Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
25 فروری 2021 (11:24) 2021-02-25

جوزف سٹالن نے کہا تھا کہ الیکشن کا فیصلہ ووٹ ڈالنے والے نہیں بلکہ ووٹ گننے کرنے والے کرتے ہیں۔ سٹالن چونکہ روسی اشتراکی نظام کا نگہبان تھا جہاںالیکشن نہیں ہوتے اس لیے اس کے اس قول کو اس کے دور میں جمہوریت کے لیے ایک طنز و مزاح سمجھا جاتا رہا لیکن ایک وقت آیا کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سٹالن صحیح کہتا تھا۔ اگر آپ پاکستان کے انتخابی طریقہ کار خصوصاً حالیہ ضمنی انتخابات کا منظر دیکھیں تو سٹالن کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ 

این اے 75 میں جس پر اسرار طریقے سے 20 پولنگ افسر بیلٹ بکس سمیت لاپتہ ہوئے اس سے پورا سسٹم چوں چوں کا مربہ نظر آتا ہے۔ آخر اس کا حل کیا ہے۔ جواب بہت سیدھا اور سادہ ہے ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں اس کا حل نہایت آسان ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ لینڈ ریکارڈ میں گھپلوں اور وسیع بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے کیونکہ پنجاب میں جہاں جہاں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوئے ہیں وہاں اب کسی پٹواری یا تحصیل دار کے بس میں نہیں رہا کہ وہ کسی بیوہ یا ان پڑھ بڑھیا کی جائیداد دھوکے بازی سے اپنے نام لگوا لیں۔ یہ سوال قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ اس کارنامے کا سہرا کس کے سر پر ہے۔ تاریخ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا جب بھی لینڈ ریکارڈ کے کمپیوٹرائزڈ کرنے کی بات ہو گی ، شہباز شریف کا نام آئے گا۔ 

تونسہ کو پاکستان کا پس ماندہ ترین ضلع سمجھا جاتا ہے اور شاید یہی ایک وجہ بنی عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کی۔ اگر آپ وہاں کے کسی چھوٹے سے موبائل فون کے کھوکھے پر چلے جائیں اور سم خریدنا چاہیں تو 8x8فٹ کی اس دکان میں بھی دکاندار کے پاس نادرا کی بائیو میٹرک مشین موجود ہے جو آپ کا 

انگوٹھا چیک کرے گی اگر یہ نادرا ریکارڈ سے میچ کر گیا تو آپ کی سم جاری کر دی جائے گی جو دکاندار یہ تصدیق کر رہاہے وہ خود شاید میٹرک فیل ہے۔ یہ ہے ٹیکنالوجی کا کمال۔ 

جب ہمارے معاشرے میں ٹیکنالوجی اس حد تک عام ہو چکی ہے تو اس کے باوجود ہماری سرکار آج بھی صدیوں پرانے بیلٹ باکس طریقے سے الیکشن پر الیکشن کراتی چلی جا رہی ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 1998ء سے ای ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ بھارت کی بہت سی ریاستیں یکے بعد دیگرے الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ رائج کر چکی ہیں، خصوصاً حساس حلقوں میں بطور خاص اس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ اس طریقہ کار میں جعلی ووٹ کاسٹ کرنا ممکن نہیں۔ اگر پولنگ سٹیشن پر قبضہ کر لیا جائے تو بھی مشینوں کا غلط استعمال ممکن نہیں یہ ایک فول پروف سسٹم ہے۔ بیلٹ باکسز میں دھاندلی اضافی پیپر ڈال کر کی جاتی ہے لیکن اس مشین کا سسٹم یہ ہے کہ اس میں آپ ایک منٹ میں 5 سے زیادہ ووٹ نہیں ڈال سکتے اور ہر ووٹ ڈالنے سے پہلے ضروری ہے کہ پولنگ افسر اس کا بٹن دبائے گا جس کے بعد ایک ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔ا گلا ووٹ تب تک نہیں ڈالا جا سکتا جب تک پولنگ افسر Next کا بٹن نہ دبائے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین EVM اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک میں رائج ہے جن میں امریکہ، برطانیہ، انڈیا، فلپائن، برازیل، ارجنٹینا، آسٹریلیا، بیلجیم، کینیڈا ، یورپین یونین، فن لینڈ، فرانس ، جرمنی، سوئٹرزلینڈ، تھائی لینڈ اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ای ووٹنگ کو آج تک کیوں نہیں اپنایا جا سکا۔ اس کی واضح وجہ حکمرانوں کی بدنیتی ہے۔ اگر پاکستان میں ای ووٹنگ اختیارکی جاتی ہے تو آپ کو نگران حکومت بنانے کی ضرورت ہی ختم ہو جائے گی۔ ویسے بھی نگران حکومتیں پاکستان اوربنگلہ دیش کے علاوہ اورکہاں بنتی ہیں۔ اس کے لیے آپ کو آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ موجودہ حکومت کو سینیٹ میں ووٹ لینے میں دقت پیش آئی تو انہوں نے سینیٹ انتخاب کے لیے شو آف ہینڈ کے لیے سپریم کورٹ پہنچ گئی لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہاں بھی ای ووٹنگ کو متعارف کرایا جائے۔ کم از کم انڈیا سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا۔ 

ای ووٹنگ سے ایک تو انتخابی اخراجات میں اربوں روپے کی بچت ہو گی ، دوسرا اس میں ووٹ چوری کرنے کا امکان ختم ہو جائے گا تیسرا عام آدمی کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو گا اور ووٹرز ٹرن آؤٹ بڑھ جائے گا سیاسی ساکھ بہتر ہو گی سیاستدان حلقے میں کام کر کے ووٹ لینے کی تگ و دو کریں گے۔ میرٹ اور شفافیت کو فروغ حاصل ہو گا اور قانون کی حکمرانی کا تصور مضبوط ہو گا۔ 

انڈیا میں ای ووٹنگ کے اجرا میں سیاستدانوں سے زیادہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کردار اہم ہے۔ ہمارے ہاں بیورو کریسی میں Initiative لینے کی روایت زیرو ہے۔ یہاں بڑے عہدوں پر صرف اپنی سیٹ بچائی جاتی ہے اس لیے ہم انڈیا سے ای ووٹنگ کے معاملے میں 25 سال پیچھے ہیں۔ آج تک کسی سیاسی پارٹی نے کوشش ہی نہیں کی کہ ای ووٹنگ کی بات کی جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا پولنگ سٹیشنوں پر قبضے ہوتے رہیں گے۔۔ بندے مرتے رہیں گے اور پولنگ افسران اغوا ہوتے رہیں گے۔ بہتر طرز حکمرانی کے لیے بھی آج کی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ نہ اٹھانا نالائقی اور نااہلی کی دلیل ہے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں شاید ای ووٹنگ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کو ہی کرنا پڑے گا تا کہ عدلیہ پر انتخابات سے متعلق مقدمات کا دباؤ کم کیاجا سکے ۔ ہم جس دنیامیں رہ رہے ہیں، جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے ہمیں اپنے ارد گرد دیکھنا ہو گا۔ 


ای پیپر