25 جولائی 2018 2018-07-25

قلعہ گجر سنگھ میرا پرانا محلہ ہے ۔ایک زمانے میں فلمی گیت لکھنے کی دھن میں ملتان سے لاہور آیاتو اسی علاقے میں پڑاﺅ ڈالا تھا۔یہیں میں نے ایک چوبارے کی تیسری منزل پرایک کمرہ کرائے پر لے رکھا تھا۔اس چوبارے کی بیوہ مالکہ گراﺅنڈ فلور پر رہتی تھی ۔اوپر والے فلور پر ایک فیملی رہائش پذیر تھی ۔میں نے انہی کے پورشن کی چھت پر رہائش رکھی ہوئی تھی۔گویا میں کرائے دار فیملی کا کرائے دار تھا ۔کرایہ دار فیملی میں،ماں باپ کے علاوہ ان کے تین بیٹے ،ایک بہواور ایک دس بارہ برس کا بچہ بھی رہتا تھا جو فیملی کے بیٹے بادشاہ کا شاگرد تھا۔بادشاہ میکلوڈ روڈ پر ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اسی دکان پر یہ بچہ جسے بادشاہ چیئر مین کے نام سے پکارتا تھا، ویلڈنگ کا کام سیکھ رہا تھا۔بادشاہ سے بڑا ایک بیٹا اور اسکی بیوی، والدین کے ساتھ گوالمنڈی کے ایک سکول میں دکان چلاتے تھے۔گھر سے نان چنے پکا کر صبح صبح یہ سارے لوگ سکول نکل جاتے ۔بادشاہ چیئر مین کے ساتھ ویلڈنگ کی دکان پر چلا جاتا ۔بادشاہ سے چھوٹا ”جج“ تھا جس کا اصل نام اعجاز تھا لیکن گھر والے اسے جج کہتے تھے۔میں تقریبا دو برس تک اس کمر ے میں مقیم رہا ۔رہائش کیا تھی بس یہ کمرہ میری خواب گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔میں صبح نکل جاتا اور رات دس بجے کے بعد اس کمرے میں آکر سو رہتا۔صبح کا وقت روزنامہ آفتاب میں گزرتا جس کا دفتر چوک لکشمی سروس کی دکان کی چھت پر ہوتا تھا۔لاہور میں ہم نے اسی اخبار سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔اس سفر میں اطہر ناسک بھی ساتھ رہاجو قریب ہی گوال منڈی میں رہتا تھا۔رائل پارک،نسبت روڈ ،لکشمی اورعبدالکریم روڈ کے آس پاس کے سینمااور چائے خانے اب بھی میرے دل میں جاگتے ہیں۔اگلے روز رائل پارک کا چکر لگا تو بشیر کاکو کے ہوٹل پرکئی پرانے چہروں سے ملاقات ہوگئی۔بشیر کاکو نے فوراََ دودھ پتی کا کپ میرے سامنے رکھ دیا۔سب سے دعا سلام کے بعد محفل پھر اسی طرح ” بھخ “گئی۔غالباََ الیکشن کے بارے میں بحث ہورہی تھی۔عزیز بٹ کا خیال تھا کہ لاہور مسلم لیگ کا قلعہ ہے۔اس قلعے میں حالات کچھ بھی ہوں ،کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا ´۔مگر حاجی رشید یہ بات ماننے سے انکاری تھے۔حاجی رشید بولے : ”کل پی ٹی آئی“ سب کو حیران کر دے گی ۔بشیر کاکو نے قہقہہ لگاتے چائے کپوں میں ڈالی اور بولا : اس کا مطلب کل پاکستان میں نئے پاکستان کا سورج طلوع ہو گا۔لیکن بات یہ ہے کہ عمران خان کو الیکشن لڑنے کا تجربہ نہیں ہے۔اصل مسئلہ لوگوں کو گھروں سے نکال کر ووٹ کاسٹ کرانا ہے ۔پچھلی بار تو تحریک انصاف نے اس طرف توجہ نہیں دی۔اس بار کا صبح پتہ چل جائے گا۔حاجی صاحب بولے : کاکو دیکھنا یہ الیکشن میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خاندانوں میں مکمل بٹوارہ کر دے گا۔میاں صاحب نے پاکستان میں آکر دیکھ لیا ہے کہ مشکل میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔کوئی پتہ نہیں،پتہ چلے، میاں صاحب معافی مانگ کر باہر چلے جائیں اور ہمیشہ کے لےے تاریخ کا حصہ ہوجائیں ۔شہباز شریف مسلم لیگ کو آگے چلائیں گے اگر ان کا احتساب بھی ہوا تو حمزہ پارٹی چلائے گا۔عزیز بٹ صاحب نے زور سے قہقہہ لگایا : کہا: حاجی صاحب آپ کب سے نجومی ہو گئے ہیں؟یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ میاں برادران میں پھوٹ پڑ جائے گی ۔کل رات کو شیر ہر طرف دھاڑے گا۔حاجی صاحب نے گرہ لگائی : دھاڑتے شیر کو ایک بلا دُم پر لگا تویہ دم دبا کر بھاگ جائے گا۔یہ باتیں جاری تھیں کہ پرویز ملکی آگیا۔وہ سلام دعا لے ہی رہا تھا کہ حاجی صاحب نے سوال داغ دیا: ” اوئے ملکی ووٹ کسے دے رہے ہو؟ آپ جس کو کہتے ہیں اسی کو ڈال دیں گے؟ ہم نے کونسا ووٹ بیچنا ہوتا ہے ۔ ملکی شروع ہو گیا ؛ ویسے بہت بری خبریں ہیں۔ سوجھ بوجھ کے اس دور میں بھی بعض جاہل لوگ اپنے ووٹوں کی قیمتیں لگا رہے ہیں۔میرے ایک دوست نے بتایا: فی ووٹ پانچ ہزار روپے فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔کاکونے کہا : آپ پانچ ہزار کی بات کرتے ہیں ،یہاں تو بریانی پرپرچی بک جاتی ہے۔
حاجی صاحب بولے : افسوس ! لوگ ووٹ کے تقدس سے واقف نہیں ہیں۔اپنے ضمیر کو مدِنظر رکھتے ہوئے پرچی پر مہر لگانی چاہےے۔دیکھنا چاہےے پچھلے کتنے سالوں سے یہی دو پارٹیا ں حصہ لے رہی ہیں۔انہوں نے پاکستان کو اپنی وراثت سمجھا ہوا ہے۔عوام کے لےے انہوں نے کیا کیا ہے۔سڑکیں بھی انہوں نے اپنی سہولت کے لےے بنائی ہیں۔اب اگر کوئی تیسرا آپشن سامنے آیا ہے تو اسے بھی ایک موقع دینا چاہےے۔عمران خان سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر اسکی فلاحی خدمات بھی تو ہیں پھر وہ کرپٹ نہیں ہے۔اتنی جدوجہد کے بعد اگر عوام پی ٹی آئی کی طرف متوجہ ہوئے ہیں تو اسکی وجہ عمران خان کی سچی باتیں ہیں۔وہ درست کہتا ہے کہ دو پارٹیاں باریاں لے رہی ہیں۔ مک مکا کی سیاست کرتے ہوئے مل بانٹ کر اس ملک کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔اب سوشل میڈیا کا دو ر ہے ۔لوگوں کو پتہ ہے کہ کس نے کتنی کرپشن کی ہے اور کس کس نے مال بنایا ہے۔لوگ سیانے ہو گئے ہیں۔اب بریانی پر لوگ انشاءاللہ پرچی نہیں بیچیں گے۔ آپ دیکھیں گے پچیس جولائی کی شب تحریک انصاف سویپ کرے گی ۔عزیز بٹ نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا :
” او جان دیو حاجی صاحب ! عمران کی قسمت میں وزیر اعظم کی کرسی نہیں ہے۔
حاجی صاحب بولے ©:چلو ! ” کل دُور تے نئیں۔بس عوام ووٹ کے لےے ضرور نکلیں۔اسے فرض سمجھ کر ادا کریں تو اچھا نتیجہ آئے گا۔پرویز ملکی نے سگریٹ سلگاتے ہی از خود شاعری شروع کرد ی۔باہر بوندا باندی ہورہی تھی اور ملکی شعرسنا رہا تھا:
شب بھی ڈھلے گی صبح کی ساعت بھی آئے گی
آئے گی روشنی کی حکومت بھی آئے گی
ہوں گے اب اپنے زخم بھی شامل نصاب میں
زوروں پہ اب لہو کی اشاعت بھی آئے گی
اے آئینوں کے شہر کی مخلوق دیکھنا
اب سر پھروں کے رقص میں شدت بھی آئے گی
بیدل لباسِ زخم مبارک ہو آپ کو
اب منجمد لہو میں حرارت بھی آئے گی


ای پیپر