’امجد فہمی‘
25 جنوری 2019 2019-01-25

شعر و ادب اور اُس سے وابستہ شخصیات کسی معاشرے کی تہذیب اور اُس میں پائے جانے والے فنون کی عکاسی کرتی ہیں۔ ادبی شخصیات اپنی تخلیقات اور خدمات کی بدولت ادب کو اُس نہج پر لے آتے ہیں جہاں اُسے کسی معاشرے یا قوم کی شناخت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں بھی متعدد ایسی شخصیات سامنے آئیں جو محبوب شخصیات کے طور پر تسلیم کی گئیں اور اُن کی تخلیقات کو پسندیدگی کی سند عطا ہوئی۔ لوگ ان ادبی شخصیات اور ان کے ادب پاروں سے محبت اور وارفتگی رکھتے ہیں۔ امجد اسلام امجد بھی اردو ادب کی اُنہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی شاعری کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اُن کی شخصیت کو بھی اُن کی شاعری کی طرح قبول عام کی سند حاصل ہوئی۔ لوگ ان کی شاعری کے دیوانے ہیں۔ رومانویت ان کی شاعری کا ایک خاص وصف رہا ہے۔ ان کی گفتگو میں بھی ایک خاص کاٹ ہے۔ جملہ ایسا پھینکتے ہیں کہ بڑے بڑے مزاح نگار بھی ایسا جملہ خال خال ہی کہتے ہوں گے۔ اں کی گفتگو سن کر لگتا ہے کہ اُنہیں ایک مزاح نگار ہونا چاہیے لیکن وہ شاعر ہیں اور وہ بھی سنجیدہ اور رومانوی دونوں۔ رومان بلاشبہ ایک سنجیدہ کام ہے۔ انہوں نے اپنے فن، اپنے اسلوب اور اپنے وصف سے رومان کیا ہے۔ یوں لگتا ہے امجد اسلام امجد کو کام سے ایک خاص رومانس رہا ہے۔ انہوں نے جو کام بھی کیا اعلیٰ پائے کا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امجد اسلام امجد ہمیشہ نمایاں اور منفرد دکھائی دئیے۔ بلاشبہ انسان کو اُس کاکام ہی ہے جو منفرد شناخت دیتا ہے۔ کام سے کچھ اور حاصل ہو نہ ہو عزت ضرور حاصل ہوتی ہے اور عزت انمول ہے جو دولت سے بھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ امجد اسلام امجد اُردو ادب کے اُن لیجنڈز میں سے ہیں جنہیں اﷲ نے عزت بھی دی اور نام بھی دیا۔ حال ہی میں جہلم بک کارنر نے ڈاکٹر سید تقی عابدی کی تحریر کردہ کتاب ’’ امجد فہمی ‘‘ شائع کی ہے جو درحقیقت امجد اسلام امجد کے جہانِ شعر کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ ہے۔

کتاب کا انتساب ’’برصغیر کی مشترکہ اُردو تہذیبی اقدار اور اُن کے پرستاروں کے نام‘‘ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ان دنوں ٹورنٹو (کینیڈا) میں مقیم ہیں اور بیسوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ امجد اسلام امجد کے جہانِ شعر کے حوالے سے شائع ہونے والی کتاب امجد فہمی اُردو ادب ایک منفرد اور تاریخی کاوش کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ کتاب کے پیش لفظ میں مصنف لکھتے ہیں ’’ امجد ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں لیکن ان کی شاعری دوسری تخلیقات کے مقابل توانا، نمایاں اور افضل ہے۔ اس لئے امجد فہمی دورِ حاضر کی ضرورت اور اُردو شعر و ادب کی ترقی کی ضامن بھی ہے اور اسی وجہ سے یہاں صرف ان کی شاعری کا تجزیاتی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اس سیرِ گل گشت سے عامی اور عالم دونوں مستفید ہوسکیں‘‘ مصنف نے ٹی ایس ایلٹ کے ایک قول کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں ’’جس زبان میں ادبِ عالیہ موجود ہو وہ فنا نہیں ہوسکتی‘‘۔

اُردو ادب کی ترقی و ترویج میں امجد اسلام امجد کا نام ایک حوالے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کی مطبوعات جو کہ کوالٹی مطبوعات ہیں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا احاطۂ تحریر میں لانا اور وہ بھی کسی ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔ سیاحت، ٹی وی سیریز، طویل دورانئے کے ڈرامے، ڈرامائی تشکیلات، مختصر ڈرامے، بچوں کے ڈرامے، اسٹیج ڈرامے، پنجابی ڈرامے، فلمیں، مختلف پروگرامز کی میزبانی، آڈیو البمز اور سب سے بڑھ کر ان کی شاعری ان کا کسب کمال ہے۔ امجد فہمی میں صرف ان کی شاعری کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور ان کی حمدیہ، نعتیہ سمیت ان کی شاعری کی مختلف جہتوں کو تجزئیے کے پُل صراط سے گزارا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امجد فہمی میں امجد اسلام امجد کے منتخب نثر پاروں پر مبنی نثری انتخاب بھی شامل اشاعت ہے۔ امجد فہمی میں امجد اسلام امجد کی زندگی کی عکاسی ان کی نادر اور نایاب تصاویر کے ذریعے کی گئی ہے۔ اُن میں سے بہت سی تصاویر یقیناً ایسی ہوں گی جو اُن کے پرستاروں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہوں گی۔ اس طرح ’ امجد فہمیامجد اسلام امجد کے پرستاروں اور دنیا بھر میں موجود اردو ادب کے شائقین کے لئے ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کے بغیر اردو ادب سے متعلق کوئی لائبریری یا ذخیرہ ناممکن گردانا جائے گا۔ امجد اسلام امجد پر اب تک ۳۰ سے زائد تھیسس اور مقالے جن میں ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق بھی شامل ہے لکھے جاچکے ہیں۔ امجد فہمی کی اشاعت سے مختلف سطح پر تحقیق کرنے والے ریسرچ سکالرز کا کام بہت آسان ہوگیا ہے کہ امجد اسلام امجد کی خدمات اور کاوشوں کے حوالے سے امجد فہمی اب ایک ریفرنس بُک کا درجہ رکھتی ہے۔ یوں امجد فہمی کی اشاعت پر کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید تقی عابدی اور جناب امجد اسلام امجد مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی بدولت اردو ادب کے شائقین کے لئے ایک انمول کاوش سامنے آئی ہے جس سے ٹی ایس ایلٹ کے اس قول کو تقویت ملتی ہے کہ ’’جس زبان میں ادب عالیہ موجود ہو وہ فنا نہیں ہوسکتی‘‘۔


ای پیپر