vaccine,pakistan,stating,next,month,february, healthcare,workers
25 جنوری 2021 (14:53) 2021-01-25

اسلام آباد : پاکستان میں اگلے ماہ سے عالمی وبا کی ویکسین کی فراہمی کا آغاز کر دیا جائیگا اور پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز اس سے استفادہ کر سکیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایک کے بعد ایک ویکسین کی منظوری ہو رہی ہے لیکن عام آدمی تک ویکسین کی فراہمی کب ہو گی اس بارے میں کوئی بھی بات واضح نہیں ہو پارہی۔دنیا کے کئی ممالک نے گزشتہ سال نومبر ہی میں ویکسین حاصل کرنے کیلئے کام شروع کر د یا تھا اور آج کئی ممالک بشمول انڈیا میں عوام کو ویکسین لگنا شروع ہو گئی ہے۔پاکستانی حکومت نے ویکسین کے حصول کا اعلان گزشتہ سال ہی کر دیا تھا لیکن تاحال اس پر عمل نہیں سکا۔ 

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک برطانوی ٗ ایک چینی اور ایک روسی کمپنی کی ویکسین کی منظوری دیدی گئی ہے۔اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں ترجیحی فہرستیں بن چکی ہیں لیکن عام پاکستانی کو ابھی تک معلوم نہیں کہ کہاں سے ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔ڈریپ نے تین کمپنیوں کی ویکسین کو منظوری دیدی ہے۔چائنہ کی سائنوفارم ویکسین ٗ رشیا کی سپورٹنک ویکسین ٗ تیسری ویکسین آکسفورڈ کمپنی کی ہے جس کا نام ایسٹرا زینکا ہے۔ان کو پاکستان لانے کیلئےتیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو  چکی ہیں۔یہ ویکسین فروری میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو لگنی شروع ہو جائیگی۔

پوری دنیا میں تمام ممالک اپنی آبادی کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر رہے ہیں۔سب سے پہلے پوری دنیا میں فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز ہیں جن کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔پاکستان میں اس کیلئے ایک آر ایس ایم (ریسورس مینجمنٹ سسٹم ) این سی او سی کی طرف سے۔ اس میں ہیلتھ کیئر ورکرز کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔تقریبا 3 لاکھ 60 ہزار ہیلتھ کیئر ورکرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ۔دوسرے مرحلے میں 65 سے زائد عمر کے پاکستانیوں کو ویکسین لگائی جائیگی۔ اس کے بعد جیسے جیسے مزید ویکسین آتی رہے گی۔ پھر دیگر پاکستانیوں کو لگائی جائیگی۔ پورے پاکستان میں ویکسی نیشن سنٹرز بنائے جائیں گے۔

حکومت پاکستان جو ویکسین منگوا رہی ہے وہ بالکل مفت ہے ۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں سے پہلے ہی حکومت پاکستان میں یہ ویکسین لے آئیگی کیونکہ حکومت پاکستان کی حکومتی کیساتھ بات چیت ہو رہی ہے۔پرائیویٹ سیکٹر کو پاکستانی حکومت کی طرف سے اجازت  دی گئی ہے کہ وہ ویکسین منگوائیں لیکن اس کیلئے جو اجازت نامے چاہئیں اس میں حکومت پاکستان کو بہت سہولت حاصل ہے۔ 


ای پیپر