سیاست اورا جارہ دار طبقات
25 جنوری 2019 2019-01-25

چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک صاحب طرز کالم نگار کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ کالم نگار ایک عرصے سے اپنے کالموں میں پاکستان تحریک انصاف کی تشہیر کرتے چلے آرہے تھے۔ مگر ان دنوں تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں موصوف کے مخالفانہ اورجارحانہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ موصوف پروگرام میں تحریک انصاف کے بارے میں اپنے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس کے بارے میں فرما رہے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگرچہ عوام کی امید وں پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے ۔ لیکن انھوں نے تحریک انصاف کی حمایت اس لیے کی تھی کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی سیاست اور اقتدارپر اجارہ داری ختم کرنا چاہتے تھے۔ یعنی اس اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے جناب نے ایسے کھلاڑیوں کی حمایت کی جن کی ’’انقلابی پالیسیوں‘‘ نے قومی معیشت اور اقتصادیات کو زمین بوس کردیا ہے۔ جس کا ا عتراف چند روز قبل شائع ہونے والی اسٹیٹ بنک کی رپورٹ میں بھی کیا گیاہے۔ لیکن حکومتی وزراء اور پارٹی عہدیداران وزیراعظم کی وجاہت ، سادگی اور قناعت پسندی کے گُن اور مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی پر الزام لگاتے نہیں تھکتے ہیں۔ اب انھیں کون سمجھائے کہ بڑے عہدوں پر فائز شخصیات کی ذاتی خصوصیات کی بجائے ان کے فیصلوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ روئیداد خان اپنی کتاب ’’ پاکستان انقلاب کے دہانے پر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان اپنی ذاتی حیثیت میں تصنع اور بناوٹ سے عاری فراخدل اور سخی تھے۔ لیکن ان کے انتظامی اور سیاسی فیصلوں کے ہولناک نتائج سب کے سامنے ہیں۔

بات ہورہی تھی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی اقتدار اور سیاست پر اجارہ داری کی۔ کیا واقعی ہی یہ جماعتیں سیاست اور اقتدار پر قابض ہیں؟ آج کی پاکستان تحریک انصاف میں شامل افراد کا ماضی کیا ہے؟ اور کیا یہ تینوں اور میدان سیاست میں سرگرم دیگر سیاسی جماعتیں حقیقی سیاسی جماعتیں ہیں؟ افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ تمام کی تمام سیاسی جماعتیں ملک کے وسائل پر قابض طبقات کی ترجمانی او ر مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اول دن سے قوم جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔جاگیر دار، وڈیرے ، سرمایہ دار اور پراپرٹی ٹائیکونز، عوام کے ذہنوں اور ان کی محنت ، اُگائی ہوئی فصلوں اور ان کی جیبوں پر قابض ہیں ، روایت پسند ملّا، خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات کرنے والے صوفی و پیر وں کے پاس خدا کے نام کو بیچنے کے لیے تو بہت کچھ ہے مگر خلق خدا کے نالوں سے پسیجنے والا دل بالکل بھی نہیں ہے ۔ حال یہ ہے کہ بورژوا سیاسی و فرقہ وارانہ مذہبی جماعتیں ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔بائیں بازو کی ترقی پسند جماعتیں بدترین انتشار کا شکار ہیں ۔یہ ہی سبب ہے کہ وسائل ، قدرتی عطیات اور محنت کرنے والوں کی بہتات اور حقیقی قیادت کے فقدان کے سبب مثبت تبدیلی کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا ہے۔ اس حوالے سے فرزندِ اقبال، ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم نے خوب کہا ہے کہ ’’پاکستان ناکام ریاست نہیں بلکہ اس کی قیادت ناکام نسل کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ رہا انقلاب تو وہ ابھی ایک خواب ہی ہے، عوامی شعورکا ارتقاء ابھی ابتدائی سطح پر بھی نہیں ہے۔ اس شعور کی طاقت کے ذریعے انقلاب کا شعور عوام میں تاحال پیدا نہیں ہوسکا ہے۔

مگر اس کے باوجود قوم استحصالی عناصر کی چیرہ دستیوں سے تنگ آچکی ہے۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں تقریباََ 48 فیصد آبادی نے اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا ہے۔کیوں کہ انھیں یہ یقین ہے کہ وسائل پر قابض طبقہ عوام کے مسائل حل نہیں کرے گا۔ پاکستان کے مسائل تو وہی حل کریں گے جن کا مسئلہ ہے۔ لہذا ہر باضمیر اور فکرمند شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اثر میں عوامی شعور کے ارتقاء میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسلام بھی اپنے ہر پیروکار سے خیر کے لیے آخری درجے کی قربانی کا خواستگار ہے۔ لیکن افسوس کہ فرسودہ اور استحصالی نظام کو شکست دینے کے لیے ہمارا معاشرہ اس بنیادی اور ابتدائی کام کے لیے بھی ابھی تیار نہیں ہے۔آئی ٹی کے میدان میں جو انقلاب پیدا ہوا اس نے سماجی اور سیاسی رابطوں میںآسانی کا ایسا سامان پیدا کردیا ہے کہ خبر کا جاننا اور پھیلاناانسان کے لیے انگلیوں کا کھیل بن چکا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس ایجاد اور آسانی کا مثبت استعمال کرتے ،عقل اور شعور کی بات کرتے اور دلائل سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ۔ہم نے لغویات، الزامات اور تہمتوں کے ایسے ایسے شاہکار تخلیق کیے ہیں جن کی مثال کسی مہذب معاشرے میں ملنا ممکن نہیں۔ سماجی رابطوں میں عقل اور دانش کے معیار نے بھی ایک الگ صورت اختیار کرلی ہے جو شخص اسمارٹ فون کا استعمال جانتا ہے ۔ اس کے ذریعے پیغامات پڑھ لیتا ہے اور ان پیغامات اور تصاویر کو اپنی ذہنی سطح کے مطابق ترامیم و اضافوں کے ساتھ پھیلا سکتا ہے وہ دانشور ہے۔ کتاب، مطالعہ،تقابلی مطالعہ ، اہل علم کی مجلس اور دلیل کی اہمیت ان کی نظر میں معنی نہیں رکھتی ہے۔ ایسے پراگندہ ماحول میں امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔گرامی قدر خورشید ندیم کے ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک مجلس کا اہتمام ہوا۔ جس میں مختلف فکر اور نظریات کے حامل دانشوروں نے قومی مسائل کی تفہیم میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی۔ ایسے ہی جیسے مصر میں الوسطیہ قائم ہوئی تھی۔ ہمارے ارباب اختیار اور اقتدار و سیاست عرب بہار سے تو سبق نہ سیکھ پائے، لیکن اہل دانش نے مصر کی الوسطیہ کی طرز پر فکری مجالس کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح لاہور میں معروف دانشور الطاف جاوید صاحب مرحوم اور پروفیسر محمد عثمان مرحوم نے اسّی کی دہائی میں ’’علامہ اقبال ڈاکٹر علی شریعتی ریسرچ سنٹڑ کی بنیاد رکھی تھی ۔ اس ادارے کا نصب العین احیائے مذہب، اسلامی نظریہ کی تشکیل جدید اور ملت اسلامیہ کے اتحاد اور اس کی نظریاتی تربیت جیسے اہم نکات اور موضوعات تھے۔ مشہور دانشور محمود مرزا صاحب مرحوم نے بھی لاہور میں ایک مجلس تشکیل دی تھی جس کے زیر اہتمام عصرِ حاضر کے سیاسی، معاشی، سماجی اور فکر ی مسائل پر مکالمہ ہوتا تھا۔ اقبالیات اور اقتصادیات کے ماہر کے ایم اعظم صاحب نے بھی ایک مجلس لاہور ہی میں قائم کی تھی جس کی ابتدائی مجالس کے لیے عصرِ حاضر کے مفکر اور عالم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ادارے المورد کے دروازے وا کیے تھے۔ خدا کرے کہ فکری ریاضت کی یہ حالیہ کاوش مؤثر کردار ادا کر پائے اور سماج کا شعور ارتقا ء کی منازل طے کرسکے۔ آمین


ای پیپر