تذکرہ رفقائے کار ہنوز جاری۔۔۔!
25 جنوری 2019 2019-01-25

پچھلی صدی کی ستر اور اَسی کی دہائیوں میں راولپنڈی کے ممتاز تعلیمی اِدارے ایف جی سرسید سیکنڈری سکول و ایف جی سرسید کالج میں تعینات بہت سارے رفقائے کار کا تذکرہ میں نے اپنے کالموں میں کیا ہے۔ چند ایک کرم فرماؤں کا ذکر خیر باقی ہے۔ اِس کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ محترم اے بی ناشر (اللہ بخش ناشر)مرحوم اکتوبر 1977ء میں ایف جی سرسید سیکنڈری سکول کے پرنسپل بن کر آئے۔ وہ لمبے عرصے تک (غالبا1992ء کے شروع تک)یہاں پرنسپل رہے۔ اللہ غریقِ رحمت کرے ناشر صاحب مرحوم انتہائی شریف النفس، حلیم الطبع، متحمل مزاج اور بردبار لیکن کسی حد تک کمزور شخصیت کے مالک تھے۔ وہ کسی کو ناراض کرنا نہیں جانتے تھے اور اپنے افسرانِ بالا کو راضی رکھنے کا ہنر بھی اُنہیں آتا تھا۔ سٹاف ممبران کے ساتھ اُن کے مراسم اچھے تھے۔ تقریباً سبھی یہی سمجھتے تھے کہ اُنہیں ناشر صاحب کا اعتماد حاصل ہے۔ تاہم میں کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر قاضی محمدعیاض، محترم امیر ملک ، عبدالحمید قریشی مرحوم، صادق چغتائی مرحوم، محترم سر خالد نواز اَور راقم سے خصوصی شفقت فرماتے تھے۔ ایف جی کینٹ اینڈ گیریژن ڈائریکٹریٹ جی ایچ کیو راولپنڈی کی طرف سے مجھے سال 1985ء کے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ ملا تو یقیناًیہ اُن کے مُجھ پر خصوصی اعتماد کا نتیجہ تھا کہ بطورِ پرنسپل اُنہوں نے میرے نام کی نامزدگی (Recommendation)کی تھی۔ ناشر صاحب مرحوم بلا شبہ ایک اچھے ورکنگ ٹیچر تھے۔ جو اِدارے کی تمام ورکنگ کو سمجھتے اور ذاتی طور پرتمام سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ اُن کے دَور میں سرسید سکول کے فیکلٹی ممبران میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ جماعت چہارم سے لے کر جماعت دہم تک سیکشنز اور سٹوڈنٹس کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ناشر صاحب مرحوم کسی حد تک کثیر العیال تھے۔ اُن کے بڑے بیٹے طارق ناشر مسلم کمرشل بنک میں خدمات سر انجام دینے کے بعد کچھ عرصہ قبل ذمہ دار حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ چھوٹے بیٹے سہیل ناشر سکول میں ہمارے شاگرد رہے۔ اُنہیں فوٹو گرافی کا شوق تھا۔ پریس فوٹوگرافر کے طور پر کام کرتے رہے ۔ آج کل غالباً امریکہ میں ہیں۔

محترم ناشر صاحب مرحوم کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن اِسی پر اتفاق کرتے ہیں ۔ سر خالد نواز میرے بڑے اچھے رفیقِ کار ، خوشگوار اور ناخوشگوار دنوں کے ساتھی، مرّبی اور مہربان رہے ہیں ۔بڑے عرصے تک وہ سرسید سکول میں بطور نائب ناظم امتحانات میری معاونت کرتے رہے۔ وہ سرسید سکول سے ہی بطورِ پرنسپل (19ویں گریڈ) ریٹائر ہوئے۔ اُن کے دونوں بیٹے ذیشان خالد جو فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہیں اور نعمان خالد جو ایک پرائیویٹ آرگنائزیشن سے وابستہ ہیں سرسید سکول میں ہمارے شاگرد رہے۔ خالد صاحب اپنے بچوں اَور اُن کی اولاد کے ساتھ آج کل ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ حالانکہ ریاضی اور فزیکس کے اچھے اُستاد ہونے اَور وسیع روابط رکھنے کی بنا پر ہوم ٹیوشنز یا کسی پرائیویٹ اِدارے میں آج بھی اُن کی بڑی مانگ ہے۔ سر خالد نواز کے ساتھ ہی یا اُن سے کچھ آگے پیچھے سرسید سکول میں جو ٹیچرزتعینات ہوئے اُن میں سے میں پہلے دو مرحومین مولانااظفر علی خان اور سر ارشد ملک کا ذکر کروں گا۔ مولانااظفر علی خان جنہیں ہم مولانا بھائی کہتے تھے ریاضی میں ماسٹر تھے۔ اِتنا شریف النفس، حلیم الطبع، صابر اور نیک اطوار شخص میں نے شاید کم ہی دیکھا ہوگا۔ اُن کے بڑے بھائی احسان علی خان مرحوم بھی اُنہی کی طرح انتہائی نیک نام شخصیت کے مالک اور اسلام آباد فیڈرل گورنمنٹ سکول کے سربراہ تھے۔ مولانا اظفر علی خان کا کئی برس قبل90کے دہائی کے آخری برسوں میں اُدھیڑعمری میں انتقال ہو ا۔ ارشد ملک مرحوم لانبے قد اَور بھاری جسم کے مالک بیالوجی کے بڑے اچھے اُستاد تھے۔ ویسپا سکوٹر رکھا ہوا تھا۔ ہوم ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔ بعد میں ایک پُرانی کار لے لی۔ مہربان اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بھی نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ محترم اختر چوہدری ، جناب شاہد مرزا اَور جناب نبی بخش ضیاء ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں سرسید سکول میں تعینات ہونے والے اُستادوں میں نمایاں تھے۔ یہ تینوں بفضلِ تعالیٰ بقید حیات ہیں۔ اختر چوہدری اور شاہد مرزا کا مضمون فیزکس اور نبی بخش ضیاء کے مضمون بیالوجی اور کیمسٹری تھے۔ تینوں بطور پرنسپل ریٹائرڈ ہوئے۔ اختر چوہدری اِس وقت بھی کافی متحرک ہیں ۔اَور تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔ نبی بخش کی بھی یہی صورت ہے ۔ شاہد مرزا سے کافی عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی۔ ستر کی دہائی کے آخری برسوں اور اَسی کی دہائی کے شروع سالوں میں ہمارے ایک اور ساتھی قاری صادق حسین صدیقی تھے ۔ اِسلامیات اورقِراَت اِن کے مضامین تھے۔ مری روڈ پر ناز سینما کے عقب میں ایک مسجد اِمام اور خطیب بھی تھے۔ اُن کی بڑی خواہش تھی کہ کسی طرح ولایت(برطانیہ) چلے جائیں۔ سعی بسیار کے بعد وہ اس میں کامیاب رہے اور برطانیہ میں کسی مسجد کی غالباً اُنہیں اِمامت بھی مل گئی۔

یہاں مجھے اُسی دور کا ایک اہم واقعہ یاد آرہا ہے ۔ آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے 5جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم کر کے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھالا تو اُس وقت اُن کا چھوٹا بیٹا انوار الحق جس نے بعد میں راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیااَور ڈاکٹر بنا۔ سر سید کالج میں ایف ایس سی سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا۔ اُس دَور میں کالجز میں اِبتدائی فوجی تربیت کے لئے این سی سی (نیشنل کیڈٹ کور) کا نظام بھی قائم تھا۔ اِنٹر سطح کے سٹوڈنٹس کو فوجی انداز میں باقاعدہ مارچ پاسٹ ، رائفل چلانی اور نشانہ بازی کی تربیت دی جاتی تھی۔ کم از کم دو ماہ کی یہ تربیت ہوتی تھی۔ اِس کی تکمیل پر پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد ہوتا تھا اور سٹوڈنٹس کو اسناد بھی دی جاتی تھیں۔ این سی سی تربیت لینے والے سٹوڈنٹس کو اِس تربیت کے 20نمبر ملتے تھے جو پروفیشنل کالجز یا اعلیٰ تعلیم کے کالجز میں داخلے کے وقت اُن کے مجموعی نمبروں میں شامل کیے جاتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے جولائی 1977ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے کچھ عرصہ بعد سرسید کالج میں این سی سی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معاملہ سامنے آیا اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر و آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کو اِس میں بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا۔ کالج کی این سی سی کی بٹالین نے مارچ پاسٹ کیا۔ اَور اُنہیں سلامی پیش کی۔ این سی سی کی مارچ پاسٹ کی خاص بات یہ تھی کہ این سی سی کی ایک کمپنی کی کمانڈ ضیاء الحق کے صاحب زادے انوار الحق کر رہے تھے۔ وہ سلامتی دینے کے لیے پہنچے تو خوب تالیاں بجیں۔ تقریب کے آغاز میں تلاوتِ کلام مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺبھی پیش کی گئیں۔ جن کی مہمانِ خصوصی جنرل ضیاء الحق سمیت حاضرین نے خوب داد دی۔ ضیاء الحق مرحوم نے بعد میں اپنے خطاب میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے غالباً سالِ اول کے طالب علم جس نے اپنے سینے پر اسلامی جمعیت طلبہ کا بیج بھی لگا رکھا تھا کی تعریف کی اَور اُس کو والدین سمیت حکومت کے اخراجات پر عمرہ کرانے کا اعلان کیا۔ بعد میں غالباً اِ س طالب علم (شاید نعتِ رسول مقبول پیش کرنے والے طالب علم سمیت)مصر کی الازہر یونیورسٹی میں قرأت سیکھنے کے لئے بھیجا گیا۔ اِس سے ضیاء الحق کے دین سے لگاؤ کا پتہ چلتا ہے ۔جنرل ضیاء الحق کی بات چلی تو جنرل ضیاء الحق کا سرسید کالج کی این سی سی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہونا اُن کے مارشل لاء لگانے کے بعدغالباً کسی عوامی تقریب میں شریک ہونے کا پہلا موقع تھا۔ کچھ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ضیاء الحق مرحوم این سی سی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے فارغ ہوئے تو اپنی کار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ کچھ اخباری نمائندے اُن کے گرد جمع تھے۔ ضیاء الحق لگاتار Dun Hillکے سیگریٹ (ایک بجھتا تھا تو دوسرا سلگھا لیتے تھے) پئیے چلے جا رہے تھے اور اخباری نمائندوں سے بات چیت بھی کر رہے تھے۔ سٹوڈنٹس کا اُن کی گاڑی کے گرد کچھ زیادہ جھمگٹا ہو گیا اِس پر اُنہوں نے کالج میں این سی سی بٹالین کے انچارج میجر جن کا نام غالباً میجرارشدتھااُن کو بُلا کر تلقین کی کہ وہ سٹوڈنٹس کے ڈسپلن کی طرف بھی دھیان دیا کریں۔ ضیاء الحق مرحوم سرسید کالج کے اُس دور کے پرنسپل پروفیسر ایم ایچ ہمدانی سے بڑے متاثر تھے۔ بعد میں انہوں نے ہمدانی صاحب کو پاکستانی سکول و کالج جدّہ میں پرنسپل بنا کر بھیجا کہ وہ وہاں کے معاملات کی اِصطلاح کریں۔


ای پیپر