھنٹے پہلے آپ پوچھیں کہ چنبیلی اور بلبل ڈانسر کہاں ہیں تو ان کی گرو بتائے گا کہ وہ دونوں بذریعہ خیبر میل بوگی نمبر تین کی سیٹ نمبر گیارہ بارہ پر بیٹھ کر صادق آباد رونہ ہو چکی ہیں اور مسلسل مجھ سے رابطہ میں ہیں جہاں میلہ لگنے سے پہلے پہلے انھیں انٹرویو کے لیے پیش ہونا ہے اور چونکہ امیدواروں کا بہت رش ہے اس لیے وہ ’’رِسک‘‘ نہیں لے سکتے تھے ۔۔۔ حالانکہ انھیں اس میلے کے مینیجر غفور پردیسی سے ابھی اپنا اس میلے کا حساب کتاب بے باک کرنا تھا ۔۔۔ اور غفور پردیسی کی بے ایمانی پاکستان بھر کے میلوں میں مشہور ہے ۔۔۔ اس نے ان غریب فنکاروں کا خون چوس چوس کر باقاعدہ اپنا ایک نیا سرکس بنا

لیا ہے جس سے وہ بے ایمان کبھی کبھی خود ہی شیر کی کھال پہن کر حاضرین کو ڈراتا ہے اگر اُس کا پیٹ ڈیڑھ دو فٹ باہر نہ نکلا ہو تو شاید وہ چنبیلی اور بلبل کی جگہ بھی خود ہی پیش ہو جائے ویسے غفور پردیسی کی پہلے ہفتے بلبل سے منگنی ہونا قرار پائی ہے ۔۔۔ میلے اور ان کے ساتھ لگے بازار بیمار اور بیماروں کا علاج کرنے والے ’’ہر فن مولا‘‘ کرتب دکھانے والے نجومی، انڈے لڑانے والے ، مرغ لڑانے والے ، چکور لڑانے والے سب موجود ہوتے ہیں، کسی نے بچہ کندھے پر اُٹھا رکھا ہے کسی نے بکری کندھے پر اٹھا رکھی ہے تو کوئی پھر پھر کے تھک چکا ہے ۔۔۔ گر جانا چاہتا ہے ۔۔۔ پولیس کے دو سپاہی ایک میلے کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں، ایک ایک جیب کترا دس دس بار پکڑا اور چھوڑا جاتا ہے اور آخری دن وہ دو پولیس والوں سے اجازت لے کر اگلے میلے کی طرف چل پڑتا ہے ۔۔۔ یہ دو پولیس والے ہر موڑ پر اپنی عدالت لگاتے ہیں ۔۔۔ وہیں فیصلہ سناتے ہیں ۔۔۔ کہیں چور کو سزا سنا دیتے ہیں تو کہیں شکایت کرنے والے کو دھر لیتے ہیں ان میلوں میں ہی آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اس سال دیہات میں پچاس نئے گلو کاروں نے اپنے فن کے زور پر میدان گلو کاری میں قدم رکھا ان کے گائے ہوئے گیت میلوں میں زبان زدِ خاص و عام ہو جاتے ہیں، جہاں کتوں کی لڑائی ہوتی ہے گالی گلوچ آزادانہ چلتی ہے وہیں ان نئے گلو کاروں کے گیت بھی چلتے ہیں اور ایک آدمی مقامی زبان میں کمنٹری بھی کر رہا ہوتا ہے۔ شکر ہے وہاں سنسر بورڈ کا نمائندہ نہیں ہوتا ورنہ وہ اس کمنٹری پر پوری قوت کے ساتھ فوری پابندی لگا دے اور کمنٹری کرنے والے کو پچاس سال قید سنا دی جائے۔ ایک ہزار کوڑوں کی سزا اس کے علاوہ ۔۔۔ کتوں کو اگر کمنٹری کرنے والے کی باتیں سمجھ آ جائیں تو وہ بطورِ احتجاج لڑنا چھوڑ دیں ڈوب مرنے کو ترجیح دیں کسی جوہڑ کے گندے پانی میں ۔۔۔ یہ کمنٹری کرنے والا اصل میں ایک کتے کا مالک ہوتا ہے دوسرے ہاف میں دوسرے کتے کا مالک کمنٹری کے فرائض سر انجام دیتا ہے اور کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ دونوں سگے بھائی ہیں اور انگریزی کشتیاں لڑنے والوں سے یہ تربیت بھی لے چکے ہوتے ہیں ۔۔۔ جو لڑائی کے بعد کسی فائیو سٹار میں ایک ہی ٹیبل پر سوپ پیتے ہیں اور ہنس ہنس کر لطیفے سناتے ہوئے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہیں کہ پبلک انجواے بھی کروایا ۔۔۔ لاکھوں ڈالر بھی کمائے جو کل خوشی خوشی جوئے میں ہار کر نئی کشتی کی تیاری شروع ۔۔۔ ایک آدھ نیا بدمعاش بھی ان میلوں میں متعارف ہوتا ہے ۔۔۔میلہ لگتا ہے ۔۔۔ جیسے نیا شہر بس گیا ہو اور جب شہر بسے ہوں اور دشمن داری نہ ہو یہ نا ممکن ہے ۔۔۔ خانیوال کے پیروال جنگل کے پاس ایک میلے میں بنفس نفیس موجود تھا ۔۔۔ رات تھی اور اعلان ہوا کہ اب مشہور لوک فنکار گائے گا، محفل کو مزید گرمائے گا ۔۔۔ کہ دشمن نے میلے میں تین سانپ چھوڑ دےئے ۔۔۔ بھگڈر مچ گئی ۔۔۔ شاید لوگ یقین نہ کرتے مگر اک سانپ پر کمپےئر کی نظر بھی پڑ گئی ۔۔۔ خوفناک کانپتی آواز کے ساتھ کمپےئر نے اعلان کیا (بلبل اور چنبیلی کی طرح اچھلتے ہوئے، اداؤں کے ساتھ، دلربائی سمیٹے ہوئے) ۔۔۔

’’دوستو ۔۔۔ سانپ خان ۔۔۔ گائے گا‘‘ ۔۔۔

’’سانپ خان ۔۔۔ مر گیا ۔۔۔ ہائے‘‘ ۔۔۔

سب سے پہلے جن کی وجہ سے میلہ تتر بتر ہوا اس کی وجہ وہ الیکٹریشن تھے جنھوں نے ٹرالیوں پر ’’پاؤر ہاؤس‘‘ لگا کر اپنی بنائی ہوئی بجلی کو شاید خود ہی ہلا جلا دیا ۔۔۔ کھیتوں کھلیانوں میں بھاگتے فنکار، اوندھے منہ گرتے شوقین ۔۔۔ بھگڈر اس قدر بے ہنگم (مجھے یاد آیا بھگڈر تو ہوتی ہی بے ہنگم ہے) کہ شاید تینوں سانپ شائقین کے پاؤں تلے آ کر کچلے جا چکے ہوں ۔۔۔ جب دو گھنٹے بعد انتظامیہ کی مدد سے بجلی بحال ہوئی تو عجب منظر تھا ۔۔۔ پکوڑیوں کے تھال میں مری ہوئی مرغی پڑی تھی ۔۔۔ کتے ڈر کے مارے ایک دوکاندار کا بڑا سا نوٹوں والا ’’غلہ‘‘ منہ میں تھامے سہمے کھڑے تھے ۔۔۔ لڑنے کی سکت نہ بھونکنے کی ہمت ۔۔۔ انتظامیہ جو دل چاہے کھاتی پھر رہی تھی ۔۔۔ ایک صاحب نے جلیبی اٹھا کر منہ میں ڈالی ۔۔۔ اگلے لمحے جلیبی سڑک پر اور سر پکڑ کے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔ سب تلپٹ تھا، ہو کا عالم ۔۔۔ ایسا خوفناک قسم کے شور شرابے کے بعد ضرور ہوتا ہے۔۔۔اکثر اوقات میلہ اجڑنے کی وجہ اچانک آ جانے والی اندھیری اور خوفناک بارش بھی ہوتی ہے ۔۔۔ جو کیچڑ مچتا ہے ’’اللہ کی پناہ‘‘۔۔۔ غریب امیر ۔۔۔ آقا غلام سب بارش میں بھیگتے ۔۔۔ بے یارو مددگار پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھرتے ہیں ۔۔۔ سب سے بری حالت ان ڈانس کرنے والے بیچاروں کی ہوتی ہے ۔۔۔ جی ۔۔۔ آپ نے کیا فرمایا ’’تھکاوٹ‘‘ ۔۔۔ وہ ان میلوں پر ناچنے ’’والیوں‘‘ کو نہیں ہوتی ۔۔۔ وہ لگا تار بہتر گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ناچ سکتے ہیں ۔۔۔ بس جب کیسٹ ختم ہو تو وقفہ آتا ہے ۔۔۔ ورنہ چل سو چل ۔۔۔ یہ ڈانسر صاحبہ میلوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔ ناچ ناچ کر بوڑھے ہوتے ہیں اور وہیں کسی خیمے میں فوت ہو جاتے ہیں یا کسی ناکام عشق کی بدولت خود کشی یا عاشق کے ہاتھوں یا پھر لاہور کی ہیرا منڈی میں ’’باعزت‘‘ واپسی ۔۔۔

ہم نے اپنی ہوش میں کئی بار سیاسی میلے بھی اجڑتے دیکھے ہیں ۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور میں غلام مصطفی کھر نے لاہور کے تاج پورہ گراؤنڈ شادباغ میں ایک جلسہ کیا ۔۔۔ دعویٰ کیا کہ یہاں میں بہت سے راز افشا کروں گا ۔۔۔ اس جلسہ میں سانپ چھوڑ دےئے گئے ۔۔۔ لائیٹ بند کر دی گئی اور میلہ اجڑتے ہوئے پندرہ بیس سیاسی ورکروں کی لاشیں بکھیر گیا ۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ عجیب جلسہ تھا ۔۔۔ عجیب طرح کا میلہ تھا ۔۔۔؟!

آجکل سب سے اہم جو SMS شہر میں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو شوق سے بھیج رہے ہیں وہ ملاحظہ کریں ۔۔۔’’ایک ساٹھ سالہ مرد کو ایک زخمی چڑیل مل گئی ۔۔۔ اُس نے چڑیل کا علاج کیا اور جب وہ بھاگ جانے کے قابل ہوئی تو اُس نے کہا ۔۔۔ اس خدمت کے بدلے میں دو نہایت مشکل کام مجھ سے کروا لو ۔۔۔

مرد ۔۔۔ میں اپنی ساٹھ سالہ بیوی کے ساتھ دنیا کی سیر کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ چڑیل نے چٹکی بجائی اور دو ٹکٹ منوا دئیے ۔۔۔

پھر مرد نے کہا ۔۔۔ میں چاہتا ہوں، میری بیوی مجھ سے تیس سال چھوٹی ہو ۔۔۔ چڑیل نے چٹکی بجائی اور مرد کو نوے (90) سال کا کر دیا‘‘ ۔۔۔

سانپ چھوڑنے والا ایک آدمی ہوتا ہے اور میلہ اجڑنے اور اس سے تباہ و برباد ہونے والے سینکڑوں ہزاروں ۔۔۔ مگر باز نہیں آتے نئے میلے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔ نہ ماں بہن کی فکر، نہ بچوں بیوی کا غم، میلوں سے ہی دل لگاتے ہیں ظالم ۔۔۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی بار میلے اجڑے ۔۔۔ ضیاء الحق نے میلہ اجاڑا ۔۔۔ فاروق لغاری نے میلہ اجاڑا ۔۔۔ پھر جنرل مشرف نے میلہ اجاڑا ۔۔۔ اس وقت بھی گرما گرم خبروں اور مباحثوں نے عوام کو الجھا رکھا ہے ۔۔۔

تاریخ میں بہت کم ہوا ہے کہ میلہ اجڑنے کے بعد دوبارہ ٹھیک سے پھر میلہ پوری آب و تاب کے ساتھ عوام کی توجہ کا مرکز بنے ۔۔۔ نام اسی کا ہوتا ہے جو رونق بڑھائے اور عوام کو خوشیاں دے ۔۔۔ ویسے بھی ہمارا پاکستان اس وقت ’’ میلے اجڑنے‘‘ کا متحمل نہیں الیکشن میں نتائج کسی کی امنگوں کے عین مطابق ہوں گے اور کوئی پٹ جانے کی وجہ سے پریشان حال بیٹھا ہو گا لیکن حالات کا تقاضہ ہے کہ جمہوریت سیدھے سادھے انداز میں چلتی رہے دشمنیاں کم ہوتی رہیں تا کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک عظیم ملک اور پاکستان قوم ایک عظیم قوم کے طور پر جانی جاتی رہے کیونکہ دور بیٹھا ’’سازشی‘‘ نت نئے ڈرامے کرتا ہے ۔۔۔ اور بھارت جیسا مکار دشمن سر پہ ہے اس لئے ایک متحد پاکستان ہی ہماری ضرورت ہے ۔۔۔ ہماری خواہش بھی ہے ۔۔۔


ای پیپر