منی بجٹ نہیں معاشی اصلاحات کا پیکیج
25 جنوری 2019 2019-01-25

ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ بلند و بانگ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا پیش کردہ بجٹ مکمل طور پر عوامی ہے اور اس میں عوام کے مفاد کا ہر ممکن خیال رکھا گیا ہے اور اس نے جو منصوبے پیش کئے ہیں ان کی تکمیل کے بعد ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا اور معیشت کا ہر شعبہ پوری رفتار سے ترقی کرے گا لیکن ماضی میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بجٹ میں پیش کئے گئے بہت سے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ بگڑتی چلی گئی۔ مختلف ذرائع سے جاری ہونے والی رپورٹس بھی یہ واضح کرتی ہیں کہ وطنِ عزیز میں ہر سال غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بجٹ کے غریب دوست ہونے کے جو دعوے کئے جاتے ہیں وہ صرف خوش خیالی تک ہی محدود رہتے ہیں جس میں عام لوگوں کے لئے اعداد و شمار کی بازی گری دکھائی جاتی ہے۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے بڑے فخر سے ٹیکس فری قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے بعد کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا مگر چند ماہ بعد ہی ان حکومتی دعوؤں کے برعکس منی بجٹ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے۔

لیکن اگر پی ٹی آئی کے منی بجٹ کے حوالے سے بات کریں تو یہ منی بجٹ پیش کیا جانا مجبوری تھی۔ سابق حکومت مختصر المیعاد اقدامات کے ذریعے کام چلانے کی کوشش کرتی رہی۔ انہیں تو بجٹ صرف اپنے اقتدار کے عرصہ تک کے لئے بنانا چاہئے تھا لیکن انہوں نے پورے سال کا بجٹ بنا دیا اور اس طرح کی ترجیحات کا تعین کر دیا جو آنے والی حکومت کے لئے مسائل کا سبب بنے اور اگر وہ خود دوبارہ برسرِ اقتدار آ جاتے تو حالات میں تبدیلی کو بنیاد بنا کر کوئی ضمنی بجٹ لے آتے۔ حکومت اب اپنے دورِ اقتدار کے چھ ماہ مکمل کر چکی ہے ایسے میں وہ معاشی مسائل کو کافی حد تک سمجھ چکی ہے لہٰذا اسے معاشی اشاریوں کے حوالے سے اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہئے۔ بلا شبہ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ چھ ماہ پہلے قومی معیشت جس زبوں حالی کا شکار تھی۔ آج اس کی حالت اس سے کہیں بہتر ہے۔ مایوسی کی جگہ امید نے لے لی ہے اور سارے اقتصادی اشاریے معاشی حکمتِ عملی کے درست اور حکومتی کوششوں کے نتیجہ خیز ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ حالیہ منی بجٹ غریب دوست بجٹ ہے اس میں امیروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا جب کہ غریبوں کے لئے ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز کم اور کچھ پر ختم کی جا رہی ہے، سٹاک ایکسچینج کے لین دین پر 0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، ایکسپورٹر کو پرامزری نوٹ کے ذریعے بینک سے قرض مل سکے گا۔ کاروباری افراد بھی منی بجٹ میں صنعت کاروں کو دی گئی مراعات سے توقع کر رہے ہیں کہ اس سے سرمایہ کاری بڑھے گی۔ موجودہ حکومت کی سب سے اچھی بات ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں رہی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے منی بجٹ پیش کرتے ہوئے جن اہداف کو اپنے پیشِ نظر رکھا ہے اور ان کو حل کرنے کے لئے جو اقدامات تجویز کئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں ملک و قوم کو درپیش سنگین مسائل کا پورا ادراک بھی ہے اور محدود وسائل کے باوجود ان مسائل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور اس پس منظر میں انہوں نے غریبوں کے لئے بہت سی مراعات کا اعلان کیا ہے۔عوام کو قرضہ حسنہ فراہم کرنے کے لئے 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، زرعی قرضوں پر ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، کسانوں کے لئے ڈیزل پر ڈیوٹی 17 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کا اعلان، کھادوں کے ریٹ میں کمی جس سے کسان کیلئے 200 روپے فی بوری یوریا کی کمی ہو گی، آلاتِ جراحی پر ڈیوٹی کو کم کر دیا گیا ہے ، مہنگے موبائل فون پر ٹیکس زیادہ اور چھوٹے شادی ہال پر لگا 20000 روپے ٹیکس کم کر کے 5000روپے کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ منی بجٹ نہیں معاشی اصلاحات پیکیج ہے اور امید ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے اقتصادی بحالی، افراطِ زر پر کنٹرول ، مقامی وسائل کو متحرک کر کے خود انحصاری کی منزل کی طرف پیش قدمی، غربت میں کمی، بیروزگاری کے خاتمے، سرمایہ کاری کی فضا بہتر بنانے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماضی میں پاکستان کی تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقہ، اشرافیہ کے اس یقین کا کہ " بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے" کھلم کھلا ناجائز فائدہ اٹھا تارہا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ جو کچھ جمہوری دور میں ہوتا رہا ہے وہ تقاضوں کے برعکس ہوا ۔ یہ ثابت شدہ کیس ہے کہ پاکستانی حکمران طبقہ نتائج سے بے پردہ ناجائز مفادات کے حصول کے لئے جمہوریت کے ساتھ بد ترین سلوک کرنے میں قطعی کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ ملکی وسائل پر قابض یہ جمہوریت پسند نہیں عیش پرست تھے جو قومی خزانے، انتظامی اختیارات اور عوامی امانتوں کو روایتی جاگیردار کی بگڑی اولاد کی طرح روندتے رہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر موجودہ حکومت کو معاشی محاذ پر سنگین ترین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس قوم میں تمام تر خامیوں کے باوجود مشکلات کے پہاڑوں کے سامنے پوری ثابت قدمی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کی قوت موجود ہے اگر اسے ایسی مخلص اور جرأت مند قیادت میسر آ جائے جو صحیح سمت میں اس کی رہنمائی کر سکے تو وہ آج بھی اپنے اندر معجزہ نما کارکردگی دکھانے کی تمام تر صلاحیت رکھتی ہے۔


ای پیپر