Ata-ur-Rehman columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
25 فروری 2021 (11:27) 2021-02-25

جس انداز کی اور ناقابل بیان دھاندلی ڈسکہ (سیالکوٹ) کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 پر خالی شدہ نشست کے ضمنی انتخابات میں ہوئی ہے… اس کا عشر عشیر بھی 2013 کے قومی انتخابات کے دوران ملک کے کسی حلقے میں نہیں ہوا تھا… اس کے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس چنائو کے خلاف ملک بھر میں پورے نظام سیاست کے اندر ہلچل مچا کر رکھ دینے والی وہ مہم بپا کی کہ پاکستانی ایوان ہائے حکومت کے در و دیوار ہل کر رہ گئے… انہوں نے اپنے الفاظ میں دھاندلی شدہ انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے نوازشریف کا فوری استعفیٰ طلب کیا… اس کی خاطر جس حد تک عوامی قوت مجتمع کر سکتے تھے اس سے کام لیا… طاہرالقادری صاحب کو ساتھ ملایا(یا انہیں ان کا ہم آواز بنا کر شانہ بشانہ لاکھڑا کیا گیا)… نواز کو دھمکی دی کہ فوری طور پر اقتدار چھوڑ دو بصورت دیگر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جائے گا اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ریاست کے خلاف غداری کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی… اس کے ساتھ طاہرالقادری کی خطیبانہ طاقت مجتمع کر کے دونوں نے اپنی اپنی جگہ مگر 14 اگست 2014 کو ایک ہی روز دھرنے کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کر دی… دارالحکومت کو گھیرے میں لے لیا… ریڈزون عبور کرنے پر اتر آئے… پاکستان ٹیلی ویژن کی سرکاری عمارت پر دھاوا بول دیا… ہر دو لیڈروں نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف جذبات کو آخری حد تک بھڑکانے کی سعی کی… قوم نہیں پوری دنیا کو یقین دلایا گیا نوازشریف کو رخصت کیے بغیر گھر واپس نہیں جائیں گے… تقریباً تمام چینل وقت کے وزیراعظم کے خلاف خان بہادر اور قادری صاحب کی آتشیں تقریریں نشر کرتے تھے … وہ جذبات سے لبریز ان خطابات میں صرف ایک بات پر زور دیتے تھے کہ 2013 کے چنائو میں زبردست ہیراپھیری ہوئی ہے … نوازشریف اسی کی طفیل وزیراعظم بنے… اب انہیں گھر کی راہ دکھائے بغیر چین سے نہیں بیٹھا جائے گا… اس مطالبے کے اندر غیرمعمولی شدت پیدا کرنے کے لیے طاہرالقادری نے قبریں کھدوا ڈالیں… کفن تیار کیے… عمران خان نے اس کی ہرگز پرواہ نہ کی کہ پاکستان کے عظیم ہمسایہ دوست عوامی جمہوریہ چین کے صدر چن ژی سی پیک جیسے اہم منصوبے کے افتتاح اور ہماری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں… لہٰذا ان کی سلامتی کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جائے… صدر چن ژ ی نے بددل ہو کر اپنے جہاز کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا اور پاکستان کا دورہ متاخر کر دیا… عمران خان مگر وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کے پُرزور مطالبے پر اڑے رہے… اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو مخل ہو کر کھلم کھلا کردار ادا کرنا پڑا… ثالث نظر آتے تھے اندر کچھ اور ہی کھیل کھیلا جا رہا تھا… معاملات نہ سلجھے… پورا نظام حکومت تعطل کا شکار تھا… طاہرالقادری اس دوران بوجوہ بوریا بستر لپیٹ کر اپنے کارکنوں سمیت گھر کو سدھار چکے تھے مگر ہمارا کرکٹ کا کھلاڑی وکٹیں اڑائے بغیر دم لینے کو تیار نہ تھا… پھر 16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی سکول کے اندر پرلے درجے کی دہشت گردی کا پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا انتہائی غمناک واقعہ ہوا… بے گناہ اساتذہ شہید ہوئے، پھولوں جیسے معصوم بچے والدین کو غمناک حالت میں چھوڑ کر اگلی دنیا کو روانہ ہوئے… اس واقعے کا سرغنہ احسان اللہ احسان ابھی تک کچھ محفوظ ہاتھوں میں بیرونی دنیا میں بیٹھا ہوا ہے… قوم کے ہر فرد کی آنکھ اشکبار تھی… خان بہادر کو بھی اوپر کہیں سے اشارہ ملا… دھرنے کے خاتمے کا اعلان کر دیا… طے پایا سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن دھاندلی کی تحقیقات کرے گا… اس نے رائے دی ضابطے کی خلاف ورزیاں یقینا ہوئی تھیں مگر اس حد تک دھاندلی نہ ہوئی کہ نتائج کو بدل کر رکھ دیتی… مگر عمران کے علاوہ اس ملک کے قاضیاں قضا چونکہ طے کر چکے تھے نوازشریف سے جان اس کے مطیع نہ ہونے کی بنا پر جان چھڑانی ہے اس لیے پانامہ کا کھڑاک رچا دیا… وہاں سے کچھ حاصل نہ ہوا تو دبئی میں اقامہ کے تحت اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ 

وصول نہ کرنے اور اس رقم کو کاغذات پر نہ لانے کی پاداش میں سپریم کورٹ سے مرضی کا فیصلہ حاصل کر کے اسے ایوان وزیراعظم سے چلتا کر دیا گیا… نااہل قرار پایا…

اس سب کے برعکس گزشتہ 19 فروری کو بروز جمعہ ڈسکہ کے ایک ہی حلقے کے ضمنی انتخابات میں جو کچھ ہوا ہے اس نے دھاندلی کی نئی تاریخ رقم کر دی … راتوں رات بیس پریذائیڈنگ آفیسر غائب کر دیئے گئے… اگلے روز صبح چھ بجے تک ان کا کوئی اتاپتا معلوم نہیں تھا… موبائل فون بند تھے… الیکشن کمیشن پریشان بیٹھا تھا… سیالکوٹ کی پوری حکومتی مشینری مفلوج نظر آتی تھی… چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب جیسے ہماری صوبائی انتظامیہ کے آخری ذمہ دارافسران گرامی پہلے کوئی جواب دینے کے قابل نظر نہ آئے… پھر ان کے فون بھی بند ہو گئے… غائب شدہ پریذائیڈنگ افسر چھ بجے علی الصبح ریٹرننگ افسر کے سامنے نمودار ہوئے… بہانہ تراشا دھند بہت تھی اس لیے بروقت نہ پہنچ سکے… پوچھا گیا موبائل فونز کو بھی دھند نے چاٹ لیا تھا… جواب ندارد… ووٹوں کے جو بیگ لے کر آئے تھے وہ کھولے گئے تو عجیب و غریب انکشاف ہوا… ڈسکہ کے تین سو سے زائد پولنگ سٹیشنز میں ووٹوں کا تناسب 35،40 فیصد تھاجبکہ ان 20 میں اسّی سے نوّے فیصد تک پرچیاں ڈالی گئیں… جو ناممکنات میں سے ہے… یوں پورے حلقے کے ووٹوں کا تناسب تحریک انصاف کے امیدوار کے حق میں بدل کر رکھ دینے کی سعی نامشکور کی گئی… وہ تو الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز کے ذریعے سارے سکینڈل کو طشت ازبام کر دیا ورنہ تحریک انصاف والے کب ماننے والے تھے… اب پیشکش کی جا رہی ہے جن معدودے حلقوں میں دھاندلی کے ارتکاب کا الزام ہے وہاں دوبارہ ووٹ ڈلوا لیجیے… اس کے برعکس مقابلے کی مسلم لیگ (ن) کا اصرار اور تقاضا ہے اس حلقے کا پورا انتخابی عمل مشکوک ہو کر رہ گیا ہے… تمام کا تمام ازسرنو چنائو ہونا چاہیے… دیکھئے الیکشن کمیشن سے کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے… ایسا ہی معاملہ بھٹو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کے دور کے آخری اور 1977 والے انتخابات میں ہوا تھا… مقابلے کے اپوزیشن کے اتحاد پی این اے نے سخت ترین دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے… ملک بھر میں مزاحمتی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی جو تحریک نظام مصطفی کے نام سے ہماری تاریخ کا حصہ بن چکی ہے… بھٹو صاحب زچ ہو کر رہ گئے تھے… بے بسی کے عالم میں انہوں نے ملک بھر میں چالیس کے قریب حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کی پیشکش کر دی… پاکستان قومی اتحاد نے اسے نہایت حقارت کے ساتھ مسترد کر کے رکھ دیا… زوردار مؤقف اختیار کیا کہ پورے کے پورے ملک کا انتخابی عمل مشکوک ہو کر رہ گیا ہے… لہٰذا پچھلے انتخابات کو کالعدم قرار دے کر پاکستان کے تمام کے تمام حلقوں میں یعنی قومی سطح پر ازسرنو چنائو کرایا جائے… بھٹوصاحب آسانی سے کب ماننے والے تھے… ڈٹے رہے… مگر عوامی ردعمل اتنا شدید تھا کہ ان جیسے عوامی لیڈر کو بھی ہار تسلیم کرنا پڑی… دوبارہ انتخابات کے انعقاد کی خاطر پاکستان قومی اتحاد کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آن بیٹھے… لیکن پلوں کے تلے سے پانی بہت بہہ چکا تھا… معاملہ کسی بھی جانب کی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں نہ رہا تھا… یار لوگ آڑ میں بیٹھے ہوئے تھے… انہوں نے شب خون مارا اور ملک ہمارے کا چہرہ تیسرے اور گیارہ سالہ مارشل لاء کے دھبوں سے بدنما ہو گیا… حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والی شرمناک دھاندلی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں کا اگر یہ مطالبہ ہے کہ پندرہ بیس کی بجائے پورے حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنوں میں ازسرنو انتخابات کرائے جائیں تاکہ نتیجہ مکمل طور پر شفاف اور غیرجانبدارانہ طریقے رائے دہندگان کے آزادانہ فیصلے کی شکل میں برآمد ہو تو یہ ایسی ڈیمانڈ نہیں جسے غیرقانونی یا غیراخلاقی قرار دیا جائے… اسے تسلیم کر لینے کی صورت میں جو نتیجہ بھی سامنے آئے وہ تنازعے کے خاتمے اور شفاف انتخابی عمل کی مثال بن سکتا ہے…

دوسری جانب 3 مارچ کی فیصلہ کن گھڑی قریب سے قریب تر آن پہنچی ہے… پارلیمان کے ایوان بالا (سینٹ آف پاکستان) کے وسط مدتی انتخابات ہوا چاہتے ہیں… عام حالات میں معمول کا آئینی اور جمہوری عمل ہے… لیکن آنے والے چنائو کے بارے میں کہا جا رہا ہے… حکومت اور اپوزیشن دونوں کی قسمتوں کا پانسہ بدل کر رکھ سکتے ہیں… اگر تحریک انصاف کو اس کی نمائندگی کے تناسب سے کم ووٹ ملے تو یہ امر اس کے اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ سکتا ہے اور پی ڈی ایم کی عمران خان کو فارغ کرنے کی تحریک کے لیے مہمیز ثابت ہو سکتا ہے… بصورت دیگر پی ڈی ایم نے جو زوروشور کے ساتھ عمران بہادر کو استعفے پر مجبور کرنے کی مہم برپا کر رکھی ہے اسے دھچکا پہنچ سکتا ہے… کہا جا رہا ہے اصل اور فیصلہ کن مقابلہ اسلام آباد کی ایک نشست پر ہو گا… جہاں موجودہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ (حکومت کی جانب سے) اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی (پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار) ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے… عمران حکومت کا پُرزور مطالبہ ہے کہ کھلے عام ووٹ ڈالے جائیں لیکن آئین کی دفعہ 226 سدّراہ بنی ہوئی ہے جو غیرمبہم الفاظ میں تقاضا کرتی ہے کہ ووٹ خفیہ طریقے سے ڈالیں جائیں گے… معاملہ تشریح کے لیے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے زیرسماعت ہے… دیکھیے کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے… اس کے ساتھ یوسف رضا گیلانی نے یہ کہہ کر قیاس آرائیوں کا نیا باب کھول دیا ہے کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ غیرجانبدار (NEUTRAL) ہے… واللہ اعلم بالصواب… مبصرین اس کا یہ مطلب لے رہے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے امکانات ہویدا ہیں… ہونا یہ چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کی جانب بھی خفیہ یا ظاہری رجحان نہ دکھائے اور انصاف کی مانند ایسا ہوتا نظر بھی آئے… تازہ ترین خبر کے مطابق حمزہ شہباز کی ضمانت منظور ہو گئی ہے تو کیا ہوائوں کا رُخ واقعی بدل رہا ہے…


ای پیپر