اپنی روح سے مکالمہ
25 فروری 2020 2020-02-25

٭ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ قرآنی آیت مبارکہ ہی نہیں ہر شخص کی کہانی بھی ہے۔

٭ دین اسلام آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری خطبہ اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک مکمل ہے باقی تمام باتیں زمینی ثقافت و تاریخ، اجماع، مصلحت و تعصب کے حوالے سے وراثت میں ملی ہیں جو مذہبی ثقافت بن گئیں۔

٭ توحید پر ایمان صرف یہ نہیں کہ انسان اللہ کو ایک مانے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بھی ایمان میں شامل اور شرک کی نفی ہے ۔

٭ موت کے خوف کی جگہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مالک دو جہاں سے ملاقات کا شوق پیدا ہو جائے تو انسان ولی اللہ اور زندگی آسان ہو جائے۔

٭ انسان کے بس میں اتنا ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے بس تسلیم کر لے۔

٭ اپنے منفی کردار کے بیجوں کی بوئی ہوئی فصل کاٹنا انسان کو سب سے برا اور تکلیف دہ عمل لگتا ہے۔

٭ ’’جان حاضر ہے‘‘ کہنے والوں سے ان کی دولت کا صرف ایک فیصد ہی مانگ لیں تو وہ جان لینے کے درپے ہو جائیں گے۔

٭ انسانی عمل گنبد کی آواز ہے جو لوٹ کر آتی ہے۔

٭ دکھ کے چند لمحے سالہا سال کی عبادت کے مقابلے میں انسان کو کہیں زیادہ اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔

٭ اس سے بڑھ کر کوئی سانحہ اور لطیفہ نہیں کہ ہر انسان موت اور انجام کی طرف بھاگ رہا ہے یہ سمجھ کر کہ وہ انجام اور موت پیچھے چھوڑ آیا یا اس سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

٭ خدا کے بنائے ہوئے ضابطے اور رشتے فطری طاقت اور انسان کے بنائے ہوئے بندھن بشری کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں۔

٭ اس کائنات میں سب سے ناپائیدار صرف زندگی ہے اور جانداروں میں انسانی زندگی خواہشات اور حسرتوں کے سبب سب سے زیادہ عبرتناک انجام سے وابستہ ہے۔

٭ زندگی کا حاصل وہ تذکرہ ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے چھوڑ دیا۔

٭ غم اور خوشی سوچ ہی کے دو انداز ہیں۔ ایسے واقعات جن کا تصور ہی، ہلا کر رکھ دے جن کے سوچنے کی ہمت بھی نہ ہو وہ وقوع پذیر بھی ہو جاتے ہیں اور انسان کو احساس تک باقی نہیں رہتا کہ وہ برداشت بھی کر چکا ہے۔

٭ روح کا روح سے تعلق ہی دائمی ہوا کرتا ہے جس کے ابلاغ کے لیے کسی رابطے کی ضرورت نہیں۔

٭ جس بندگی میں خشو و خضوع ،مکمل حاضری اور عرفان نہیں وہ عبادت و ریاضت محض عادت و مشقت ہے یا زیادہ سے زیادہ فرض کی ادائیگی۔

٭ نیکی وہ ہے جو کسی کو بغیر استحقاق، خوف، لالچ کے سکھ، آسانی، سکون اور ضرورت میسر کر دی جائے، اگر کسی کا استحقاق ہے جو ادا کر دیا تو وہ فرض ہے جسے ادا نہ کرنا گناہ اور قرض ہے۔

٭ سکھ، دکھ، سکون، عزت، ادب، ذلت، عظمت، راحت رد عمل کی صورت میں لوٹتے ہیں۔

٭ شکوے کی صورت میں دل و دماغ اور شعور میں پیدا ہونے والے الفاظ، خیالات اور احساسات کا اظہار ہی نہ کرنا دراصل صبر ہے۔ ہر حالت میں شکر کرنا، تزکیہ نفس اور نفس مطمئنہ کی معراج ہے۔

٭ پاس ہوتے ہوئے بھی اداس رہنا محبت و روحانی تعلق اور ہم آہنگی کا مظہر ہے جسے محبتوں کی معراج کہا جا سکتا ہے۔

٭ زندگی کا راز اس کو فانی اور کردار کو لافانی جان لینے میں ہے۔

٭ روح کا روح سے تعلق دائمی ہے جو ابلاغ کے لیے رابطہ کا محتاج نہیں اس کی تقویت و گہرائی خواہش نفی میں مضمر ہے۔ انسانی وجود کا سفر موت تک ہے جبکہ روح کا سفر ہمیشہ کے لیے ہے۔

٭ خاموشی میں ابلاغ ہونا محبت و ہم آہنگی کا نقطہ عروج ہے۔

٭ فطرت سے ٹکرانا بد بختی اور نتیجہ شکست و ریخت۔

٭ زندگی کے متعلق صدیوں اور برسوں کا تصور اور احساس لمحوں کے لیے ہو جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

٭ آج کا سانحہ بے حسی ہے۔

٭ آج کے کردار کا معیار ہے کہ پس غیر موجودگی میں سچ بولنے والے غیبت کے گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔

٭ یوں تو لوگ عجز و انکساری کا زبانی دعویٰ کرتے ہیں لیکن اگر ان سے اتفاق کر لیا جائے تو شدید غصہ کر جاتے ہیں۔

٭ ہر محل دوسروں کی قبروں پر کھڑاہے۔

٭ جب تک جسم جدا ہوں روحیں ایک ہوتی ہیں اورجب جسم ایک ہوتے ہیں تو روحیں جدا ہو جاتی ہیں۔(بنام محبت)

٭ حسد ایسی بیماری ہے جو اپنے بدن کے ساتھ دوسرے کو بھی ابتلائے مصیبت رکھتی ہے۔

٭ ضرورت سے زیادہ سامان زندگی محض چوکیداری کے لیے ہے۔

٭ اللہ کسی عقاب کو اتنا عاجز نہ کر دے کہ پناہ و غذا کے لیے اسے کسی چرند پرند کا گھونسلا دیکھنا پڑ جائے۔

٭ شیر کا شکار قابل فخر ، بہادری کی علامت اور انسانی ذوق کی عمدگی کا عکاس یہاں تک کہ شیر کی کھال ڈرائنگ روم میں سب سے نمایاں جگہ پر سجائی جاتی ہے لیکن!… اگر شیر کے پنجوں اور جبڑوں میں انسان مارا جائے تو وہ شیر کی درندگی؟ واہ! انسان مارے تو ذوق و مشغلہ اور اگر شیر جھپٹ پڑے تو درندگی ۔

٭ ہر محبوبہ نویں آسمان پر رہتی ہے۔

٭ جھوٹ ، طنز، بحث اور احساس برتری کا خناس پر کیف محبت کو شدید اکتاہٹ میں بدل دیتے ہیں جو ترک تعلق حتیٰ کہ نفرت پر منتج ہوتا ہے۔

٭ تنہائی انسان کو فطرت کے زیادہ قریب کر دیتی ہے۔

٭ مراقبہ روح کی غذا ہے۔

٭ حق اور اناء کی خاطر مرنے کے بعد اکڑنے سے بہتر ہے مرنے سے پہلے ہی اکڑ جائیں۔

٭ ہر چیز پر قدرت ہو سکتی ہے لیکن ماضی پر نہیں۔دنیا کی ہر شے فانی ہے مگر ماضی لافانی ہے۔

٭ انسان اپنے حسب نسب کے تعارف کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور اپنے کردار و عمل کی پہچان کے ساتھ اس دنیا سے جاتا ہے۔

٭ قہقہے اور بلک کر رونے میں لمحے بھر کا فاصلہ ہوتا ہے پھر صدیوں کا گمان کیوں ہو۔

٭ انسان اگر اپنا عمل اور طرز عمل ایسا بنائے کہ اس کو دوبارہ بھی دیکھ سکے تو کسی ایسی غلطی تصور بھی نہیں کر سکتا جس سے اس کی دنیا اور آخرت میں گرفت ہو سکے۔

٭ عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے۔

٭ جھکنے سے پھل نہیں بلکہ پھل لگنے سے درخت جھکتے ہیں۔

٭ چند لمحوں میں نہیں، چندسالوں میں نہیں نظریات و افکار اور اقدامات وافراد کے بارے میں منفی اور مثبت، کامیاب اور ناکام ہونے کا فیصلہ صدیوں تک بھی زیر بحث رہ سکتا ہے۔

٭ کئی معززین معاشرہ ایسے ہیں جن سے پیسہ اور مال و متاع الگ کر لیا جائے تو ایک بھی انسانی صفت باقی نہیں بچتی۔

٭ والدین خامخواہ گلہ مند ہوتے ہیں عورت (حوا) کی محبت میں تو آدم نے ممنوعہ شجر سے پھل کھا لیا تھا۔

٭ انتقال وصال پر دنیا سے مکتی بھی ایسی نعمت ہو گی جس کا اندازہ صرف اولیاء اللہ کو ہی ہو سکتا ہے۔

٭ منفی بات پر فشار خون کا تہہ و بالا ، دل کی دھڑکنوں کا بے ربط ہونا جبکہ مثبت بات پر مزاج میں شگفتگی، اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ جانا نتیجہ ہو سکتا ہے تو … اللہ کے کلام اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر انسانی بدن پر کیا اثر چھوڑے گا یہ گمان کے مطابق ہو گا۔

٭ مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد اسلامی امہ کی موجودہ قیادت اور بین الاقوامی سامراج کی ریشہ دوانیوں میں پانی کو ابالے چلے جانے کے مترادف ہے جس پر کبھی بالائی نہیں آسکتی۔


ای پیپر