اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
25 جنوری 2020 2020-01-25

(تیسری قسط۔ گزشتہ سے پیوستہ)!گزشتہ کالم میں ، میں نے 2012ءمیں وزیراعظم عمران خان کے اعزازمیں اپنے گھر پر دیئے جانے والے عشائیے اور نوائے وقت سے اپنے استعفیٰ کا ذکر کیا تھا، میں اس عشائیے کی دعوت دینے کے لیے مجید نظامی کے پاس گیا، میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا ” میں نے اپنے گھر عمران خان کو عشائیے پر مدعو کیا ہے، کچھ سینئر کالم نگار ودانشور بھی تشریف لارہے ہیں، آپ آئیں گے میری عزت میں اضافہ ہوگا“ ، نظامی صاحب ذرا اُونچا سنتے تھے، دیکھتے بھی بہت اُونچا تھے، میری بات سن کر وہ خاموش رہے، میں اُن کی طرف سے جواب کا انتظار کرتا رہا، چند لمحوں بعد میں نے اپنی گزارش دہرائی وہ بولے ”میرے آنے سے آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا میری عزت میں نہیں “ ....پھر انہوں نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا وہ عمران خان کو پسند نہیں کرتے، اُن کی باڈی لینگوئج سے مجھے اندازہ ہوا وہ مجھ سے یہ توقع کررہے تھے اُن کی بات کے جواب میں ، نوائے وقت کے ایک ”ادنیٰ کالم نگار“ کی حیثیت میں اُن سے میں کہوں گا ”ٹھیک ہے سر اگر آپ عمران خان کو پسند نہیں کرتے تو میں ان کے اعزاز میں دیا جانے والا عشائیہ منسوخ کردیتا ہوں،ظاہر ہے میں نے ایسا نہیں کہا، میں نے عرض کیا ”ٹھیک ہے سر آپ کی مرضی “ .... نظامی صاحب کو میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا، میرے جانے کے بعد اُنہوں نے نوائے وقت کے ایک ادارتی عہدیدار کو بُلا کر جوکچھ میرے بارے میں فرمایا وہ ہرگز اُن کے شایان شان نہیں تھا، مجھے یقین ہوگیا اُنہوں نے ذہن بنا لیا ہے جلد ہی نوائے وقت سے مجھے فارغ کردیں گے، اگلے روز عشائیہ تھا، اِس عشائیے میں ، میں نے جناب عارف نظامی کو بھی مدعو کیا ہوا تھا، اُن کے اُن دنوں مجید نظامی صاحب سے شدید قسم کے اختلافات چل رہے تھے، مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا، اندازہ ہوتا بھی میں عارف نظامی کو ضرور بلاتا کیونکہ میں نوائے وقت کے لیے کالم لکھتا تھا جس کا مجھے معاوضہ ملتا تھا، میں نے کوئی غلامی نہیں کی تھی کہ میں ادارے یا مجید نظامی کی ہرجائز ناجائز خواہش کا احترام کرتا .... جناب عارف نظامی کی میں اس لیے بھی بڑی عزت کرتا تھا وہ میرے محسن ہیں، ایک بار جب میں روزنامہ جناح میں لکھتا تھا مونس الٰہی کے بارے میں ایک کالم پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئے، اور تو ان سے کچھ نہ بن پڑا، انہوں نے میرے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کینسل کردی، پورا میڈیا اس وقت میرے ساتھ کھڑے ہوگیا، اس خبر کا چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لے لیا جس پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا، اس موقع پر جناب عارف نظامی نے میرے حق میں بڑا مو¿ثر کردار ادا کیا تھا انہوں نے ذاتی طورپر بھی پرویز الٰہی صاحب سے بات کی ، ان کے علاوہ جناب مجیب الرحمان شامی اور مرحوم رحمت علی رازی نے بھی بہت مزاحمت کی ، چودھری پرویز الٰہی بڑے دل کے مالک ہیں، بعد میں انہوں نے میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا میں ان کی دل سے عزت کرنے پر مجبور ہوگیا، مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یاد آرہا ہے، 2011ءمیں میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا، اگلے روز چار بجے سہ پہر ان کی رسم قل تھی، چودھری پرویز الٰہی ان دنوں ڈپٹی وزیراعظم تھے۔ وہ صبح سویرے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ تشریف لے آئے، چودھری شجاعت حسین بھی ان کے ہمراہ تھے، وہ کافی دیر میرے ساتھ رہے ،انہوں نے اسلام آباد پہنچنا تھا، وہاں ان کی صدر زرداری کے ساتھ میٹنگ تھی، وہ فرمانے لگے ہم شام کو رسم قل میں شریک نہیں ہوسکتے، میں نے عرض کیا ”آپ نے اتنا وقت دیا، میرے دکھ میں شریک ہوئے، رسم قل میں آپ کی شرکت کی اب کوئی ضرورت بھی نہیں، وہ چلے گئے۔ چند گھنٹوں بعد ان کے پرسنل سیکرٹری تشریف لے آئے ،میرے پاس اس وقت ڈرائنگ روم میں انور ورک اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے ،میرے محترم بھائی جاوید اقبال کارٹونسٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس جناب اعجاز احمد چوہدری تشریف فرما تھے، جو تعزیت کے لیے آئے تھے، چودھری پرویز الٰہی کے سیکرٹری کچھ دیر بعد باہر چلے گئے، میرے موبائل پر ان کا مسیج آیا، وہ مجھے باہر بُلا رہے تھے، میں باہر گیا تو ایک بڑی سی وین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا ” یہ کچھ فروٹ وغیرہ ہے، اس کے علاوہ آپ کی والدہ محترمہ کے رسم قل پر آنے والے مہمانوں کے لیے کھانا بھی پہنچ جائے گا“، .... میں نے ان سے کہا ”سارے انتظامات مکمل ہیں، مہمانوں کے لیے کھانا بھی تیار ہے، لہٰذا آپ یہ واپس لے جائیں “ .... میرے اصرار پر اُنہوں نے چودھری صاحب سے فون پر میری بات کروائی، میں نے یہی گزارشات ان کی خدمت میں بھی پیش کیں، انہوں

نے میری پوری بات سنی، پھر فرمانے لگے ” اگر آپ یہ سمجھتے ہیں مرحومہ اماں جی ہماری بھی کچھ لگتی تھیں تو ہماری طرف سے یہ دال دلیہ قبول کرلیں اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں وہ ہماری کچھ نہیں لگتی تھیں تو واپس بھجوادیں“ .... ظاہر ہے ان کے اس جواب کے بعد میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا میں یہ سب قبول کرلیتا، میں یہ واقعہ شاید نہ لکھتا، پر میرے والد محترم (مرحوم) ہمیشہ یہ نصیحت فرماتے تھے ”بیٹا آپ پر کوئی ذرا سی مہربانی کرے، گلے میں اس کا ڈھول ڈال لیں، یہ ڈھول ہر جگہ بجائیں“ .... ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا لوگوں کی نیکیوں کو ان کے احسانوں کو، ان کی محبت کو، ان کے حسن سلوک کو ہروقت ہرجگہ یاد رکھا کریں “ .... میں اب اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں، .... میرے گھر پر عمران خان کے اعزاز میں جو عشائیہ ہوا اس میں ملک کے نامور شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، اس عشائیے سے عمران خان نے خطاب بھی کیا، 2011ءمیں مینار پاکستان میں تاریخی جلسے کے بعد اُن دنوں اُن کی مقبولیت عروج پر تھی، اس جلسے کے بعد ہر کوئی اس یقین میں مبتلا ہوگیا تھا عنقریب وہ وزیراعظم بننے والے ہیں، میرے گھر پر ان کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کی اتنی کوریج ہوئی ہرطرف دھوم مچ گئی، مجید نظامی صاحب اس پر مزید آگ بگولہ ہوگئے، اس کا اندازہ مجھے اس لیے بھی ہوگیا تھا کہ نوائے وقت میں اس عشائیے کی چھوٹی سی خبر یا تصویر بھی شائع نہ ہوئی، اگلے روز ان کے پی اے کا فون آگیا وہ نظامی صاحب کی طرف سے مجھے حکم جاری کررہے تھے ”آئندہ اپنے کالموں میں ، آپ عمران خان کا ذکر نہیں کریں گے“ ....ہاں ایک اور واقعہ یاد آیا، مینار پاکستان لاہور کے تاریخی جلسے کے بعد ایسے ہی ایک جلسے کا اہتمام پی ٹی آئی کراچی کی جانب سے بھی کیا گیا تھا، یہ جلسہ مزار قائداعظم سے ملحقہ ایک بہت بڑی گراﺅنڈ یا شاید سٹیڈیم میں ہوا، اس روز جاوید ہاشمی نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ کراچی کے جلسے میں تشریف لارہے تھے، اس وجہ سے جلسے کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، یہ توقع کی جارہی تھی یہ جلسہ مینار پاکستان کے جلسے کے ریکارڈ بھی توڑ دے گا، عمران خان مجھے بھی اپنے ساتھ کراچی لے گئے، جناب حفیظ اللہ نیازی کا اس جلسے کے انعقاد میں بھی بڑا اہم کردار تھا، انہوں نے جلسے کی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ جلسے کے سٹیج پر میری (توفیق بٹ) کی کرسی بھی رکھی جائے، اس جلسے کی لائیو کوریج ہورہی تھی، .... سٹیج پر بیٹھے ہوئے اچانک میرے موبائل کی گھنٹی بجی، دوسری جانب مجید نظامی کے پی اے تھے، وہ نظامی صاحب کی طرف سے مجھے یہ حکم دے رہے تھے میں اسٹیج سے فوراً نیچے اُتر جاﺅں ( جاری ہے)


ای پیپر