Shafiq awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
25 جنوری 2021 (11:43) 2021-01-25

محترم جناب چیف جسٹس صاحب آج آپ کی ہی عدلیہ کے ایک معزز جج اور حوا کی ایک بیٹی کے ساتھ ہونے والے ایک واقعہ کے حوالے سے میں آپ سے انصاف کا منتظر ہوں۔ یقین واثق ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح انصاف کا بول بالا کریں گے۔

ڈیرہ غازیخان میں تعینات سول جج ’’ج‘‘ پر ملتان کی رہائشی خاتون ’’س‘‘ کی طرف سے گینگ ریپ کا الزام مقدمہ درج ہے۔

آپ سے التماس ہے کہ اس واقعہ میں جو بھی مجرم ہو اسے قرار واقعی سزا دیں تا کہ آئندہ کے لیے ایک مثال قائم ہو سکے۔ اگر عدلیہ کے اندر کالی بھیڑیں ہیں تو ان کی سرکوبی کریں اگر ایف آئی آر جھوٹی ہے تو مدعیہ سمیت اس کے تمام کرداروں کو نشان عبرت بنا دیں۔ ایک حاضر سروس جج کے خلاف مقدمے کا اتنی سرعت سے اندراج اور پھر اسی تیزی سے داخل دفتر ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ خدانخواستہ مقامی پولیس اور عدلیہ میں کوئی کشمکش یا کچھ اور؟ اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ میری اس کیس میں دلچسپی اور تجسس اس لیے بڑھا کہ مین سٹریم میڈیا نے اس واقعہ کو رپورٹ نہ کیا۔

اس واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے، ملتان گلگشت کی خاتون ’’س‘‘ نے الزام لگایا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے ایک حاضر سروس جج نے اپنے ایک ساتھی کی مدد سے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے۔ تھانہ سول لائن ڈیرہ غازی خان کی ایف آئی آر 31/21 کے مطابق جج مذکور سے اس کے گھریلو تعلقات ہیں۔ اس نے جج ’’ج‘‘ کو اپنی بہن ’’ص‘‘ کی نوکری کے لیے دس تولہ سونا دیا لیکن جج مذکور یہ نوکری نہ دلوا سکے۔

نوکری نہ ملنے پر اس نے سونا واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ بار بار کی تکرار کے بعد جج صاحب نے اسے ڈیرہ غازیخان آ کر سونا لے جانے کا کہا۔ جب وہ وہاں پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ سونا گھر میں ہے وہیں جا کر لے لینا اور زبردستی کار نمبری 158 میں بٹھا لیا کہ چل کر سونا دے دیتا ہوں اور ریسٹ ہاؤس لے جا کر نامعلوم دوست کے ہمراہ گن پوائنٹ پر زیادتی کی۔ اس نے اس واقعہ کی پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر کال بھی کی۔ تھانہ سول لائن کے اے ایس آئی بیلٹ نمبر 447۔DG نے خاتون کے بیان کے مطابق اپنا فرض ادا کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر دی اور خاتون کے طبی معائنے کی معمول کی کارروائی کا کہا۔ مقامی صحافیوں سے گفتگو کے بعد پتا چلا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد جج صاحب بھی موبائل بند کر کے غائب ہو گئے۔ بعد ازاں جب خاتون سے رابطہ کیا گیا تو خاتون طبی معائنے سے انکاری ہو گئی۔ اس کے بعد خاتون ایف آئی آر میں درج اپنا موبائل نمبر بند کر کے روپوش ہو گئی۔ میں نے بھی ایف آئی آر میں دیے گئے نمبر پر خاتون سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن نمبر بند ملا۔

میں نے اسی وقت تھانہ سول لائنز کے ایس ایچ غزال حیدر سے بات کی تو انہوں نے پولیس کے روایتی رویے کی طرح ڈی پی او کے پی آر او سمیع اللہ سے بات کرنے کو کہا۔ میں نے اسرار کیا کہ آپ کے تھانے کا کیس ہے آپ ہی معلومات دے دیں لیکن بے سود۔ سمیع اللہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کمال شفقت سے تفصیل بتائی اور یہ کہ حاضر سروس جج کے خلاف اندراج مقدمہ سے پہلے تمام ایس او پیز کا خیال رکھا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ زیادتی کا شکار خاتون موبائل نمبر بند ہونے سے پولیس سے رابطے میں نہیں ہے اس لیے طبی معائنے کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ میں نے پھر ڈی جی خان بار کے صدر محترم عظمت اسلام صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس بھی ایف آئی آر کے مطابق معلومات ہیں۔ لیکن بطور ڈسٹرکٹ بار کے صدر کے ان کا کنسرن ہے اور وہ اس مسئلے پر بار کا اجلاس بلا رہے ہیں۔

اس کیس کی تفتیشی ایک خاتون افسر تھیں ان سے باوجود کوشش کے رابطہ نہ ہو سکا۔ لیکن اے ایس آئی مختار، جس نے ایف آی آر درج کی تھی، سے آج بات ہوئی تو اس نے انکشاف کیا کہ خاتون نے صلح کر لی ہے اور مجسٹریٹ ندیم صاحب کے سامنے اس خاتون نے بیان بھی دے دیا ہے۔ جبکہ آج ہی ایس ایچ او غزال صاحب نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ خاتون کی صلح ہو چکی ہے۔

آج ڈی جی خان بار کے صدر سے دوبارہ بات ہوئی تو انہوں نے بتایا، بار کے اجلاس میں یہ واقعہ زیر بحث آیا اور ہم نے قانون کے مطابق کارروائی کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل جج صاحب کی عبوری ضمانت کی درخواست لگی ہوئی ہے۔ البتہ وہ صلح کے واقعہ سے لا علم تھے۔

یہ تمام تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مدعیہ کی طرف سے صلح کرنے پر یہ کیس داخل دفتر کر دیا گیا۔ خاتون نے 200 روپے کے اسٹام پیپر پر بیان حلفی میں واقعہ کو غلط فہمی قرار دے دیا۔ البتہ تسلیم کیا کہ اس نے وقوعہ کے متعلق 15 پر کال کی تھی۔ جبکہ ہماری اطلاعات کے مطابق خاتون پر کیس واپس لینے کی لیے شدید دباؤ تھا۔ اور بالآخر وہ اس دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی۔ چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور جو بھی قصور وار ہو اسے سزا دیں۔ اگر قابل احترام سول جج صاحب بے گناہ ہیں یا گنہگار تو ان سے انصاف کریں۔ اگر مدعیہ کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اس نے دباؤ کے تحت مقدمہ واپس لیا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر اس نے کسی خاص مقصد کے لیے جج صاحب کو بدنام کرنے کے لیے غلط مقدمہ درج کرایا ہے تو اس سمیت تمام لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تا کہ آئندہ کسی عزت دار کی پگڑی نہ اچھالی جا سکے اور ایسے واقعات کا سد باب ہو سکے۔ میں نے بھی معزز جج کا نام نہیں دیا تا وقتیکہ کیس کی تحقیقات اور فیصلہ نہ ہو جائے۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر