مارکسی نظریہ جدید حکومتی تناظر میں
25 فروری 2020 2020-02-25

کارل مارکس 19 ویں صدی کا ایک جرمن فلسفی، ماہر معاشیات، تاریخ دان، صحافی، سیاستدان، ماہر قانون اور انقلابی سوشلسٹ تھا۔ کارل مارکس 5 مئی 1818کو جرمن کے شہر Tries میں پیدا ہوا اور 14 مارچ 1883کو لندن میں وفات پائی۔ کارل مارکس سرمایہ داری اور کمیونزم کے تناظر میں اپنے سماجی اور معاشی نظریات کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔ کارل مارکس کے نزدیک تاریخ کا علم انسانی خیالات ک بجائے مادی حالات اور واقعات کا نتیجہ ہے۔ مذہب، اخلاقیات، سماجی ادارے، معاشی ادارے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لیے معیشت ہی اساس ہے۔ سرمایہ دراصل لوگوں اور چیزوں کے درمیان تعلق نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ لوگوں کے درمیان ایک سماجی اور معاشی تعلق کا نام ہے اور مارکسزم کی بنیاد عدم مساوات پر مبنی معاشی نظام کی مخالفت پر ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام، معاشرے میں طبقاتی تفریق پیدا کرتا ہے اور صرف چند سرمایہ دارون کو نفع دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اکثریت میں موجود مزدور، محنت کش اور عام لوگوں کا استحصال کرتا ہے (یہ حقیقت صداقت پر مبنی ہے) دراصل سرمایہ دو طرح کا ہوتا ہے دولت اور محنت۔

اگر سرمایہ دار کے پاس دولت کا سرمایہ ہے تو مزدور اور محنت کش کے پاس محنت کا سرمایہ ہے لہٰذا سرمایہ دار کو چاہیے کہ مزدوروں اور محنت کشوں کو مزدوری کے علاوہ منافع میں بھی حصہ دیا جانا چاہیے۔

مارکسی نقطہ نظر کے حامل افراد کے نزدیک دنیا میں دو طرح کے انسانی گروہ موجود ہیں۔ ایک گروہ کا تعلق تصور پرستی ہے اور دوسرے گروہ کا تعلق مادہ پرستی سے ہے۔ تصویر پرستوں کے نزدیک انسانی ذہن کی صلاحیتوں اور فکروں کا تعلق قائم بالوجود سے ہے اور یہ گروہ خارجی اثرات سے بے نیاز ہے۔ انسان کی ذہنی صلاحتیں وراثتی، شخصی یا خداداد ہیں یا ان کا تعلق انسان سے اکتسابی قرار نہیں جا سکتی ہیں اور دوسری طرف مادہ پرستوں کے مطابق انسان کی داخلی، ذہنی صلاحتیں، سوچ اور فکر وراثتی یا خداداد نہیں ہیں بلکہ یہ خارجی دنیا کا عکس ہیں۔ خارجی دنیا کے اثرات، انسان کی سوچ، ذہنی صلاحیتوں کو نہ صرف پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کو پروان بھی چڑھاتی ہیں۔ خارجی اثرات میں سماجی، معاشی، مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور تاریخی حالات و عوامل شامل ہیں جو انسان کی فکر اور ذہنی صلاحیتوں کا تعین کرتے ہیں۔ معاشی حالات کی سب سے بڑی مثال افریقی ممالک کی ہیں۔ یہاں استعماری طاقتوں نے مقامی لوگوں کو ذہنی اور جسمانی غلام بنایا ہوا ہے اور یہی استعماری قوتین ان

کی سوچ اور فکر کو استعمال کرتے ہیں۔ جغرافیائی حالات کی مثال کشمیر کی ہے اور خطہ کشمیر کسی صورت آزاد ہونے کو نہیں ہے ۔ مذہبی حالات کے تناظر میں عراق، ایران، شام کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اشتراکیت پسندی دراصل ’’بورژوا‘‘ کے مقابلے میں ’’پرولتاری‘‘ طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ طبقہ دراصل مقصدیت پر زور دیتا ہے اور استحصالی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھانے، مزدور، محنت کش، پسے ہوئے مظلوم طبقے کا سہارا بننے کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ طبقہ سرمایہ داروں سے بر ملا نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ نظریہ معاشرے میں بے انصافی، جبر، گھٹن، ظلم وستم، سماجی ، مذہبی اور دیگر پابندیوں کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔

مذہبی تنقید اور مذہبی گھٹن کے علاوہ مارکسزم ایک بڑے اور خوبصورت نظریے کا نام ہے۔ یہ نظریہ انسانی ترقی کو بڑھانے اور معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ حالات کی پیدا کردہ غربت اور معاشی ناہمواری قدرت الٰہی کی طرف سے نہیں ہی ہے۔ اور نہ ہی اس کا تانہ بانہ قہر خداوندی سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ یہ غربت، معاشی ناہمواری، کرپشن، لاقانونیت اور بے انصافی حکومتوں اور سرمایہ داروں کی پیدا کردہ ہے۔ موجودہ حکومت نے تین طرح کا طبقاتی نظام پیدا کر رکھا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام، کرپٹ نظام اور غربت ، مزدور طبقہ جو خودکشی پر مجبور کرتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے جو روٹی، کپڑا اور مکان کا کھوکھلا نعرہ لگایاتھا دراصل وہ نظریہ اشتراکیت کی حمایت کرتا تھا اور سرمایہ دارانہ نظام کی نفی کرتا تھا۔ ’’عمرانی حکومت‘‘ نے دراصل تمام نظریات کو بالائے طاق رکھ کر ایک نئے نظریے کی بنیاد رکھ دی جس کو ’’بے یقینی ، نا امیدی اور غریب کو جڑ سے اکھاڑنے کا نظریہ کہا جا سکتا ہے؟ یہ وہ عمران خان ہے جس ’’یٹوپن دی لائن‘‘ غریبوں کو یکساں حقوق دینے، بیروزگاروں کو روزگار دینے، بے گھروں کو مکان دینے، آئین کی بالادستی کا نعرہ لگاکر مارکسزم کی حمایت کی تھی۔ میں بذات خود اس نعرہ اور سوچ کے حق میں تھا۔ شاید ’’پاکستان پیپلزپارٹی‘‘ کی متعدد کامیابیوں میں اسی سوچ اور اسی نعرے کا عمل دخل تھا۔ میرے نزدیک یہ نظریہ صرف مذہب کی مخالفت اور مذہبی، دینی، اسلامی ادراک کی دشمنی کے علاوہ انسانی تعمیر، انسانی ترقی، اخلاقی پہلوؤں اور سماجی ضرورتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور معاشرے کی خوشحالی اور امن و امان برقرار رکھنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظریہ کے حامیوں میں اختر ٰسن رائے پوری، سید سجاد طہیر، رضیہ سجاد ظہیر، احتشام حسین، ڈاکٹر عبادت بریلوی، محمد علی صدیقی اور دور حاضر کے جدید نظم نگار ، افسانہ نگار ، کالم نگار، محقق اور استاد ڈاکٹر انوار احمد (ملتان) شامل ہیں۔

اگر ملک عزیز میں (مذہبی پابندی نکال کر) اس نظریے کی ضرورت نہ ہوتی تو یہ احباب اس نظریے کے فروغ کے لیے اپنی زندگیاں وقف نہ کرتے۔ جدید سیاسی مناظر اور ’’نظریہ عمرانی حکومت‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو سرمایہ داری نظام سے بچانا اور مزدور و محنت کش طبقے کی ترقی کے لیے ’’مارکسزم‘‘ کے مثبت پہلوؤں کو اپنانے کی ضرورت ہے اور عوام کی خوشحالی اور ملکی ترقی اسی راز میں مضمر ہے۔ ورنہ موجودہ حکومت اور سابق حکومت کے خدو خال اور جغرافیائی حدود میں کوئی فرق نہ ہے۔


ای پیپر