حکمران چورتوایماندارہم بھی نہیں
25 فروری 2020 2020-02-25

اس ملک میں ہرگھرعدالت اورہرشخص جج بناپھرتاہے۔قاتل کے ہاتھ پرمقتول کاخون تازہ ہی کیوں نہ ہووہ پھربھی دوسروں کے ہاتھوں پرخون کے داغ دھبے تلاش کرتاپھرتاہے ۔میلوں دوردوسروں کے عیوب توہمیں نظرآجاتے ہیں مگراپنے دامن پرلگے بڑے بڑے داغ ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔دوسروں کے گھروں میں جھانکنے کی توہمیں عادت ہے مگراپنے گریبان میں ایک لمحے کے لئے جھانکناہمیں گوارہ نہیں۔یہ توہمیں یادہے کہ اس ملک کو کرپٹ اورچورحکمرانوں وسیاستدانوں نے لوٹامگریہ ہمیں یادنہیں کہ اس ملک کی تباہی اوربربادی میں کرپٹ اور چور حکمرانوں وسیاستدانوں سے زیادہ حصہ ہم نے خود ڈالا۔ہمارامطلب ہرگزیہ نہیں کہ اس ملک کوکرپٹ اورچورحکمرانوں وسیاستدانوں نے نہیں لوٹا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بعداس ملک میں جوبھی حکمران اور سیاستدان برسراقتدارآیااس نے اس ملک کولوٹااوردل کھول کرلوٹالیکن حکمرانوں اورسیاستدانوں کے ساتھ ہم بھی تولوٹ مارمیں ذرہ بھی ان سے کبھی پیچھے نہیں رہے۔کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے اس بدقسمت ملک میں آج تک حکمران، سیاستدان، ڈاکٹر، انجینئر، فنکار،گلوکار،کھلاڑی،سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر اور ملا ومسٹر سمیت جس کا جتنا بھی بس چلااس نے اپنی بساط اور طاقت کے مطابق اس ملک اورقوم کولوٹااوریہ سلسلہ آج بھی تسلسل کے ساتھ جاری وساری ہے۔درحقیقت اس ملک میں کیاحکمران ،کیاسیاستدان اورکیاعوام۔۔؟ سب ایک ہی کشتی کے سواررہے بس فرق صرف اتنا رہاکہ کسی نے حکمرانوں کی طرح سامنے آ کر گھر کو لوٹا اورکسی نے عوام کی طرح منہ چھپاکراپناحصہ وصول کیا۔صبح وشام حکمرانوں اورسیاستدانوں کوچورڈاکوکہہ کران پرلعنت بھیجنے والے یہ عوامی چوراورڈاکو کیادودھ کے اتنے دھلے ہوئے ہیں ۔۔؟ نہیں نہیں۔ان کے کرتوت تودیکھ کروہ کرپٹ اور چور حکمران و سیاستدان بھی پھر فرشتے لگنے لگتے ہیں۔ حکمرانوں اورسیاستدانوں سے کوئی چیزمحفوظ ہویانہ ۔۔؟لیکن ہم عوام سے اس دھرتی پرکوئی شئے محفوظ نہیں ۔ہمارے جیسے دغاباز، جھوٹے، مکاراورچورانسانوں کودیکھ کر یقیناً شیطان بھی شرماتا ہو گا۔ ہم تووہ انسان ہیں جن سے آج اس دھرتی پروحشی درندے اورجانورکیا۔۔؟ہمارے جیسے اپنے انسان بھی نہ صرف کترارہے ہیں بلکہ ہمارے وجودسے وہ عجیب قسم کاخوف اوربدبوبھی محسوس کررہے ہیں ۔ چنددن پہلے ایک جنازے پرگائوں جاناہواتوخالہ زادبھائی مولانامحمدخالدقاسمی جووہاں ایک مقامی مسجدکے امام وخطیب بھی ہیںسے ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں گائوں کی آبادی سے دورایک صحراکی طرف لیکرگئے۔ہم نے آبادی سے دورجانے کی وجہ پوچھی توکہنے لگے جوزوی صاحب ۔آبادی میں دل کچھ بھاری بھاری ہوتاہے۔لوگ ایک دوسرے کاگوشت نوچ کرٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں ۔شب وروزکی وعظ ونصیحتوں کابھی اب ان پرکوئی اثرنہیں ہورہا۔ان کے کرتوت دیکھ کرایک خوف ساآنے لگتاہے جس کی وجہ سے دل چاہتاہے کہ ایسے ہی صحرائوں اوربیابانوں میں رب کی حمدوثناء بیان کرتے پھروں۔ پھر کافی وقت تک ہم اس

صحرامیں رہے ۔ حکمران اورسیاستدان توتھے ہے چوراورڈاکو۔لیکن ہم جس راستے اورڈگرپرچل پڑے ہیں یہ توخطرناک بہت ہی خطرناک ہے۔اللہ جوبہت بڑارحیم وکریم ہے ،اس رب نے فرمایا کہ اپناحق تومیں معاف کردوں گالیکن لوگوں کے حقوق۔۔؟وہ لوگ جانیں اورتم ۔مطلب حقوق العبادکی کوئی معافی نہیں۔ بروز قیامت جب تک وہ انسان جس کا دنیا میں حق مارا گیا تھا وہ خودحق پرڈاکہ ڈالنے والے کومعاف نہیں کرتااس وقت تک اس کاحق معاف نہیں ہو گا۔ اس اٹل حقیقت کوجاننے اورسمجھنے کے باوجودہم انسان آج جس طرح دوسروں کے حقوق پرشب خون مارنے میں لگے ہوئے ہیں وہ ہم سب کے لئے لمحہ فکر ہے۔ دنیا کمانے اوردوسروں کاحق مارنے کے لئے آج ہم پہروپیئے بن چکے ہیں ۔جس روپ میں انسان کاحق مارناآسان ہوہم فوری طورپروہ روپ دھارلیتے ہیں ۔سیاست اورسیاہ ست کیا۔۔؟اب تومذہب کے نام پرلوگوں کولوٹنابھی ہم نے اپنا معمول بنالیاہے۔ہاتھ میں تسبیح،چہرے پر نبیؐ کی سنت اوردل میں ملک وقوم کولوٹنے کی تدبیریں کیااس سے بڑاظلم اورگناہ بھی کوئی اورہوگا۔۔؟لوگ جس طرح پرندوں کے شکارکے لئے جال میں دانہ ڈالتے ہیں اسی طرح آج ہم حج،عمرہ،روزہ،نماز،تسبیح،داڑھی اورتبلیغ کو دانے کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔پہلے لوگ حج، عمرہ، روزہ، نماز، تسبیح، داڑھی اوردعوت وتبلیغ کواہم فریضہ سمجھ کراللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لئے اداکرتے تھے مگر آج۔۔؟ آج ہم ان اہم دینی فرائض کوبھی انسانوں کے لوٹنے کے لئے بروئے کارلارہے ہیں ۔ہمیں پتہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے ہاتھ میں تسبیح اورپیشانی پر کالے نشان دیکھ کر ان کی طرف پھردوڑتے چلے آتے ہیں ۔اسی وجہ سے اب ہاتھوں میں تسبیح اورچہروں پر نبیؐ کی سنت ہم نے سجالی ہے کہ لوگ ہماری طرف دوڑتے آئیں اورہم انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹتے جائیں ۔دنیاکے نام پردنیاکمانابھی جرم اورگناہ ہوگامگردین کے نام پرلوگوں کوگمراہ اوربیوقوف بناکردنیاکمانااس سے کہیں زیادہ بڑاجرم اورگناہ ہے۔جولوگ مذہب کے لبادے میں لوگوں کوبیوقوف بناکرلوٹتے ہیں ایسے لوگ دنیااورآخرت دونوں میں واقعی کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ نماز،حج،روزہ،زکوٰۃ ہم مسلمانوں پرفرض اورداڑھی،پگڑی اوراسلام کی تبلیغ عام کرنایہ بلاشک وشبہ نبی پاکؐ کی سنت ہے لیکن اس سوچ اورنظریے کے تحت ان فرائض اورسنتوں پرعمل کرناکہ اس طریقے سے ہم دنیااوراہل دنیاکو بڑے مومن اور پاک صاف دکھائی دے کر پھر آسانی کے ساتھ دھر لیں گے یالوٹ لیں گے توپھران اعمال کایقینناًہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔دینی اعمال اللہ کی رضاء ،نبی پاکؐ کی خوشنودی اورآخرت کی کامیابی کے لئے اداکئے جاتے ہیں ۔ہم میں سے جولوگ حج، عمرہ، نماز،تسبیح اورتبلیغی چلہ کواپنے مذموم مقاصدکے لئے ڈھال بناناچاہتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی فکرکریں یاپھرایک سخت انجام کے لئے تیاررہیں ۔کسی حج، عمرے، نماز،روزے،تسبیح اورچلہ سے لوگوں کے حقوق کبھی بھی معاف نہیں ہوں گے۔آج ہم لوگوں نے وتیرہ بنایا ہوا ہے۔ ایک طرف کسی غریب، مجبور اور مظلوم کاحق مار دیتے ہیں اوردوسری طرف اسی غریب، مجبور اور مظلوم کے حق سے پھرایک حج،عمرہ یاایک چلہ لگاکریہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے آخرت کے لئے کہیں بڑاتیرمارلیا۔حرام کی کمائی اورغیروں کے حقوق ہڑپ کرنے پرنہ کوئی حج قبول ہوگانہ کوئی عمرہ اورنہ ہی کوئی اورعبادت۔ نماز،حج،روزہ،زکوٰۃ جیسی دینی فرائض اورعبادات کی ادائیگی کے لئے تن اورمن کے ساتھ مال اور رزق کاپاک ہونابھی ضروری ہے۔ سیاست اور مذہب کے لبادے میں غریبوں،مجبوروں اورمظلوموں کو لوٹ کرآخرکب تک ہم اپنے آپ کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔ نمازی ،حاجی اورتبلیغی کے نام پرکسی کولوٹنایہ کوئی کمال نہیں بلکہ یہ دنیااورآخرت دونوں کاایک ایساملال ہے جوپھرآخروی زندگی میں بھی آخرتک باقی رہے گا۔آخرکب تک ہم حکمرانوں اورسیاستدانوں کو برابھلاکہہ کراورگالیاں دے کراپنے جرائم اور گناہوں پر پردے ڈالتے رہیں گے۔ کرپٹ، چور حکمرانوں وسیاستدانوں اوراس دیمک زدہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کرخودکوٹھیک کرنا ہو گا ورنہ زبان پرلاالہ اوردل میں اس کالی بلاسے ہمارے یہ حالات کبھی بھی ٹھیک نہیں ہونگے۔ہمیں اس ملک وقوم کی تقدیربدلنے کے لئے پہلے اپنے ان اعمال،افعال اورکردارکوبدلناہوگاجس دن ہم راہ راست پرآکربدل گئے اس دن یہ سارے بدسے بدتر حالات بھی پھر خودبخود بدل جائیں گے۔اب گیندکسی چور اور ڈاکو حکمران وسیاستدان کے پاس نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اب یہ ہم پرمنحصرہے کہ ہم کامیابی اورتباہی میں سے کس کاانتخاب کرتے ہیں۔


ای پیپر