Source : Yahoo

بھارت کس کو پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہے ؟
25 جولائی 2018 (00:21) 2018-07-25

اسلام آباد: پاکستان میں آج ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی پارٹی کی متوقع کامیابی پر ہمسایہ دشمن ملک بھارت میں بے چینی کی فضاء پائی جانے لگی ہے ۔

بھارتی میڈیا عمران خان کی انتخابات میں متوقع کامیابی کو سلامتی کے خلاف قرار دے رہا ہے جبکہ اس کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی کامیابی بہترین ہو گی نواز شریف کے لئے بھارتی میڈیا کے اس نرم گوشہ کا سب کو علم ہے کیونکہ مودی سے دوستی ہو یا کاروباری مفادات نواز شریف نے ہمیشہ بھارت کو ترجیح دی ہے ۔ اس حوالے سے بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے عام انتخابات کے موقع پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 25جولائی کو نئی حکومت کے انتخاب کے لئے ووٹنگ ہو گی جسے حقیقت میں درست لیکن اس کے برعکس کہا جا سکتا ہے ۔

پاکستان کے عام انتخابات میں دو با اثر کھلاڑی نتائج کے اعلان کے بعد کوئی عہدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ نواز شریف اور پاک فوج ہوں گے۔ نواز شریف کرپشن کیس میں دس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پاکستانی فوج اگرچے ملک میں بڑی طاقت ہے لیکن اسے سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کی کسی کوشش سے متعلق تشویش ہے اور وہ اب بھی پرویز مشرف کے تجربے کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ نواز شریف کو عام انتخابات کے موقع پر ان کی عدم موجودگی میں سزا سنائے جانے کا عمل بلا شبہ ان انتخابات میں اہم کردار ہو گا ان کے بھائی شہباز شریف پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں لیکن ان میں نواز شریف کی طرح ولولے کا فقدان ہے اور وہ اپنی الیکشن مہم کو ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر چلارہے ہیں ، اقتصادی و فوجی میدان میں بھارت کی برتری کا بار بار حوالہ دے رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری انتخابات میں ایک اور اہم کھلاڑی ہیں بھارت مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں سے نمٹنے کا تجربہ رکھتا ہے ۔ تاہم عمران خان پاکستان کی سیاست میں اہم چیلنجر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اورکہا جاتا ہے کہ انہیں پاک فوج کی طرف سے نرم گوشہ حاصل ہے ۔ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایسی جماعت ہے جس نے کھل کر پاکستان میں جہادی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کی چینل کھولنے کے نظرےے کی حمایت کی تھی ۔ عمران خان بنیاد پرست دہشتگرد تنظیموں کے حوالے سے اس قدر نرم گوشہ رکھتے تھے کہ ان کے مخالفین نے انہیں”طالبان خان“ کا لقب دیا۔ ناصر الملک کی قیادت میں نگران حکومت کے تحت پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی انتظامی معاملات میں اہم کنٹرولر کے طور پر سامنے آئے ہیں اور دو بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف اس قدر سخت کریک ڈان کیا گیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کے لئے میڈیا میں آزاد سپیس سے بھی محروم کیا گیا ہے ۔

اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ایسا عمران خان پارلیمنٹ میں اکثریت یا اکثریت کے قریب نشستیں حاصل کرے جسے وہ اپنے مطابق حالات میں ڈھال سکیں۔ خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک معاملات میں فوج سویلین حکومت کو کوئی فیصلہ سازی نہیں دینا چاہتی۔ عمران خان ایسے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں کا جھکاﺅ بنیاد پرست سیاست کی طرف ہے اور فوج کی مہربانی حاصل ہے ۔ اخبار نے مزید لکھا کہ یہ قیاس آرائیاں پائی جا رہی ہیں کہ اگر پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ عمران خان کی تحریک انصاف اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو حافظ سعید کے امیدوار اس کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں تاکہ مسلم لیگ ن کو اقتدار سے باہر رکھا جائے۔ پاکستان میں اس قسم کی اتحادی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانےکی کسی بھی کوشش کے لئے باعث خطرہ ہو گی۔


ای پیپر