بلاول کے خواب اور خواہشیں
25 فروری 2020 2020-02-25

پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری آج کل خواب بہت زیادہ دیکھنے لگے ہیں۔ خواب دیکھنے کی وجہ سے ان کی خواہشیں بھی زیادہ ہونے لگی ہے۔چند روز قبل انھوں نے اپنے ایک خواب اور خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ’’ جب بھی موقع ملے گا حکومت گرانے میں دیر نہیں کریں گے‘‘۔لیکن حالات کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ان کی یہ خواہش جلد پوری ہونے والا نہیں، اس لئے کہ جب حکومت سازی کا مرحلہ تھا تو انھوں نے آنکھیں بند کی ہو ئی تھی۔اب جب حکومت مشکل وقت گزار چکی ہے تو ایسے میں ان کو حکومت گرانے کا موقع ملنا مشکل ہے۔جب مو قع نہیں ملے گا تو ان کی خواہش پوری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکومت سازی کے بعد ایک موقع ملا بھی تھا لیکن انھوں نے اپنے خوابوں اور خواہشوں کو پورا کرنے کا یہ موقع بھی ضائع کر دیا تھا۔سینٹ کے چیئرمین کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی تو بلاول زرداری قیام کی بجائے سجدے میں گر گئے تھے۔دوسرا موقع ان کو اس وقت ملا تھا جب حکومت کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لئے حزب اختلاف کی ضرورت تھی، لیکن بلاول زرداری نے مزاحمت کی بجائے مفاہمت کی اور اسی طرح ان کے خواب اور خواہشیں دونوں چکنا چور ہو گئے تھے۔ بلاول کو ایک اورموقع مولانا فضل الرحمان نے بھی دیا تھا جب انھوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ بلاول زرداری کے لئے موقع تھا کہ وہ اپنے خواب اور خواہشیں پوری کرتے لیکن یہ موقع بھی انھوں نے ضائع کر دیا۔ اب انھوں نے دھمکی آمیز خوش خبری سنائی ہے کہ حکومت کے پاس چھ مہینے ہیں۔ مارچ میں انھوں نے حکومت گرانے کے لئے تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ،لیکن آصف علی زرداری اور بلاول زرداری کا ماضی گواہ ہے کہ وہ احتجاج کی بجائے مفاہمت اور انتشار کی بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ حکومت گرانے کے لئے وہ جس تحریک کو مارچ میں شروع کرنے والے ہیں وہ کامیاب ہو۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت کے خلاف مارچ میں دوبارہ تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب ان کو بلاول زرداری اور شہباز شریف دونوں پر اعتماد نہیں۔اگر مولانا فضل الرحمان تحریک شروع کرتے ہیں تو اول اس تحریک کا مقصد ہر گز حکومت کو گرانا نہیں ،بلکہ اس کا واحد مقصد آزادی مارچ کو بغیر نتائج کے ختم کرنے کے گناہ کا کفارہ ادا کرنا اور اپنے کارکنوں کو کسی حد تک مطمئن کرنا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمان اب بلاول اور ان کی جماعت پر

اعتماد نہیں کریں گے اس لئے وہ ان کے تحریک میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ بلاول زرداری اپنے خواب اور خواہش کی تکمیل کے لئے مولانا فضل الرحمان کا دامن تھام لیں، لیکن پھر بھی ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ مولانا فضل الرحمان یہ سب کچھ صرف لہو کو گرم رکھنے کے لئے کر رہے ہیں۔

چند مہینے قبل ملک میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ حکومت کو ٹماٹر کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اب ٹماٹروں کی قیمتوں میں استحکام ہے۔اس کے بعد بجلی کی بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف عوام نے آواز بلند کی لیکن اب کسی حد تک یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام پریشان ہوئے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا،اس لئے یہاں بھی حزب اختلاف کی دال گھلنے والی نہیں۔چینی بحران پر قوم نے شدید ردعمل دیا ،لیکن حکومت نے عوام کو مطمئن کر دیا ہے۔پھر آٹے کا بحران آیا لیکن اب یہاں بھی راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ان تمام مسائل پر حزب اختلاف کا کردار مایوس کن رہا ۔ انھوں نے ایوانوں کے اندر اس مسئلے کو عوامی امنگوں کے مطابق بھر پور انداز میں نہیں اٹھا یا اور نہ سڑکوں پر احتجاج کیا اس لئے عوام اب بلاول زردار ی اور ان کی جماعت پر کسی بھی طرح سے اعتما د کے لئے تیار نہیں۔اگر وہ ان مسائل کے حل کے لئے ایوانوں کے اندر بھر پور آواز اٹھاتے اور سڑکوں پر احتجاج کرتے تو پھر ممکن تھا کہ عوام مارچ میں ان کے ہم آواز اور ہم قدم بن جاتے ۔لیکن عوامی مسائل پر اس چشم پوشی کی وجہ سے اب ممکن نہیں کہ مارچ میں حکومت مخالف تحریک میں عوام ان کا ساتھ دیں۔

بلاول زرداری کے خواب اور خواہشیں صرف ایک صورت میں پوری ہوسکتی ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کا خوا ب دیکھنا چھوڑ دیں اور سندھ میں عوامی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں۔شہر کراچی گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس کی صفائی کا مستقل بنیادوں پر انتظام کرلیں۔سرکاری زمینوں پر قابض مافیاز کو فوری بے دخل کر دیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنا دیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف توجہ دیں۔کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنائیں۔ تھر میں غذائی قلت کی وجہ سے جو اموات ہو رہی ہے اس پر توجہ دیں۔سندھ میں عوام کی اکثریت کو پانی کا صاف پانی نہیں مل رہا ہے۔کراچی سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں پانی کے نکاس کا نظام بوسیدہ ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی لیں۔بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کا ایک بنیادی جز ہے۔سندھ میں بہتریں بلدیاتی نظام کے نفاذ کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔سندھ خصوصاشہر کراچی میں امن وامان کی صورت حال انتہائی خراب ہے ۔اس کے حل کے لئے کوشش کریں۔ پولیس کا موجودہ نظام بھی سند ھ پر ایک بوجھ ہے ،ضروری ہے کہ پولیس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کردیں۔اگر بلاول زرداری کی خواہش ہے کہ ان کے سپنے پورے ہوں تو وہ سندھ پر توجہ دیں۔اسلام آباد کے تخت کو وہ تب فتح کر سکتے ہیں کہ سندھ میں کارکردگی دکھائیں، اگر وہ اس مرتبہ سندھ میں کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے لئے کراچی کو بچانا بھی ناممکن ہوجائے گا۔اگر وہ اگلی مرتبہ سندھ بچانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر اسلام آباد بھی ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ باقی ماندہ چار سالوں میں بلاول زرداری اسلام آباد کی فکر کرنا چھوڑ دیں ۔سندھ پر توجہ دیں ۔اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر اگلی مرتبہ سندھ بھی ان کے ہاتھوں سے جائے گا۔اگر بلاول نے اپنے خواب اور خواہشیں پوری کرنی ہے تو لاہور اور اسلام آباد کے بجائے شہر کراچی کو اپنا مسکن بنائیں، اس لئے کہ ان کے سیاسی مستقبل کا تمام تر انحصار اب اسی شہر پر ہے۔اگر وہ اس شہر کو قابو کرنے میں ناکام رہے تو اسلام آباد پر حکمرانی کا ان کاخواب کبھی بھی پورا نہیں ہوسکے گا۔


ای پیپر