mushtaq sohail columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
25 جنوری 2021 (11:46) 2021-01-25

کسی بھلے مانس نے سچ کہا تھا ’’ایسے ویسے کیسے کیسے ہوگئے، کیسے کیسے ایسے ویسے ہوگئے‘‘۔ اللہ کی شان وہ ذوالجلال والاکرام ہے۔ انقلابات ہیں زمانے کے ،جنہیں کل تک کوئی پوچھتا نہ تھا۔ آج وہ سب کو پوچھ رہے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ ’’جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے، کرائے دار ہیں مالک مکان تھوڑی ہیں‘‘ کرائے داروں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اسی آنے جانے سے قوم کے عروج و زوال کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ پچھلے ڈھائی تین سال ’’سیکنڈل ائرز‘‘ یعنی مختلف النوع سکینڈلز کے سال عوام کو یاد ہی نہیں کہ اس عرصہ میں کتنے سکینڈل ابھرے جنہیں ترجمانوں نے گردن دبوچ کر ڈبو دیا۔ ہر سکینڈل کی مدت چار دن ان دنوں میں ٹی وی چینلز 24 گھنٹے خصوصی پروگراموں، ٹاک شوز، چیخم دھاڑ اور شور شرابے میں ہمہ تن سر گرم اور پھر کسی نئے سکینڈل کی بازگشت، پرانا سکینڈل کسی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سمیت فائلوں میں بند ہو کر کال کوٹھڑی کی نذر، ’’چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات‘‘ لوگوں نے کہنا شروع کردیا حکومت اپنے دامن میں کرپشن سکینڈل لے کر آئی اور سکینڈلوں کے ہجوم میں کھو گئی، اللہ جھوٹ نہ بلوائے رنگا رنگ سکینڈلوںکے لیے ڈیڑھ درجن رنگ برنگے ترجمان، لاکھوں کی تنخواہیں، کروڑوں کی بے حساب مراعات، حساب ’’منڈوا‘‘ ختم ہونے پر ہو گا جب پردہ گرے گا کہانی اختتام کو پہنچے گی۔ عام فہم حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مسائل حل کرنا نہیں چاہتا۔ حل کیا کرے گا خود مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مشق ستم جاری ہے۔ ڈنگ پٹائو اقدامات سے کام چل رہا ہے۔ ’’کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں‘‘ عوام کتنے سادہ لوح ہیں کہ بہل بھی رہے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس تازہ سکینڈل، کیسے کیسے ویسے ویسوں کے دل جلانے والے بیانات آ رہے ہیں۔ دل جلوں نے لکھ بھیجا ہے کہ ’’فارن فنڈنگ کیس گلے کی ہڈی بن گیا اگلے نہ نگلے،کیس گلے کا پھندا حکومت کو لے ڈوبے گا۔ براڈ شیٹ اسکینڈل کا تو پتا نہیں کہتے ہیں نیب نے براڈ شیٹ کے تصفیہ میں  15 لاکھ پائونڈ ادا کیے۔ 15 لاکھ ڈالرز گنوائے فیصلہ پھر بھی حق میں نہ آسکا۔ مگر اس پر چپ لگی ہے اپنی رسوائی کسے گوارا ہوگی۔ یہ اسکینڈل بھی کسی کمیٹی کے حوالے جسے کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا اس پر اپوزیشن معترض کہ یہ تو اپنے ہیں سارے معاملہ میں شامل تھے۔ سینیٹ کی ہول کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائے۔ چند روز کی گرما گرمی پھر برف تلے دب جائے گا۔ لیکن لوگ فارن فنڈنگ کیس کے بارے میں یہ کہتے نہیں چوکتے کہ یہ کیس تہس نہس کردے گا، بنیادیں ہلا دے گا۔ کیا واقعی؟ وزیر اعظم کے خلاف چارج شیٹ بنے گا؟ پتا نہیں، کیسے بچیں گے؟ بابر اعوان ہیں ناں ،پتوار کی مدد سے ایک  اوردریا کے پار اتر جائیں گے۔ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن پارٹی کے 23 اکائونٹس لے کر 7 سال سے سر گرم، جوتیاں گھس گئیں، فیصلہ نہ آیا، ابھی تک نظر نہیں آرہا، اس پر دعوے کہ آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ 

داریاں پوری کر رہے ہیں۔‘‘ لفظوں کے ہیر پھیر کا دھندہ بھی خوب ہے۔ جاہل ہمارے ملک کے استاد ہوگئے۔‘‘ کیسی مشکل ذمہ داریاں ہیں کہ 7 سال میں بھی پوری نہیں ہوپائیں شکوک و شبہات کو تو تقویت ملے گی کہ فارن فنڈنگ کیس میں کچھ گڑ بڑ ضرور ہے پانامہ کیس میں اتنی جلدی کہ اس کے بطن سے اقامہ نکال کر تاحیات نا اہلی اور پھر 7 سال قید یہاں 7 سال سے پورا کیس’’ قیدی ‘‘بنا ہوا ہے۔ فنڈنگ کیس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ سارے کرشماتی حضرات سر جوڑ بیٹھے ہیں کرشمے ہی پھوٹیں گے۔ ان 7 سالوں میں کتنے جتن کیے گئے کبھی الیکشن کمیشن کے اختیارات چیلنج کبھی ادھورے جوابات کبھی اسٹے آرڈر کے لیے بھاگ دوڑ، اب فرمایا سابق الیکشن کمشنر ن لیگ نے مقرر کیا تھا وہ ہمارا دشمن تھا۔ نفرت اور دشمنی کے بیج ہوئے ہیں دوست کہاں سے آئیں گے۔ اپوزیشن نے چیلنج کردیا کہ دامن صاف ہے تو تلاشی دیں۔ 7 سال سے زیر التوا 80 سماعتوں کے دوران  30 بار کارروائی رکوانے، 4 مرتبہ خفیہ رکھنے کی درخواستیں دی گئیں، بقول اپوزیشن اسٹیٹ بینک نے تحریک انصاف کے 23 خفیہ اکائونٹس پکڑ لیے، اب تمام پارٹیوں کو بٹھا کر سماعت براہ راست نشر کرنے پر اصرار، کوئی قباحت نہیں، ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ الیکشن کمشین ہمت کرے اور تاریخی فیصلہ دے جو بھی ملوث پایا جائے اس پر پابندی اِدھر اُدھر سے مداخلت فی السیاست کے دروازے بند، نئی تاریخ رقم ہوگی، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ سراج الحق بھی خوش ہوں گے کہ نظام تبدیل ہوگیا۔ سیاست کی منڈی میں نئی ڈھیریاں بنائیں مگر یہ سب خواب و خیال کی باتیں ہیں، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ پورا ملک فارن فنڈنگ پر چل رہا ہے۔ کھربوں کے قرضے اربوں کی امداد فیصلہ کیسے ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم عرصہ سے شور کرر ہی تھی کہ 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر پر مظاہرہ کر کے چیف الیکشن کمشنر کو جلد  فیصلے پر مجبور کردیں گے۔ مظاہرہ ہوا خوب ہوا جنہوں نے بچشم خود دیکھا انہوں نے کہا ہزاروں افراد تھے۔ مگر مظاہرے کے دوران ہی وزیر داخلہ نے کہا 3 ہزار آدمی تھے۔ باقی کون تھے دل جلوں نے گرہ لگائی 3 ہزار آدمی 97 ہزار جنات وزیر داخلہ کو لال حویلی کے کرائے دار جنات نظر نہیںآ تے تو ریڈ زون کے جنات کیسے دکھائی دیں گے۔ آپا فردوس عاشق قافیے سے قافیہ ملا رہی ہیں کہنے لگیں مظاہرہ ٹھس بیانیہ پھس، تیلی نے جاٹ سے کہا تھا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ، جاٹ نے جواب دیا تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولہو، تیلی ہنسا بھائی جاٹ قافیہ نہیں ملا۔ جاٹ نے ترنت جواب دیا۔ قافیہ ملے نہ ملے کولہو سے تیرا سر تو پھٹے گا قافیہ تو تنگ ہوگا شیخ صاحب تو عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بندہ 3 ہزار کے بعد گنتی بھول جاتا ہے لیکن آپا فردوس کو کم از کم ٹھس پھس جیسے برے الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ترجمانوں اور وزیروں مشیروں کے بیانات سے قطع نظر ملکی مفاد اسی میں ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا جلد فیصلہ ہو اور پی ٹی آئی، ن لیگ اور پی پی تینوں میں جو بھی ملوث یا تینوں ملوث پائی جائیں تو آئین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاخیر ہوئی تو حکومت اس اور اس جیسے دیگر سکینڈلز کی آڑ میں پٹرول، بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافہ کر کے غریبوں بلکہ اب تو امیروں کا بھی جینا محال کرتی رہے گی۔ فرمایا روپے کی قدر کم ہوگئی تو مہنگائی ہو گی۔ روپے کی قدر کس نے گھٹائی، اچھی بھلی کرنسی کو ٹکا ٹوکری کس نے بنایا۔ ڈالر 160 روپے کب سے ہوا پیٹرول بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے مہنگائی بڑھتی ہے پتا نہیں صاحبوں کو اس کا بھی پتا ہے یا نہیں نیا پاکستان بنانے چلے تھے لنگر خانے بنا کر ہانپ گئے۔ ’’اڑے تھے ضد پہ کہ سورج بنا کے چھوڑیں گے پسینے چھوٹ گئے اک دیا بنانے میں‘‘ پٹرول اور بجلی کے نرخ ہر پندرہ روز اور 30 روز میں بڑھ رہے ہیں تو مہنگائی کو بریک کیسے لگے گی۔ اپوزیشن کو چھوڑیں عوام کی سوچیں جن میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ رکشے والے نے مسافر سے کم کرایہ لیا اس نے شکریہ ادا کیا تو بولا شکریہ کی ضرورت نہیں اترتے ہی 3 افراد سے کہہ دیں کہ آئندہ اس پارٹی کو ووٹ نہ دیں 3 افراد کو تاکید کریں کہ وہ اپنے دس جاننے والوں کو یہی پیغام پہنچا دیں۔ ملک فارن فنڈنگ سے چلے یا پارٹی اس سے قطع نظر غربت کے مارے عوام پر توجہ دیں ورنہ وہ اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔


ای پیپر