عمران خان وزارتِ عظمیٰ مبارک ہو

25 جولائی 2018

حلیم عادل شیخ



آج اس ملک کی سڑکوں پر ،ہسپتالوں ،میں اسکولوں میں پارکوں میں ،عدالتوں میں ہر جگہ عمران خان ہی عمران خان کے نعرے ہیں کون ہے جو عمران خان کو ایک دلیر لیڈر کے طور پر نہیں جانتامگرجسقدر بھی عمران خان کومیں جانتاہوں اس کے لیے میں اتنا ہی کہنا چاہونگا کہ کرپٹ لوگ عمران خان سے خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ اس کی طرز سیاست سے خوفزدہ ہیں،میں جانتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑنے والے اس عظیم رہنما کو ایک دن بھی مایوس ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،مگر ایک فکر اس کے چہرے پرہمیشہ صاف دکھائی دی ہے اور وہ ہے اس ملک کے غریبوں کی فکر ، عمران خان کے پاس لگتا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ہی نہیں ہے اور وہ یہ کہ اس قوم کے پاس پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہے ، اس قوم کا مہنگائی نے جینا محال کردیا ہے،اس قوم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں ،اس قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے،اس قوم کے لیے صحت کا حصول
مشکل ہے اس قوم کی مقدر میں اچھی تعلیم کیوں نہیں ہے؟ ،اور پھر اس قسم کی گفتگو کے ساتھ ایک غصہ بھی دیکھا !! اور وہ یہ کہ میں اس قوم کواس حال میں پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑونگا اس نے ہمیشہ للکاللکار کر کہا جس نے میرے اس ملک کی عوام کا یہ حال کیا ہے میں ان سب کو جیلوں میں ڈالونگا !!! اور پھر عمران خان ایک مظبوط اعصاب کا مالک لیڈر اس نے اپنا ایک بڑا اور اہم وعدہ پوراکردیا کیونکہ اس نے اپنی انتھک کوششوں سے ملکی لٹیروں میں بھگڈر مچادی تھی ہم نے دیکھا کہ کہیں پورا خاندان ملک سے فرار ہونے کی کوششیں کرتا دکھائی دیا تو کہیں کوئی بھائی اور بہن گرفتاری کے خوف سے خوفزدہ دکھائی دیئے ،ہر کوئی جان چکا تھا کہ اس وقت سٹیٹس کو کی قوتیں عمران خان سے اس ہی لیے خوفزدہ ہ ہیں کہ وہ عوام کو جگا رہاہے عوام کے سامنے ایسے حکمرانوں کے چہرے بے نقاب کررہاہے جوپورے خزانے پر ہاتھ صاف کرکے بھی عوام کو صاف پانی تک نہ دے سکے معصوم بچوں کو دودھ کی بجائے زہر پلانے والوں کے خلاف لڑنا اگر جرم ہے تو پھر یہ جرم ہی سہی یہ سوچ کر پوری قوم بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوگئی، پھر ہم نے دیکھا کہ22سالہ طویل جدوجہد کے بعد عمران خان چوروں اور ڈاکوؤں کے لیے دہشت کی علامت بن گیا اور اس کے ساتھ عوام کے دلوں کاوزیراعظم بھی، عوام نے عمران خان کو وقت سے پہلے ہی آزما لیاتھا کیونکہ عمران خان نے قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو سزائیں دلانے کا وعدہ جو پورا کیا تھا ، اب تو عوام کی خوشی کا کوئی حال ہی نہیں ہے اور ٓاجکل تو بچہ بچہ ہی عمران خان کے نام کے ساتھ وزیراعظم کا لفظ لگادیتاہے ،ایسا صرف اس لیے ہورہاہے کہ عمران نے قومی مفادات کے خلاف ہونے والے غلط فیصلوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، عمران خان اس ملک میں ایمانداری اور سچائی کے فروغ کے لیے کام کررہاہے اور یہ ہی بات ان کے مخالفین سے برادشت نہیں ہورہی ہے۔کیونکہ مخالفین اپنی لوٹ ما رکو چھپانے کے لیے اس قوم کو جھوٹ کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے تھے ، مگر قوم نے خود ہی دیکھ لیا کہ جھوٹ کی سیاہی کے وہ سیاہ دھندلکے دھل چکے ہیں اب انہیں ہر طرف اجالاہی اجالا نظر آنے لگا ہے طاقتور مافیا کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا ہے،مگر ساری صورتحال کے ساتھ ساتھ قوم نے یہ بھی تہیہ کرلیا تھا کہ یہ ہی شخص ہماری بے رونق زندگیوں کو خوشیوں میں تبدیل کرسکتاہے اورہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل فراہم کرسکتاہے اور پھرالیکشن کا دن قریب آگیا یعنی 25جولائی کا دن ایسے دن اس قوم کے مقدر میں درجنوں بار آچکے ہیں یہ دن قوموں کی تقدیر بدلنے کا دن کہلاتاہے ،اور ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی کروڑوں عوام کو پھر سے ایک موقع ملا کہ آؤ پھر سے اپنے لیڈروں کو چن لوتاکہ تم اپنے بہتر مستقبل کی ضمانت لینے کے لیے کسی ایک کے ہوجاؤ،مگر یہ الیکشن بھی کیا خوب الیکشن تھے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارالیکشن سے پہلے ہی نتیجہ آچکا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح بھی ہوتا چلا گیا کہ عوام کا فیصلہ بھی اٹل ہے، اس سے قبل ہم نے دیکھا کہ ملک میں جاری انتخابی مہم خون سے رنگین رہی ہے بہت ہی عجیب وغریب صورتحال سے دوچار انتخابی مہم میں گزشتہ ادوار کی طرح گھما گھمی بھی کچھ کم رہی، انتخابی امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے بے پناہ پابندیوں کے باوجود زور آزمائی میں کسی قسم کی کوئی کسر تو نہ رہی مگر سڑکوں پر جو الیکشن کے زمانوں میں پوسٹروں اور بینروں کی بہاریں تھی اس کی شدت نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود ایسا لگتا تھا کہ عوام نے صرف ایک ہی شخص کی کامیابی کے لیے زائچہ نکال رکھا ہے اور وہ ہے عمران خان جہاں بھی گیا بس یہ ہی الفاظ سب سے زیادہ سننے کو ملا ہے"وزیراعظم عمران خان "جیسے لوگوں نے اس بار ٹھان لی تھی کہ اس بار ہر لازمی طور پر عمران خان کو ہی اس ملک کی باگ ڈور دینگے ، تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیراور انتخابی امیدوار اکرا م اللہ گنڈہ پور سمیت اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کی شہادت اور اس کے ساتھ 20سے زائد اور بھی لوگوں کی شہادت نے قوم کو یقینی طورپر شک وشبہے میں ڈال دیاتھا،مستونگ میں عوامی پارٹی کی کارنر میٹنگ میں دہشت گردوں کا حملہ جس میں صوبائی امیداور نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت130کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اس عمل سے دہشت گرد تو اپنے منصوبے میں کامیاب رہا مگر اس کے اصل مقاصد کے الیکشن کوکسی نہ کسی طرح سے رکوادیا جائے وہ کامیاب نہ ہوسکے ،ان تمام باتوں کے باوجودپاکستان کی تاریخ کے انوکھے ترین انتخابات جس میں ووٹنگ سے قبل ہی اس ملک میں وزیراعظم کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان لیا جارہا تھا، عمران خان کا ماننا ہے کہ جہاں کرپشن ہوگی وہاں کا نظام مفلوج ہوگا، عمران خان کے پاس عزت کی پہلے بھی کوئی کمی نہ تھی اور آج بھی کوئی کمی نہیں ہے ، عمران خان نے کینسر جیسے ہسپتال کو بناکر کروڑوں عوام سے جو دعائیں وصول کی تھی اس کی قبولیت کا دن بھی آچکاہے کیونکہ یہ قوم ایک عظیم لیڈر کو
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم بنتے ہوئے دیکھے گی۔یہ صرف ریاست کی ہی نہیں بلکہ اس قوم کی بھی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے اس ملک کے ستر سالوں میں زیادہ سے زیادہ ایسے ہی حکمران ملے ہیں جو اوپر سے لیکر نیچے تک لوٹ کھسوٹ کے ہی شوقین تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی ایک شعبہ اس ملک میں ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن اور چوربازاری کا راج نہ ہو کوئی معمولی سا کلرک ہو یا پھر بڑے سے بڑاافسر رشوت لیے بغیر کوئی کام کرنے کوتیارنہیں ہوتا مگر عمران خان نے جس انداز میں اس ملک کے سب سے زیادہ طاقتور آدمی کو اس کی کرپشن کی بنا پر سزادلوائی ہے اس نے تو جیسے پوری قوم کو ہی سکتے میں ڈال دیاہے کہ ایک ایسا آدمی جس کے پاس کوئی ریاستی طاقت بھی نہیں ہے اور سوائے اللہ اور عوام کی طاقت کے اس کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی بھی نہیں ہے کہ جس سے وہ اس قدر بڑا کام کرسکتاہے جسے کرنے سے وقت کے بڑے بڑے جرنیل بھی کانپتے رہے ہیں مگر کسی نے سچ کہاہے جن کے جزبے صادق اور جوان ہوان کی منزلیں خود چل کر ان کے پاس آجاتی ہیں جیسے کہ وقت سے پہلے وزارت عظمیٰ کا تاج عمران خان کے پاس خود چل کر آچکاہے ۔

مزیدخبریں