dr ibrahim mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
25 جنوری 2021 (11:45) 2021-01-25

امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن نے بر سرِ اقتدا ر آ تے ہی اپنے کام کا آغاز سابق صدر ٹرمپ کی متعدد پالیسیوں کو فوری طور پر منسو خ کر تے ہو ئے کیا۔تا ہم سا بق صدر ڈو نلڈ ٹر مپ نے انتخا با ت کو دھا ندلی قرا ر دیتے ہو ئے اپنی ہا ر تسلیم نہیں کی اور وہا ئٹ ہا ئو س سے روانہ ہو تے وقت مو جو دہ صدر جو با ئیڈ ن کے نا م خط میں لکھا کہ ـــــجو، تم جا نتے ہو کہ میں جیتا ہو ں۔ اب یہا ں ایک اہم نکتہ یہ وا ضح ہو تا ہے کہ امر یکی انتخا با ت میں بہر حا ل دھا ند لی کے چا نسز مو جو د ہو تے ہیں۔ انتخا با ت میں دھا ند لی دیگر مما لک میں بھی ہو تی ہے۔ لیکن اس دھا ند لی کا الزا م اس وقت کی حکمرا ن پا رٹی کے نا م منڈھا جا تا ہے کیو نکہ پا ور کی ما لک وہی ہو تی ہے اور اسے  اس الزا م کا دفاع کر نا ہو تا ہے۔ مگر ہم د یکھتے ہیں کہ امر یکہ میں یہ الزا م حکو متی پا رٹی کے صدر لگا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امر یکی صدر امر یکہ کے طا قتور تر ین شخص نہیں ہیں؟ تو پھر وہ کو نسی قو ت ہے جو امر یکی صد ر سے بھی بڑھ کر طا قتو ر ہے؟جی ہا ں اس پو شید ہ قو ت کو اسٹیبلشمنٹ کہا جا تا ہے۔ مگر سوال و ہیں آ ن کھڑا ہو تا ہے کہ اس اسٹیبلیشمنٹ کا کر تا دھر تا کو ن ہو تاہے، کو ن اس کا سر برا ہ ہو تا ہے؟ اس سوال کا جو اب کبھی سا منے نہیں آ تا۔چلیے چھو ڑیئے ، ہم وا پس نئے صد ر جو با ئیڈ ن کی جا نب پلٹتے ہیں۔ ہا ں تو میںکہہ رہا تھا کہ صدر بائیڈن کے لیے کرنے کو بہت سا کام پڑا ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں امریکی تاریخ، کردار اور حیثیت کی راہوں میںبے شمار کانٹے بچھائے گئے جنہیںنئے صدر نے صاف کرنا ہے۔ اس کام کا مینڈیٹ لے کر وہ اس عہدے تک پہنچے ہیں اور ان اقدامات کو کیسے عملی شکل دیناہے، پانچ دہائیوں پر مشتمل سیاسی کیریئر رکھنے والے امریکی صدر کے لیے یہ کسی امتحان سے کم نہیں۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے زور دے کرکہا کہ یہ امتحان کا وقت ہے، کثیر جہتی امتحان جیسا کہ کورونا کی وبا جس نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بے روزگاری، عدم تحفظ، نسلی تفریق اور تقسیم کے چیلنجز امریکہ کو داخلی سطح پر درپیش ہیں جبکہ عالمی سطح پر ایک طرح سے اپنے تعلقات اور معاملات کو ’ری ڈو‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اتحاد کو ریپئر کریں گے اور دنیا کے ساتھ نئے سرے سے انگیج ہوں گے۔ نئے امریکی صدر کے ان الفاظ نے دنیا کی توجہ حاصل کی ہے اور یہ سوچا جارہا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی لے کر آتے ہیں۔ اگرچہ بہت سی باتیں امریکی انتخابی مہم کے دوران ہی سامنے آگئی تھیں مگر ضروری نہیں کہ جو کچھ الیکشن مہم کے دوران کہا گیا خارجہ پالیسی میں اس سے سرمو انحراف ممکن نہیں یاایسا کرنے کی 

ضرورت نہیں۔ امریکہ کے اندر کئی بااثر دانشمند حلقے بھی اس سلسلے میں بڑی تبدیلیوں کے خواہش مند ہیں، مثال کے طور پر امریکہ چین تعلقات، جن میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ روایتی پالیسی کی مقید دکھائی دیتی ہے مگر سنجیدہ امریکی حلقے تعلقات کی اس نوعیت کو ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔صدر بائیڈن کے وزیردفاع جنرل آسٹن اگرچہ کہتے ہیں کہ چین امریکہ کا سب سے بڑا مدمقابل ہے، مگر اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ واحد عالمی سپر پاور کی حقیقت اب تبدیل ہوچکی ہے اور دفاعی، سائنسی، معاشی، تجارتی اور عالمی اتحاد، غرض ہر لحاظ سے چین نے امریکہ کے واحد سپر پاور کا تصور ختم کردیا ہے۔ مگر اس حقیقت کو تسلیم کرکے اگر امریکہ اور چین بہتر اور پائیدار تعلقات اور عالمی معاملات میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی راہ اپنائیں تو یہ اس سیارے کے باسیوں کی بڑی خوش قسمتی ہوگی۔ بنی نوع انسان کو ایک دوسرے کے تعاون اور ہمدردی کی کس قدر ضرورت ہے، عالمگیر کورونا وبا نے اس سلسلے میں ہمیں بہت کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ کرئہ ارض پر نسلِ انسانی کی بقا کے لیے ہمیں تصادم کے بجائے تعمیر کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین پر کوئی بھی ایسا نہیں جو اکیلے ہی جملہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اہلیت یا صلاحیت رکھتا ہو، خواہ وہ سپر پاور امریکہ ہو یا چین۔ چنانچہ انسانی دانش اور وسائل اگر مشترکہ طور پر ایک انسانوں کے لیے بروئے کار آئیں تو اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ صدر بائیڈن کے افتتاحی خطاب کے یہ الفاظ قابل غور ہیں کہ ہم اپنے اتحاد ازسرنو بنائیں گے اور دنیا کے ساتھ ملیں گے، صرف ماضی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے بھی۔ خالص جنوبی ایشیا کے خطے کے معاملات کا ذکر کیا جائے تو ٹرمپ نے اس خطے میں تعمیر کی بجائے تخریب کو ہوا دی۔ مشرق وسطیٰ کی حالت زار اس تباہ کن دور کی یادگار ہے۔ البتہ افغان مسئلے کے حل کے لیے ٹرمپ دور میں جو اقدامات ہوئے انہیں اہم قرار دیا جاسکتاہے مگر اس معاملے میں صدر بائیڈن پر اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات اپنی جگہ مگر افغان مسئلے کا اہم فریق امریکہ ہے اور اس کے حل کا کلیدی انحصار بھی امریکی پالیسی پر ہے۔ افغان معاملات میں جو پیش رفت ہوئی ہے اگر صدر بائیڈن کی حکومت نے اس کامیابی کو رول بیک کرنے کی کوشش کی یا ٹرمپ کی باقیات سمجھ کر اس معاملے میں غیرسنجیدگی کا رویہ اپنا یا تو اس خطے میں امریکی مفادات کے لیے یہ صورتحال منفی اثرات کی حامل ثابت ہوگی اوریہ خدشہ موجود ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی جو کوششیں ہوئی ہیں وہ بری طرح ناکام ہوجائیں او ریہ جنگ زدہ ملک ایک دفعہ پھر دہشت گرد قوتوں کی جھولی میں جا گرے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سابق امریکی صدر نے برے بڑے دعوے کیے اور احساس دلایا کہ اس اہم ترین مسئلے پر پاک بھارت تصفیہ کروانا چاہتے ہیں، مگر عملی طور پر امریکہ کی جانب سے ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی یہاں تک کہ پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے ناجائز طریقے سے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو تبدیل کیا او رمقبوضہ جموں و کشمیر کا طویل محاصرہ شروع ہوا جس میں کشمیری آبادی کے انسانی حقوق کو بدترین طریقے سے پامال کیا گیا، مگر ان تمام غیر انسانی حرکات، محاصرے، جنگی جرائم اور بنیادی حقوق کی پامالی کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ بھارت کے خلاف کوئی سٹینڈ نہ لے سکی۔ تاہم صدر بائیڈن سے ان معاملات میں بہت سی نیک توقعات ہیں۔ صدر بائیڈن اور نائب صدر کاملہ ہیرس مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے چکے ہیں۔ چنانچہ توقع کی جاتی ہے کہ حقوق اور انصاف کی بات کرتے ہوئے وہ کشمیری عوام کو بھی یاد رکھیں گے۔


ای پیپر