سانحہ ساہیوال پر حقیقت پسندانہ کالم
25 جنوری 2019 2019-01-25

سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے ذیشان کو دہشت گرد ثابت کرنا ضروری ہے کہ یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے آپ سی ٹی ڈی کے متنازعہ آپریشن کو جائزیت عطا کرسکتے ہیں،یہ اختیار اور طاقت والوں کی سوچ ہے ورنہ عقل اور ضمیر والوں کا کہنا ہے کہ ذیشان کے کسی دہشت گردکے ساتھ رابطے ثابت بھی ہوجائیں تو اس پر گولیاں برسانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیا اس سے پہلے احسان اللہ احسان پر گولیاں چلائی گئی ہیں مگرمان لیجئے ذیشان کا استعمال یہی تھا جو استعمال کر لیا گیا ہے۔دنیا کی کوئی بھی مہذب ریاست مقدمہ چلائے بغیر اپنے شہریوں کو موت کی نیند سلانے کا اختیار اپنے اہلکاروں کو نہیں دے سکتی مگر یہ بات مہذب ریاستوں کے لئے ہے، ہم تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، جب جنگ سے فارغ ہوں گے تو مہذب ہونے کی عیاشی بھی کر لیں گے۔

چونگی امرسدھو ،لاہور کے علاقے میں فیروز پور روڈ پر چینی نمونے پربنے ہوئے شنگھائی برج سے مسجد چوک کی طرف جائیں تو اندر گلیوں میں خلیل اور ذیشان کے گھر ہیں، ایک گلی کے کونے پر لکھا ہوا ہے انصاف دو یا ہمیں بھی مار دو اور اس پورے علاقے میں انصاف کا مطلب صرف یہ ہے ذمہ دار اہلکاروں اور افسران کوفوری سماعت کے بعد سرعا م پھانسی پر لٹکا دیا جائے مگر مجھے فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ پنجاب کے وزیر قانون راجا محمد بشارت کے مطابق حکومت نے جو کارروائی کرنا تھی وہ کر دی ہے یعنی سی ٹی ڈی کے بڑوں سے ان کے عہدے اور اختیار چھین لئے گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے عہدوں سے الگ ہونے کے بعد بھی انہیں تنخواہیں ملتی رہیں گی اور عین ممکن ہے کہ وہ بہت جلد دوبارہ کسی طاقت ور عہدے پربراجمان ہو ں گے، انہیں حق ہے کہ وہ اس دوران چھٹیاں انجوائے کریں، واک کریں، کلب جائیں اور گولف کھیلیں یا مختلف یونیورسٹیوں میں آئین ، قانون، انصاف اور اس جیسے دوسرے موضوعات پر لیکچر جھاڑیں۔ سی ٹی ڈی کے سربراہ رائے طاہر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ میر مرتضیٰ بھٹو کو ہلاک کرنے کی کارروائی کا بھی حصہ تھے، وہ بطور اے ایس پی اس آپریشن میں شامل تھے، بعض ذرائع کے مطابق گرفتار بھی رہے اورکچھ ہی عرصے میں ترقی پانے کے بعد لاہور جیسے اہم شہر کے ڈی آئی جی آپریشنز تعینات ہو گئے، کیا میر مرتضی بھٹو کو قتل کرنے پر رائے طاہر کا کچھ بگاڑا جا سکا، کیا سینکڑوں لوگوں کو بے گناہ مار دینے پر راﺅ انوار کا بال بھی بیکا کیا جا سکا یا سنگین غداری کے ملزم پرویز مشرف کو کسی عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا جا سکا تو پھرسانحہ ساہیوال کے ٹٹ پونجئے مقتولین کس کھیت کی مولی ہیں کہ ان کی خاطر ریاست اپنے قیمتی اثاثوں کو ذلیل ہونے کے لئے قانون کے سامنے پھینک دے۔ ابھی مقتولوں کے وارث شور مچا رہے ہیں ، بار بار فیروز پور روڈ بلاک کی جا رہی ہے، میڈیا بھی ریٹنگ کے چکر میں کوریج کئے جا رہا ہے مگر سب جانتے ہیں کہ یہ سب چائے کی پیالی کا ابال ہے، اسے ٹھنڈا ہونے میں کتنی دیر لگے گی۔ سوشل میڈیا کو کریڈٹ دیا جا رہا ہے کہ اس نے اس سانحے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر وہ سب جو سانحہ ساہیوال کے بعد منہ چھپاتے پھر رہے تھے وہ منی بجٹ کی ایسی ایسی خوبیاں بیان کر کے حکومت کو داد دے رہے ہیں جو شائد خود عمران خان اور اسد عمر کے علم میں بھی نہ ہوں۔

”انصاف دو یا مار دو“ کے جذباتی نعرے میں آپشن واضح ہے کہ آپ کو من پسند انصاف نہیں مل سکتااگر آپ کے خیال میں انصاف یہ ہے کہ ذیشان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات صرف اس کی ماں، بھائی اور محلے داروں کی ان دلیلوں پر واپس لے لئے جائیں، سوال کیا جائے کہ ذیشان اگر دہشت گرد تھا تو ایجنسیوں نے پہلے کبھی تفتیش کیوں نہ کی، اگر وہ گاڑی مشکوک تھی تو گولیاں برسانے سے پہلے کبھی وہ قبضے میں کیوں نہیں لی گئی۔ یہ ثابت کرنا کہ ذیشان دہشت گرد نہیں تھا اتنا ہی مشکل اور ناممکن ہے جتنا یہ ثابت کرناکہ مجیب الرحمان غدار نہیں تھا۔ اس وقت تمام حکومتیںاور ادارے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ذیشان خود کش فدائی بننے کا خواہش مند تھا ، اس کی کسی مبینہ دہشت گرد کے ساتھ سیلفیاں اورپیغامات دکھائے جا رہے ہیں اور اب کوئی پاگل ہی ہو گا جو یہ کہے کہ ہوم سیکرٹری کے دکھائے ہوئے ثبوتوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔ ذیشان کو دہشت گرد ثابت کرنا ہی دہشت گردی کے خلاف مقدس جنگ کے عظیم تقاضوں کی تکمیل ہے ورنہ اس جنگ کا خوبصورت اور قیمتی محل دھڑام سے گر جائے گا۔ اگر آپ کے خیال میں انصاف یہ ہے کہ تمام سولہ اہلکاروں کو اس بربریت پر پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو یہ بھی ممکن نہیں کہ راجا بشارت کے مطابق سی ٹی ڈی کے صرف پانچ اہلکاروں پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلے گا اور حقیقت پسندی کا تقاضا یہ بھی ہے باقی گیارہ اہلکاروں کے بارے کوئی سوال نہ کیا جائے۔اس سے پہلے بھی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حیدر گیلانی کے اغواکا واقعہ ذیشان جیسے نجانے کتنے ہی لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح میر مرتضی بھٹو کا قتل بی بی کی حکومت کے لئے شرمناک تھا، ماڈل ٹاون کا کیس مسلم لیگ نون کے لئے کلنک کا ٹیکا ہے بالکل اسی طرح سانحہ ساہیوال پی ٹی آئی کے چہرے کی کالک بنا دیا گیا ہے مگر تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ واقعات ان ہونے اور حیران کردینے والے ہرگز نہیں ہیں۔

ہمیں یہ سوچنے کی بھی ہرگز ضرورت نہیں کہ مرحوم ومغفورخلیل کے کم سن بیٹے عمیر کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کیا ہو گی، وہ اس ریاست سے کتنی محبت کرے گا کہ بڑے بڑے مقاصد کے حصول میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں نہیں سوچی جانی چاہئیں، یہ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ بھی نہیں۔باتیں وہ سوچنی چاہئیں جن پر عمل ہو سکے اور قابل عمل یہی ہے کہ خلیل کے گھر والے د و کروڑ روپے لے لیں اور ا س موقعے پر وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون سے پھولوں کے تحفے بھی لیں اور ان کے ساتھ سلفیاں بھی بنوائیں۔ مان لیا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے اور کسی مناسب علاقے میں پانچ مرلے کا گھر ہی ایک کروڑ روپے سے کم میں نہیں آتا مگر وہ چونگی امرسدھو کی تنگ تنگ گلیوں میں رہنے والے ہیں اور حکمران جانتے ہیں کہ ان غریب غربا لوگوں کے لئے دو کروڑ روپے ایک بڑی رقم ہے۔ خلیل اس کی بیوی اوراس کی بیٹی سب مل کر تین ہوئے ، ذیشان کے گھر تو تحریک انصا ف والے تعزیت تک کے لےے نہیں جا رہے لہذا اس کی پے منٹ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،لہذا پیارے غریب قارئین مان لو،ایک بندے کے بدلے چھیاسٹھ لاکھ، چھیاسٹھ ہزار ، چھ سو چھیاسٹھ روپے بہت ہوتے ہیں کہ یہاں تو دس ، دس روپوں کے لئے بندے بندوں کو مار دیتے ہیں۔اگر مقتولین کے گھر والے انصاف کے خواہاں ہوں تو یہ دوکروڑ روپے آنے والے دنوں میں جب میڈیا ہائپ اور جذباتیت ہوا ہو چکی ہو گی تو مقدمہ لڑنے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ میں جانتا ہوںکہ ا س وقت لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ سمیت بہت سارے وکیل ان سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں مگر مفت کے وکیل مقدمہ انصاف کے لئے نہیں بلکہ شہرت اور واہ واہ کے لئے لڑتے ہیں۔

حقیقت پسندی یہ ہے کہ خلیل کی فیملی کو ملنے والے دو کروڑ روپوں کو چچاوں وغیرہ سے بھی بچانے کا اہتمام کیا جائے مگر یہ کیسے ہو گا اس بارے بھی دینے والوں کو ہی کچھ اہتمام کرنا ہو گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس مشہور زمانہ کیس اور ملنے والے دو کروڑ روپوں کی بنیاد پر زندہ بچ جانے والے کم سن عمیر اور اس کی بہنوں کو کینڈا یا آسٹریلیا سمیت کسی ملک میں پناہ مل جائے اور ذیشان کے اہل خانہ بھی ادھر ادھر ہوجائیں کہ ہم اس وقت دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور انگریز تو صرف کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اور ہم عملی طور پر کر کے دکھا دیتے ہیں۔


ای پیپر