Noshin Iftikhar,salman akram raja,ecp,election commision,daska,na-75
25 فروری 2021 (13:36) 2021-02-25

اسلام آباد : الیکشن کمیشن میں ڈسکہ این اے 75 میں مبینہ دھاندلی کیس میں نوشین افتخار کے وکیل نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے حلقے میں ٹرانسفر پر پابندی لگا ئی گئی تھی لیکن حکومت نے ذوالفقار ورک کو ڈی ایس لگا دیا ۔

الیکشن کمیشن میں آج ڈسکہ این اے 75 دھاندلی کیس کی سماعت ہوئی جس میں دلائل  دیتے ہوئے نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر ڈی ایس پی ذوالفقار ورک کو نوٹس جاری کیا اور انہیں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن فراڈ کرتے ہوئے ذوالفقار علی کو ڈی ایس لگایا گیا کیونکہ ذوالفقار علی جو ہیں جو ذوالفقار ورک کا ہی دوسرا نام ہیں۔

جس پر الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ ذوالفقار علی اور ذوالفقار ورک ایک ہی ہیں۔جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جی بالکل یہ دونوں ایک ہی شخص ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جن حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی پوزیشن مضبوط تھی وہاں پر ٹرن آئوٹ 85 سے 86 فیصد تک رہا جبکہ جہاں پر مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مضبوط تھے وہاں پر ٹرن آئوٹ کم رہا ۔خاص طور پر شہری حلقوں میں جہاں پر مسلم لیگ(ن) مضبوط تھی وہاں پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیااور ان حلقوں میں ٹرن آئوٹ کی شرح 18 سے 22 فیصد تک رہی۔


ای پیپر