Big Breakthorugh India China
25 جنوری 2021 (15:36) 2021-01-25

لداخ:ڈھائی ماہ کے وقفے کے بعد انڈیا اور چین کی افواج نے  کور کمانڈر کی سطح پر مذاکرات کا نواں 9 دور شروع کیا جس میں دونوں فریقین نے اس حوالے سے بات چیت کی کہ مشرقی لداخ کی سرحدوں پر سے فوجوں کی آپس کی جھڑپوں کو کم کیا جائے۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نواں دور لائن آف ایکچل کنٹرول میں چین کی سرحد پر واقع مولڈو سرحدی پوائنٹ پر منعقد ہوا ہے۔ مذاکرات کے اس دور میں بالخصوص توجہ اس بات پر تھی کہ مختلف طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے جن کی مدد سے ان پانچ نکاتی معاہدے پر عمل کیا جائے جو گذشتہ سال 10 ستمبر کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور چینی ہم منصب وانگ یی کے مابین طے پایا تھا۔

ماسکو میں کیے گئے اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دونوں افواج کو ہدایات دی جائیں گی کہ وہ ایسے کسی بھی قدم سے دور رہیں جس کی وجہ سے کوئی جھڑپ شروع ہو اور تنازع دوبارہ کھڑا ہو جائے، اور سرحد کے انتظامی امور کے قواعد اور پروٹوکل کا پورا لحاظ کیا جائے۔ ان مذاکرات کا آٹھواں دور گذشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔ انڈیا مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ان مذاکرات میں چین پر ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو بڑھنے نہ دیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ساتویں دور کے مذاکرات میں چین نے مطالبہ کیا تھا کہ انڈیا اپنی فوجیں پانگونگ جھیل کے جنوبی کنارے کے پاس سے ہٹائے۔ لیکن انڈیا اس بات پر مصر رہا کہ فوجیں ہٹانے کا عمل ایک ساتھ ہی شروع ہوگا۔ لداخ کے پاس انتہائی بلندی پر دونوں ملکوں نے کم از کم 50 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں جہاں پر اکثر اوقات درجہ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔

متواتر ملاقاتوں کے باوجود ابھی تک انڈیا اور چین کسی متفقہ فیصلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ موسم سرما میں چین ایسی کوئی کارروائی نہیں کرے گے جو انڈیا کو حیران کر سکے، لیکن اپریل کے مہینے میں پگھلتی برف کے ساتھ کارروائیاں بڑھنے کا خدشہ ضرور ہے۔


ای پیپر