Shafiq Awan columns,urdu columns,epaper
25 فروری 2021 (11:26) 2021-02-25

پرویز رشید اس معاشرے میں سچائی اور ایمانداری سے جینے والی معدوم ہوتی نسل کے آخری دانوں میں سے ہے۔ وہ مزاحمت کی علامت ہے اور تمام جبر کے باوجود اپنے نظریے پر کھڑا ہے۔

پرویز رشید کا سب سے بڑا جرم پرویز رشید ہونا ہے۔ وطن عزیز میں ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل اے کے نیازی، ضیاء الحق، پرویز مشرف، شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی، پرویزالٰہی اور فیصل واوڈا، جسٹس (ر) ارشاد حسن خان، جسٹس (ر) انوارالحق، جٹس افتخار چودھری، جسٹس (ر) ثاقب نثار بنا جا سکتا ہے مگر پاکستان میں پرویز رشید بننا دشوار ہے۔ پرویز رشید نے ٹھیک کہا تھا اس کا جرم کچھ اور ہے اسے سزا کسی اور جرم میں دی جا رہی ہے۔ اس کا جرم یہ ہے کہ وہ انسان دوست سادہ آدمی ہے، کرپٹ نہیں ہے، اس کے خلاف کوئی نیب کیس نہیں ہے، اس کی اربوں کی پراپرٹی نہیں ہے، اس میں رعونت نہیں ہے، وہ عام آدمی کی طرح کرایہ کے گھر میں رہتا ہے اپنی گاڑی خود چلاتا ہے۔ اس کا سنگین جرم یہ ہے کہ دو بار وفاقی وزیر رہنے، نواز شریف شہاز شریف کے قریب ترین رہنے کے باوجود کوئی بینک بیلنس گاڑی بنگلے کیوں نہیں اس کے پاس۔ اس کے پاس ہے تو نظریہ اور لیڈرشپ سے وفا۔ آپ اس کے نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بنا پر اسے زندہ درگور نہیں کر سکتے۔ بقول ہمارے وزیر اعظم سینیٹ کے ٹکٹ کے لیے بولی 70 کروڑ روپے لگی ہے اور عدالتیں بھی جانتی ہیں ایک سے ایک مافیا پارلیمنٹ میں بیٹھا ہے۔ لیکن ان کے لیے سب در کھلے ہیں اگر بند ہے تو ایک سچے اور کھرے آدمی کے لیے۔ کیونکہ وہ قلم والوں کے ساتھ ہے توپ والوں کے ساتھ نہیں۔

میں نے ایک اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار سے پرویز رشید کے سلسلے میں بات کی تو اس نے کہا کہ اس کی ایمانداری واحد وجہ ہے جو اسے مزید کسی ابتلا میں بچانے سے روک رہی ہے ورنہ وہ آصف زرداری اور شریف برادران سے بڑا لیڈر نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ غلط پارٹی میں ہے اسے تحریک انصاف میں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کہا اس کی سوچ پر تو پہرے نہ بٹھائیں اس پر ہواؤں کی پابندی تو نہ لگائیں، سانس تو مرضی سے لینے دیں۔ کہنے لگے سیاست اور اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اسے علم ہونا چاہیے اس ملک کا ’’بااثر طبقہ‘‘ اسے منتخب ایوانوں میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ یعنی اب ہماری سوچوں، آنکھوں، کانوں، چلنے پھرنے سمیت خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ تمام صلاحیتیوں کا استعمال اور جینے کا حق ایک ’’بااثر طبقہ‘‘ کے طے کردہ ضوابط کے مطابق ہو گا۔ حیف صد حیف۔

ہم نے تو 1947 سے اب تک صرف ایک ہی طریقہ واردات اپنا رکھا ہے اور وہ یہ کہ آوازیں ابھرنے نہ دو اس قوم کو ڈرا کر یا دبا کر رکھو تاکہ سر نہ اٹھا سکیں اور جو سر اٹھائے اس کو پرویز رشید بنا دو۔

ان باتوں سے یاد آیا کہ پرویز رشید کیوں نااہل ہوا۔ تحریک انصاف نے پرویز رشید کے کاغذات پر دیگر اعتراض بھی اٹھائے جن کی بنیاد پر کاغذات مسترد ہوئے۔ ان میں ڈان لیکس سر فہرست تھا اور پنجاب ہاؤس 95 لاکھ روپے کا نادہندہ ہونا شامل تھے۔ آخری اعتراض کا ذکر سب کرتے ہیں پہلے کا کون کریگا؟

حسن نثار صاحب کا تعلق گو کہ عمران خان کے حلقہ سے ہے لیکن کل وہ بھی پرویز رشید کو درویش منش سچا اور ایماندار سیاسی کارکن گردانتے ہوئے اس کے لیے اس نظام سے رحم کی درخواست کر رہے تھے۔ ان کا یہ کہنا کہ پرویز رشید کے سینیٹ میں جانے سے اس ادارے کے عزت و وقار میں اضافہ ہو گا یہ یقیناً پرویز رشید کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ لیکن ہم اپنے اصل ہیروز کو جائز مقام دلانے کے بجائے ان سے اظہار ہمدردی کر کے لمبی تان کر سو جاتے ہیں تا وقتیکہ ہمارے الفاظ کے لیے کوئی دوسری گردن تیار نہیں ہو جاتی۔

کہتے ہیں پرویز رشید نے اداروں کی توہین کی ہے۔ اول تو میں نہیں مانتا کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ کیا یہ اس توہین سے زیادہ ہے جو 16دسمبر 1971 کو پلٹن میدان میں کی گئی۔ پلٹن کے میدان میں پاکستان کا وقار قربان کیا گیا اور وقار بحال کرنے والے وزیراعظم کو 4 اپریل 1979 کو قربان کر دیا گیا۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو بڑھکیں لگانے والوں کو اپنا ہیرو مانے، قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے سیاستدان لومڑیوں کی طرح مکار اور دھوکے باز ہیں اور دانشور شعبدہ باز اور مداری، قابلِ رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے جلوس کے علاوہ کہیں اپنی آواز بلند نہیں کرتی۔ صد شکر ہے پرویز رشید اس قماش سے نہیں۔ لیکن ایک آواز کی جگہ دوسری آواز ابھرنے تک دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مجھے تو شک ہے کہ مشاہد اللہ خان کو بھی ’’خاموش‘‘ کیا گیا ہے۔ بہت چبھتا تھا نا ’’کسی‘‘ کو۔

پرویز رشید اپنی اپیل اگلی عدالت لے جانے سے گریزاں ہے کیونکہ اسے انصاف کی امید نہیں۔ یہ انصاف کا ترازو ایک ٹی وی شو میں ایک شعبدہ باز کی طرف سے فوجی بوٹ پوری قوم کے منہ پر مارنے پر تو اس طرف جھک جاتا ہے لیکن ایک سچے پاکستانی اور جمہوریت پسند پرویز رشید کے لیے نہیں۔

پرویز رشید کے اگلی عدالت میں اپیل نہ کرنے سے مجھے چیک (چیکو سلواکیہ) ادب سے ایک کہانی یاد آ گئی۔ ملاخطہ ہو۔

کسی جنگل میں ایک ’’خرگوش‘‘ کی اسامی نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کے لئے درخواست جمع کرا دی۔ ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعویدار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔

ریچھ نے اسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی، ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھا، کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑانے کے لئے چند سینئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھجوا دیا کہ وہ اصالتاً حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ریچھ ہے۔ دوسرے دن خرگوش نے کمیٹی کے سامنے پیش کر اور اپنے سارے کاغذات و ڈگریاں پیش کر کے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک ریچھ ہے۔کمیٹی نے ریچھ سے غلط دعویٰ دائر کرنے پر پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ خرگوش ہے؟ مجبوراً ریچھ کو اپنے تیار کردہ کاغذات پیش کر کے ثابت کرنا پڑا کہ وہ ایک خرگوش ہے۔

کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سچ یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے اور ریچھ ہی دراصل خرگوش ہے۔ اس لئے کسی بھی رد و بدل کے بغیر دونوں فریقین اپنی اپنی نوکریوں پر بحال اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔ ریچھ نے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر فوراً ہی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور واپسی کی راہ لی۔

ریچھ کے دوستوں نے کسی چوں و چراں کے بغیر اتنی بزدلی سے فیصلہ تسلیم کرنے کا سبب پوچھا تو ریچھ نے کہا: میں بھلا چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیسے کوئی بات کر سکتا تھا اور میں کیونکر ان کا فیصلہ قبول نہ کرتا کیونکہ کمیٹی کے سارے ارکان چیتے در اصل گدھے تھے، جبکہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ چیتے ہیں باقاعدہ ڈگریاں اور کاغذات بھی تھے۔

پرویز رشید ان بونوں سے نہ ڈرو تم ایک فائٹر ہو ریچھ نہ بنو، اگلا دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ مجھے یقین ہے انصاف ملے گا۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474  پر واٹس ایپ، سگنل اور ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر