ایک نئے سہانے دور کا آغاز!
25 جولائی 2018 2018-07-25

جب یہ کالم اشاعت پذیر ہوگا پاکستان کی سیاست وسمت ایک نئے رخ پر مڑچکی ہوگی۔ عام انتخابات کا مرحلہ بخوبی طے پا چکا ہوگا۔ ایک نئی سیاسی جماعت ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے بے تاب ہوگی۔

سوال مگر یہ ہے کہ کیا وہ سکون واطمینان سے حکومتی فرائض سرانجام دے پائے گی مجھے نہیں لگتا کہ وہ جمہوری ملکوں کی طرح اپنے کام میں مصروف عمل ہو جائے گی کیونکہ اس بار دھاندلی کا الزام بڑی شدت سے لگایا جاتا رہا ہے ممکن ہے سنجیدہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف اپنے آئینی وقانونی کردار تک محدود ہو جائے یہ سوچتے ہوئے کہ وطن عزیز کو چاروں طرف سے گھورئی آنکھوں کا سامنا ہے جو اس کی سالمیت کے درپے ہیں وہ اپنے ہمنواؤں کے ذریعے اندرونی طورسے بھی اس کوشش میں ہے کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جائے اور وہ اس کے اثاثوں کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ لہٰذا احتجاج جو ہر شہری کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے کے ضمن میں تو وہ متحرک ہو مگر مظاہروں اور جلوسوں کی شکل میں منظر عام پر آنے سے گریز کرے۔ ایسا ہوجاتا ہے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ نئی بننے والی حکومت عوامی مسائل کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے اور یہ جو نظام ستر برس سے ہانپ رہا ہے معمول پر آجائے گا۔ پھر واقعتاً معیشت ، معاشرت اور سیاست صحت مند بنیادوں پر استوار ہو جائیں گے۔ مگر یہ بھی لگ رہا ہے کہ ہماری تین بڑی سیاسی جماعتیں جو حزب اختلاف بھی ہوں گی اور حزب اقتدار بھی قومی کردار ادا کرنے میں زیادہ پرجوش نہیں ہوں گی کہ وہ ذاتی خواہشوں اور اپنی انا پرستی کے بھنور میں چکر کاٹ رہی ہیں لہٰذا ایسا محبت، اخوت اور یکجہتی کا نظارہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بات صاف اور سیدھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جو ہمیشہ اقتدار کی حق دار ہے جبکہ پی ٹی آئی یہ سوچتی ہے کہ وہ ایک قومی کرب کو سمجھنے والی ملک گیر سیاسی جماعت ہے وہ درپیش گمبھیرمسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اس میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ وہ ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلا دے۔ جس کے لیے وہ ایک ٹیکس کا نظام وضع کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی طرح بڑی جماعت پی پی پی بھی کہتی ہے کہ وہ بھوک کو مٹاسکتی ہے لہٰذا اس کا انتخابی نعرہ ہی یہ ہی تھا اس کا عوام کے ذہنوں پر زیادہ اثر نہیں ہوا لہٰذا نتائج مطلوبہ حاصل نہیں کرسکے گی ۔۔۔؟

خیر عوام کا کہنا ہے ۔۔۔کہ اگر یہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ملک ۔۔۔ سے مخلص ہیں اور اپنے منشور پر عمل درآمد کویقینی بنانا چاہتی ہیں تو انہیں مل کر حکومت بنانا پڑے گی اور عمران خان کا یہ کہنا کہ وہ خود حکومت بنائیں گے درست نہیں یہ وقت تنہا رہنے کا نہیں مل جل کر آگے بڑھنے کا ہے۔ ایک ہوکر معاملات چلانے کا ہے تاکہ بدخواہوں کو واضح پیغام جاسکے کہ بائیس کروڑ عوام متحد ہیں ایک آواز ہیں۔ مگر یہ عوام کی خواہش ہے۔ شاید ان جیتنے والوں کی نہیں کیونکہ انہیں اقتدار سے غرض ہے اپنے جاہ وجلال سے دلچسپی ہے لہٰذا وہ چاہیں گے کہ جو بھی تھوڑی بہت عوام کی خدمت کرنی ہے خود ہی اکیلے رہ کر کریں۔ اگرچہ وہ اس کا جذبہ بھی رکھتے ہوں ولولہ بھی ان میں موجزن ہو اور تڑپ بھی ہو مگر معروضی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے وہ بڑے پر آشوب ہیں تلخ ہیں اور بگڑ رہے ہیں لہٰذا ان کا سامنا۔ کرنے کے لیے توانا ہونا ضروری ہے جو ایک مشت ہوکر ہواجاسکتا ہے۔ جو اس نکتے کو پیش نظر رکھے گا وہی کامیاب حکمران کہلائے گا۔ اور حزب اختلاف تصور ہوگا۔ وگرنہ سب کے سب ایک کمزور پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں گے جوکسی وقت بھی لرز۔ سکتا ہے۔ لہٰذا دھاندلی دھاندلی کھیلنے کے بجائے صورت حال کو ملحوظ خاطر رکھا جائے جو تقاضا کرتی ہے کہ ملک میں امن ہو اور اتحاد واتفاق ہو بصورت دیگر ایک بار پھر بے چینی اور مشکلات بڑھ جائیں گے۔ بیرونی قرضوں دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا جو ہماری مستقبل کی راہوں کو دھند لا سکتا ہے مگر شاید ہمارے اہل اقتدار واختیار کو اس کی فکر نہیں وہ کھربوں کے مالک ہیں عالیشان محلوں میں رہتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں بھی ان کا قیام ہے وہیں ان کے کاروبار ہیں لہٰذا وہ مدہوش ہیں جو بھی ہوا نہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ جو حالات کو وہ مضطرب رکھتے ہیں اور لوگوں کو سڑکوں پر لاتے ہیں محض اس لیے کہ وہ یہ ظاہر کرسکیں کہ انہیں یہاں کے لوگوں سے محبت ہے ان کی فکر ہے اور ان کے دکھوں کا خیال ہے تاکہ وہ بوقت ضرورت ان کی آواز پر لبیک کہیں اور ان کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کریں اس کے کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ۔اگر عوام کی خدمت ان کا مطمع نظر ہوتا یا ہو تو آج جن حالات سے ہم دوچار ہیں کہ روپے کی بے قدری ہر گزرتے دن کے ساتھ ہورہی ہے۔ مہنگائی بے روزگاری اور جرائم بڑھ رہے ہیں جن پر قابو پانا مشکل کیا ناممکن ہوتاجارہا ہے۔ وہ نہ ہوتے۔ پھر کھربوں کے سکینڈل بھی نہ جنم لیتے کورٹ کچہری بھی درمیان میں نہ آتے اور یہ جو ذرائع ابلائغ میں ایک دوسرے پر الزام عائد کیے جارہے ہیں اور دھول اُڑائی جارہی ہے دکھائی نہ دیتے۔ مگر اس سے کسی کو غرض کیا ہوسکتی تھی لہٰذا لوٹنے والوں نے بھی بھر کے لوٹا۔ انہیں کوئی روکنے والا کوئی نہ تھا جب ان سے پوچھے جانے کا عمل شروع ہوا تو وہ لگے کہنے کہ یہ ظلم ہے زیادتی ہے غیرقانونی ہے اور غیر آئینی ہے۔ ؟

ہم عوام کے ساتھ جواب تک ستم ڈھائے گئے ہیں وہ ان سب کی نظر میں کبھی آئے ہی نہیں۔ کمزوروں کی بہوؤں ، بیٹیوں ، ماؤں اور بہنوں کی عزتیں تارتار ہوں انہیں موت کے گھاٹ اتادیا جائے۔ غریبوں کی جائیدادوں پر قبضے کیے جائیں۔ حرام خور اپنے دووقت کی روٹی کو بھی ترستے عوام سے رشوتیں وصول کریں۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ تھانے عقوبت خانے اورخوف گاہیں بن جائیں مگر کوئی بھی حاکم کبھی اپنے لب نہ کھولے وہ کھولے بھی کیوں کہ اس نے ہی تو انہیں کہہ رکھا ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ڈرا کر رکھیں انہیں پریشان کریں تاکہ وہ سراٹھانے نہ پائیں ان کے حملوں اور خواب گاہوں۔ پر ان کی نگاہ نہ پڑے مگر اب امید کی جاسکتی ہے کہ جب ریاست کا وجود مضمحل ہے اسے چھوٹے چھوٹے نفرتوں کے واقعات نے اداس کردیا ہے تو وہ ضرور انگڑائی لے گی اپنی سمت کا تعین کرے گی اسے جن خرابیوں نے جھنجھوڑا ہے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے گی لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا کہ کامیاب ہونے والی جماعت اس کے قومی منصوبے کو پس پشت ڈال سکے اور اپنے من مرضی کرکے دوبارہ ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھ میں گروی رکھنے کی راہ پر ڈال دے ۔ ماضی میں جو ہوا بہت دلخراش تھا عوام وملک کے لیے قطعی طورپر سے ناخوشگوار تھا یہی وجہ ہے کہ اب وہ کچھ کہا جارہا ہے بالخصوص قومی اداروں سے متعلق کہ جو کبھی سنا نہ تھا۔ اسے شعوری ارتقاء بھی کیا جاسکتا ہے مگر یہ ہماری حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے جس نے لوگوں کو مشتعل ہونے پر مجبور کردیا ؟ بہرحال انتخابات ہوچکنے کے بعد جو جماعت کامیابی ہوئی ہے اسے عوامی خواہشات اور ان کے مسائل کا ہرصورت خیال رکھنا ہوگا اور جیسا کہ میں اپنے پچھلے کالم میں عرض کرچکا ہوں اس کے لیے حکومت کی ذمہ داریاں نبھانا کچھ آسان کام نہ ہوگا لہٰذا اسے ہر قدم پھونک پھونک اور احتیاط کے ساتھ رکھنا ہوگا خاربہت ہیں پھول کم ہیں۔ حزب اختلاف اس بار بڑی تگڑی ہوگی اگر اس میں سے ایک حکومت کا حصہ نہیں بنتی۔ مگر یہ بھی طے ہے کہ اب سیاست نہیں خدمت کے دور کا آغاز ہوگا کیونکہ اب نہیں تو کبھی نہیں لہٰذا عوام کو ٹھنڈے دل سے نتائج کو قبول کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کی جانب بڑھنا ہوگا کوئی شور اور کوئی ہنگامہ کسی کو بھی کچھ نہ دے سکیں گے کہ پھر منظر بدل جائے گا ؟


ای پیپر