king edward,dr ayesha ali,dr yasmin rashid,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
25 فروری 2021 (11:22) 2021-02-25

برطانوی لکھاری آرتھر سی کلارک نے کہا تھا ’’میں علم نجوم پر یقین نہیں رکھتا۔ میرا برج ’’قوس‘‘ ہے اور ہم شکی ہوتے ہیں‘‘۔

میرا دل واقعی دکھی ہوا جب ڈاکٹر یاسمین راشد کو کہتے سنا کہ ان کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ علی کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ ان کی بیٹی ہیں۔ذہن میں صوبائی وزیر اوراور ان کی پارٹی کے عظیم رہنمائوں کی طرف سے کہے جانیوالے وہ ان گنت جملے گونجنے لگے جب انہوں نے مخالف جماعت کو اسی ایک نقطہ پر مطعون کیا ٗ تنقید کی اور عوام سے غلط بیانی کی۔ 

جب رہنما عوام کو جھوٹ کا منجن بیچتے ہیں۔ اپنے مخالفین کے بارے میں جھوٹا اور بے سروپا پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو وہ اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ شیشے کے گھر میں رہتے ہوئے ایک روز وہ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جب رہنما عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ کسی بڑے سیاستدان کا بیٹا ہونا ہی گناہ ہے اور وہ گھر میں فارغ رہے اور ناکام زندگی ہی گزارے تو اچھا ہے۔ جب آپ عوام کو یہ منجن بیچیں کہ کسی بڑے انسان کا بیٹا اگر کسی عہدے پر پہنچا ہے تو وہ ضرور اپنے باپ کی سفارش اور نام کی وجہ سے اس مقام پر پہنچا ہے۔ یعنی آپ غلط پچ پر کھیل رہے تھے ٗعوام سے اور خود سے جھوٹ بول رہے تھے یا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے بنیادی تصور حیات ہی واضح نہیں تھے اور آپ کو اس بات کا ادراک ہی نہ تھا کہ جو راجکماری ٗ راجکمار ٗ ببلو کی گردان آپ پڑھ رہے ہیں ایسے انگارے آپ کے دامن میں بھی موجود ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ یوسف رضا گیلانی کا کوئی بیٹا سیاستدان کیوں نہیں بن سکا ٗ نواز شریف کے بیٹے کیوں بزنس میںگئے اور انہوں نے کیوں وزیر اعظم بننے کی کوشش میں سیاست شروع نہ کی؟۔ کیوں بینظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو سیاست کر رہے ہیں تو اس سب کا واضح جواب یہی ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ وہی کام کر رہے ہیں جسے وہ اپنے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔ سب کا حق ہے کہ اپنی مرضی کا شعبہ حیات چن سکے اور اگر وہ اہل ہو گا تب ہی اس شعبے میں نام بنائے گا۔

اس بات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ ڈاکٹر عائشہ علی کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں 19 ویںگریڈ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تقرری کسی سفارش کا نتیجہ ہے کیونکہ بہرحال یہ سب کچھ  نظام کے اند ر رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ علی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی ہی طالبہ رہ چکی ہیں ٗ دوران تعلیم  ٹاپر رہی ہیں۔ ان کے پاس کئی گولڈ میڈل ہیں  جو ان کے ہونہار ہونے کا ثبوت ہے۔ وہ 2016 میں گنگا رام ہسپتال میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھیں جب ان کی والدہ اپوزیشن میں تھیں۔ایف سی پی ایس کرنے کے بعد برطانیہ سے 2018 میں ایم آر سی او جی کیا اور رائل کالج سے فٹل میڈیسن میں تربیت لینے کے بعد بڑے ٹیچنگ ہسپتال سے منسلک رہیں اور اب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تقرری کی گئی ہے تو قواعد ضوابط کی کوئی خلاف ورزی نظر تو نہیں آتی ہے۔

اگر کوئی کسی بااثر اور نامور شخص کے گھر پیدا ہوتا ہے تو یہ مقام اسے پیدائشی طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ ایک پروٹوکول پیدائشی طور پر اس کا حق بن جاتا ہے۔ اس حق میں کوئی بددیانتی شامل نہیں ہوتی ٗ اس کو ہم اقربا پروری نہیں کہہ سکتے کیونکہ کوئی بھی بڑا انسان اگر بچہ پیدا کرتا ہے تو یہ اس کا بنیادی حق ہوتا ہے۔  لیکن یہ ضروری نہیں کہ سیاستدان کے گھر پیدا ہونے والا بچہ بھی پیدائشی طور پر ایک قابل سیاستدان والی تمام خصوصیات رکھتا ہو گا ٗ دنیا کے عظیم ترین اداکار کے گھر پیدا ہونے والا بیٹا کتنی اچھی اداکاری کر سکتا ہے؟۔ عظیم ترین گلوکاروں کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کیا پیدائشی طور پر گلوکار ہوتے ہیں؟۔ 

عوام سے جھوٹ بولا گیا ٗ ان میں اس بنیاد پر نفرت پھیلائی گئی۔ یہ کہا گیا کہ کیونکہ نواز شریف ایک بڑا سیاستدان ہے اس لئے اس کے خاندان میں سے کسی کو سیاستدان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بینظیر بھٹو کا بیٹا سیاستدان بن رہا ہے تو وہ اقربا پروری ہے ٗ موروثی سیاست ہے۔ یہ غلط ہے ٗ ایسا نہیں ہونا چاہیے ٗ ایسا ہونے سے ملک تباہ ہوتے ہیں۔ نظام تباہ ہوتے ہیں۔  درحقیقت دنیا میں آنے والا ہر انسان مختلف آئی کیو لیول کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ایک اداکار کے گھر پیدا ہونے والا بچہ بہترین اداکار ہو۔ ہاں اگر وہ اداکاری کی فیلڈ چنے گا تو اس کا سفر اپنے والد کے تجربے اور تعلقات کی وجہ سے بہت کم ہو  جائے گا لیکن کیا وہ ایک بڑے اداکار کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے ہی کامیاب ہو جائے گا۔ ایسا نہیں ہوتا۔ 

ڈاکٹر یاسمین راشد کی ساری زندگی گائناکالوجی کے شعبہ میں  خدمات سرانجام دیتے ہوئے گزری ہیں اور اب جب وہ بطور صوبائی وزیر صحت اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو انہوں نے پنجاب میں پہلی بار اپنے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے ٗ عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے گائنی سے متعلق کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں چار سب اسپیشلٹیز قائم کیں جن کی  یونیورسٹی سنڈی کیٹ کے اجلاس میں منظوری لی گئی ٗ باضابطہ طور پر یونیورسٹی سینٹ میں یہ معاملہ لایا گیا۔پنجاب میں یہ چار سب سپیشلٹیز قائم نہیں تھیں یعنی یورو گائنا لوجی ٗ فیٹل میڈیسن ٗ ریپروڈکٹو اینڈو کرونالوجی اور گائنا کالوجیکل آنکالوجیکل۔ یہ ایک قیاس ہی ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے خاص طور پر اپنی بیٹی کو اسسٹنٹ پروفیسر لگوانے کیلئے یہ سب سپیشلٹیز قائم کروائی ہوں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام پنجاب میں نہیں ہونا چاہیے تھا اور اگر بیرون ملک سے اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ کوئی امیدوار اس تقرری پر لگتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ موروثیت اور اپنوں کو نوازنے والا جو منجن پاکستان تحریک انصاف بیچتی رہی ہے وہ اب خود اس کا شکار ہو رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پورے پاکستان میں ناقص کارکردگی پر جو نفرت مل رہی ہے اور پنجاب کا شعبہ صحت جس طرح سے ڈاکٹر یاسمین راشد سے نالاں ہے اس کا نشانہ ڈاکٹر عائشہ علی بن رہی ہیں۔مجھے ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہمدردی ہے کیونکہ میں ان کا دکھ سمجھ سکتا ہوں۔

بھٹی میں کھڑا ہوا مز دور جس گرمی میں لوہے کو ڈھالتا ہے اس کا اند ازہ وہی کر سکتا ہے جو ان مراحل سے گزرا ہو ٗ جس نے وہ گرمی برداشت کی ہے۔ پرسی جیکسن جیسا شہرہ آفاق کردار تخلیق کرنے والے امریکی رائٹر رک ریوڈن کا ماننا ہے ’’کسی کے بارے میں اس وقت تک کوئی رائے قائم نہ کرو جب تک تم اس کی ہتھوڑی پکڑ کر بھٹی میں کام نہ کرلو‘‘۔


ای پیپر