شہباز شریف پارلیمنٹ میں نہیں آئے گا تو وزیراعظم بھی نہیں آسکے گا‘مسلم لیگ ن
کیپشن:   Image Source : Facebook
25 جنوری 2019 (19:38) 2019-01-25

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن)نے تحریک انصاف کی شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کیے جانے کے اشارے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قائد حزب اختلاف ایوان میں نہیں آئے گا تو پھر قائد ایوان بھی نہیں آئے گا۔

جمعہ کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر سینئر رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم آتے اور جاتے رہتے ہیں لیکن سب سے محترم نظام اور ادارے ہیں‘اگر پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ میں یہ ماحول رکھنا ہے ‘تو ہم تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹوئٹ کی زبان استعمال کرکے دھمکیاں دی گئیں‘پارلیمنٹ اور اسپیکر کا احترام تک نہیں کیا گیا‘ماضی میں بھی انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا اب اگر حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کرنا تو یہ معاملہ نہیں چل سکے گا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ٹوئٹ کرنے والوں کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت چلتی رہے لیکن نمبر بڑھانے کے لیےیہ لوگ گالم گلوچ کرتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ عوام کے سامنے مذاق بنے‘ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ فعال رہے لیکن اگر یہ راستہ اپنایا گیا تو ہم اسی راستے پر جانے کو تیار ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 6 ماہ کے بعد وزیر اعظم ایوان میں آئے اور ناراض ہوکر چلے گئے‘ہم تو ان کا تلاش گمشدہ کا اشتہار دینے لگے تھے کہ وہ اچانک خود آگئے اور میرا خیال ہے کہ ایوان میں بیٹھنا ان کی مزاج پر گراں گزرا ہے‘آگے آگے دیکھیں تبدیلی والے بھی بھگت لیں گے۔اس موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم میں لکھا ہوا ہے جو اس کا استعمال کرے گا اس سے سوال ہوگا لیکن ساتھ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ سیاسی طور پر بے نقاب لوگ اس کا استعمال نہیں کریں گے اور اگر ایمنسٹی کے بعد بھی کوئی اکاونٹس یا جائیداد سامنے آتی ہے تو اس کی کڑی سزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنی باجی صاحبہ کے لیے یہ حکم جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی یہ پہلے سے ایف بی آر کے قانون سے متعلق پاس ہونے والے فنانس بل میں موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو فنانس بل پاس کرکے گھر چلی گئی‘اس پر کوئی بحث نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں پہلا بل پاس کیا ہے یہ ججز کی تعداد بڑھانے کا بل تھا لیکن صوبائی کوٹے کے بارے میں کوئی جواب نہیں آیا‘ ہم چاہتے تھے جو شخص بھی ہائی کورٹ کا جج بننے آرہا ہے وہ اپنے اثاثے ظاہر کرے‘تاہم بدقسمتی سے حکومتی بینچ نے اس بات کی اجازت دےدی ہے کہ ٹیکس چور بھی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج بن سکتے ہیں۔

سابق وز یر اعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے 3 ٹوئٹ کیے ہیں‘جس میں اپوزیشن لیڈر اور اپوزشین کو دھمکی دی گئی ہے‘حکومت پارلیمنٹ کو دھمکیاں دے رہی ہے‘اسپیکر اسمبلی کو بتا دیا ہے کہ اراکین کا تحفظ آپ نے کرنا ہے‘ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں نہیں آئے گا تو پھر لیڈر آف دی ہاو¿س(قائد ایوان)بھی نہیں آئے گا۔لیگی رہنما نے کہا کہ نعیم الحق کی کوئی حیثیت نہیں‘جب معاون خصوصی بولتا ہے تو سمجھیں وزیراعظم بولتا ہے‘تاہم ہمیں اسپیکر نے معاملے پر نوٹس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔


ای پیپر