ضمنی سُبکیاں!
25 فروری 2021 2021-02-25

ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کا شورشرابا مسلسل جاری ہے، اِس الیکشن میں جو حالات پیدا کئے گئے پہلے اُس پرممتاز قلم کار عرفان صدیقی کی شاعری پڑھ لیں جو بطور خاص اُنہوں نے اگلے روز مجھے واٹس ایپ کی ، اِس غزل کا عنوان اُنہوں نے ”ڈسکہ کی دُھند“ رکھا ہے، 

شام ڈھلتے ہی چھاگئی یہ دُھند

بیس بندوں کو کھاگئی یہ دُھند

کردیا بند سب کی آنکھوں کو 

فون تک میں سماگئی یہ دُھند

وارداتی ہواﺅں سے مِل کر

کیا کرشمے دیکھا گئی یہ دُھند

کچھ کے ووٹوں کو کرگئی تِگنا

اور کچھ کے گھٹا گئی یہ دُھند

صبح ہوتے ہی چھٹ گئی لیکن 

راز سارے بتاگئی یہ دُھند

جوزبانوں پہ آنہیں پائی

وہ کہانی سُنا گئی یہ دُھند

کردیا بے نقاب چہروں کو 

سارے پردے اُٹھا گئی یہ دُھند

حکمرانوں کی بارگاہوں میں 

کھلبلی سی مچا گئی یہ دُھند

گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہوئی 

قرض اپنا چُکاگئی یہ دُھند

اِس غزل کے پیچھے جو پیغام یا کہانی ہے ایک پردہ الیکشن کمیشن نے بھی اُس سے اُٹھایا ہے، الیکشن کمیشن نے اِس ضمنی الیکشن کے حوالے سے جو پریس ریلیز جاری کی، گو کہ وہ خود الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کی نشاندہی کررہی ہے مگر جہاں تک میری معلومات ہیں پہلی بار یہ ہوا ہے الیکشن کمیشن نے اِس کُھلے انداز میں حکومتی حماقتوں کی نشاندہی کی ہو، نون لیگ کے رہنماﺅں کا یہ کہنا کسی حدتک درست ہے کہ یہ پریس ریلیز اصل میں حکمرانوں کے خلاف ایک ایف آئی آر ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی اِس پریس ریلیز میں کچھ اعلیٰ افسروں کی مجرمانہ غفلتوں کا ذکر بھی کیا، بہتر ہوتا اگر اِسی پریس ریلیز میں یااِس کے علاوہ کسی خط میں اِن افسروں کو فوری طورپر اُن کے عہدوں سے الگ کرنے کی سفارش بھی کردی جاتی، این اے 75کی سیٹ مسلم لیگ نون کی تھی، یہ سیٹ نون لیگ کو ہی جانی تھی، نون لیگ کو یہ سیٹ واپس مِل بھی جاتی، حکمران جماعت کو اِس سے کوئی فرق بھی نہ پڑتا۔ مگر کچھ اعلیٰ افسروں( جن کی نشاندہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کی ) نے اس موقع پرحکمرانوں کے لیے شرمندگی کا جو سامان پیدا کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اگر یہ اعلیٰ افسران صرف اپنے عہدے بچانے کی جدوجہد میں نہ لگے رہتے، تھوڑی بہت سمجھداری سے کام لیتے۔ حکمرانوں کی اِس قدر سُبکی شاید نہ ہوتی، حکمرانوں اور اُن کے ترجمانوں کے پاس کچھ دلیلیں ایسی صورت میں شاید بچ جاتیں جو اُنہیں مکمل طورپر جھوٹا ثابت کرنے میں رکاوٹ ہوتیں،.... قوی امکان ہے یہ افسران آگے چل کر بھی حکمرانوں کے لیے ایسی ہی شرمندگیاں پیدا کرتے رہیں گے، ....اب میں ذرا اِن معاملات سے ہٹ کرکچھ ایسے حقائق آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جن کی بنیاد پر کم ازکم مجھے تو دیوار پر لکھا ہوا نظر آرہا تھا حکمران جماعت یہ نشست نون لیگ سے پوری کوشش اور سرکاری مشینری کے ہرممکن استعمال کے باوجود چھین نہیں سکے گی،.... یہ سیٹ نون لیگ کے ایم این اے پیر ظاہرے شاہ کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی، حکمران جماعت نے یہ سیٹ نون لیگ سے چھیننے کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کیا، شاید حکمران جماعت ہونے کے ناطے یہ اُس کا ”حق“ بھی بنتا تھا، پیر ظاہرے شاہ گزشتہ تیس برسوں سے پانچ بار اِس سیٹ سے ایم این اے منتخب ہوتے رہے، یہ یقیناً اُن کا اعزاز ہے، اور اِس سے بھی بڑا اعزاز یہ ہے انتہائی مشکل وقت میں بھی نون لیگ کا ساتھ اُنہوں نے نہیں چھوڑا۔ وہ جیسی بھی شخصیت کے مالک تھے، پر یہ حقیقت ہے اُن کے حلقے کے اکثرلوگ اُن کے صرف ووٹرز ہی نہیں اُن کے ”عقیدت مند“ بھی تھے، ممکن ہے بطور ایم این اے اُن سے اپنے حلقے کے کچھ لوگوں کی دل آزاری بھی ہوئی ہو، اپنے کچھ سیاسی مخالفین کے ساتھ دانستہ یا غیردانستہ طورپر اُن سے کچھ زیادتی بھی ہوگئی ہو، مگر اِس کے باوجود کہ ہمارے عوام کی اکثریت بداخلاقی کے تقریباً آخری مقام پر پہنچی ہوئی ہے یہ طے ہے جو شخص دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، اُس کی غلطیاں اُس کی کوتاہیاں اُس کی زیادتیاں بالخصوص ہمارے دیہاتی کلچر میں بڑے دل کے مالک لوگ نظرانداز کردیتے ہیں، اُسے معاف کردیتے ہیں، .... این اے 75ڈسکہ میں میرے بے شمار عزیز قیام پذیر ہیں، سو میں ذاتی طورپر جانتا ہوں این اے 75کی کچھ اہم شخصیات ظاہرے شاہ سے کسی نہ کسی وجہ سے ناراض تھیں، اُن کی وفات کے بعد اُنہوں نے نہ صرف دل سے اُنہیں معاف کردیا تھا بلکہ یہ بھی طے کرلیا تھا گزشتہ الیکشن (2018) کی طرح اِس ضمنی الیکشن میں وہ پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیں گے نہ نون لیگ کو دیں گے، یہ ووٹ وہ ظاہرے شاہ مرحوم کی صاحبزادی کو دے کر عملی طورپر ثابت کریں گے مرحوم کے لیے اُن کے دلوں میں کوئی نفرت اب موجود نہیں ہے، .... اِس کے علاوہ بھی ہم نے اکثر دیکھا ہے کوئی شخص جب دنیا سے رخصت ہو جائے لوگوں کے دِلوں میں اُس کے لیے ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ اِس کا فائدہ بھی ظاہر ہے ظاہرے شاہ کی صاحبزادی کو ہی ہونا تھا، بھاری اکثریت سے نون لیگ سے یہ سیٹ نہ چھین سکنے کی سب سے بڑی وجہ خود سرکار کو بھی معلوم ہے، یہی وہ وجہ ہے دوسرے کئی حلقوں میں ضمنی الیکشن بھی وہ نہیں جیت سکی، حکومتی ترجمان تو ظاہر ہے اِس کا اعتراف نہیں کریں گے پر یہ حقیقت ہے گزشتہ اڑھائی پونے تین برسوں میں ہمارے حکمرانوں نے سوائے افسران کے تبادلوں کے طوفان بدتمیزی پیدا کرنے کے کچھ نہیں کہا، چُن چُن کرنکمے اور نااہل افسروں کو فیلڈ میں اُن کے صرف اِس ایک ”مبینہ خوبی“ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا کہ وہ نون لیگ کے حمایت یافتہ نہیں ہیں، اِس ضمن میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے فیلڈ میں اکثر افسروں کی تعیناتی کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا وہ کتنا جونیئر ہے؟ کتنا بے ایمان ہے؟،کتنا سازشی ہے؟ کتنا مردم بیزار اور عوام دُشمن ہے؟ اگر حکمرانوں کو وہ یہ یقین دلا دے، چاہے جھوٹی سچی کوئی داستان گھڑ کر ہی یقین دِلا دے کہ وہ نون لیگ کا ”پیدائشی مخالف“ ہے، بس اُس کے بعد کوئی اور سودا وہ طے کرے نہ کرے ، یہی ” اہلیت“ اُس کی کافی ہے(جاری ہے)


ای پیپر