درد میں ڈوبے لمحوں کا تصور
25 فروری 2020 2020-02-25

پاؤں میں کانٹا چبھ جائے یا کانچ کا معمولی ٹکڑا لگ جائے درد کسی کروٹ چین لینے نہیں دیتا آنکھ میں پڑا ریت کا ایک ذرہ تڑپا دیتا ہے ہمیں ذرا سی ٹھوکر لگ جائے تو کراہ اٹھتے ہیں کہیں سر میں درد ہو تو ہائے ہائے کئے جاتے ہیں بعض اوقات رات ہم اپنے ہی سائے سے ڈر جاتے ہیں کبھی ہم نے ان لمحوں کا تصور تک نہیں کیا جب رات کے اندھیرے میں آگ اگلتی دشمن کی توپوں کے سامنے سینہ تانے اور دن کے اجالے میں سرحدوں پر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہمارے فوجی جوان ارض وطن پر قربان ہونے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں کیا کسی نے کبھی اسکا تصور کیا ہے کہ جب65میں چونڈہ کے محاذ پر بھارت نے تقریباً ساڑھے چھ سو ٹینکو ں کے ساتھ ارض پاک پر چڑھائی کر دی اور دشمن کے مقابلے میں ہمارے پاس تقریبا ڈیڑھ سو ٹینک تھے دشمن کو زعم تھا کہ ارض پاک پر اپنے ناپاک قدم رکھے گا لیکن ہمارے جوانوں نے سینوں پر بم باندھ کر شمن کے ٹینکوں کے اتنے پرخچے اڑائے جنہیں وہ آج تک گن نہیں سکا ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ ایک کیپٹن کو جب دشمن کی گولیاں لگیں تو کیپٹن نے اپنی کمر سے بیلٹ اتار کر اسے

دی اور کہا کہ میری بیوی کو بتانا کہ میں نے سینے پر گولیاں کھائی ہیں سرحدوں کے علاوہ دشمن جب دہشتگردی کی صورت میں میرے پیارے وطن میں گھس آیا تو افواج پاکستان نے کونسی قربانی ہے جو نہیں دی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے قربان کر دیا ہمارے فوجی افسر وں کو دہشتگردی کا ازدہا نگل گیا لیکن دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے ہم اپنی فوج کے احسانوں کا قرض کبھی نہیں اتار سکیں گے ازلی دشمن بھارت نے قیام پاکستان کے بعد کبھی آبی دہشتگردی سے کام لیا تو کبھی گولہ بارود سے آگ برسائی لیکن ہمیشہ وہ نامراد رہا بھارت اس بات کا ادراک کر چکا تھا کہ کھلم کھلا جنگ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تو ’را‘ کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشتگردی شروع کردی بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘را’’کا حاضر سروس ایجنٹ کلبھوشن یادو اسکا ایک ثبوت ہے جو بلوچستان سے پکڑا گیا 2007میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن یشن ’راہِ حق‘ شروع کیا جس میں کامیابی ملی اور سوات میں امن ہوا آپریشن راہ راست اور راہ نجات نے 2009میں دہشتگردوں پر کاری ضرب لگائی اور قبائلی علاقوں میں امن کے گیت گائے جانے لگے اسکے بعد دہشتگردوں نے پھر سے پھن پھیلایا اور ملک کی معصوم فاختاؤں کو ڈسنے لگے آرمی پبلک سکول کا سانحہ رونما ہوا جس نے ہر پاکستانی کے دل کو گھائل کر دیا کئی قائد ین سرعام قتل کر دئیے گئے تو ’ضربِ عضب‘کے ذریعے افواج پاکستان نے دہشتگردی کا ناگ کچل ڈالالیکن دہشتگردوں کے اندر نفرت کی آگ لگی ہوئی تھی بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا جسکی زد میں آکر آئے روز بے گناہوں کی جانوں سے کھیلا جانے لگا تو 22 فروری 2017 کو پورے ملک میں ’ردالفساد‘ کے نام سے ایسا آپریشن شروع کیا گیاجس نے ملک کے امن کو تہہ وبالا کرنے والوں کا ہر جگہ تعاقب کیا جنرل راحیل شریف ہوں کہ جنرل قمر جاوید دشمن ان سے تھر تھر کانپنے لگا آج ملک افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کے باعث امن و سکون کا گہوارہ ہے اب سکھ چین کے نغمے گنگنائے جا رہے ہیں دنیا بھر کے سیاح پاکستان آ رہے ہیں اور پاکستان کے عوام عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا نہیں ہیں لہٰذا پاکستان سے محبت کیجئے افواج پاکستان سے محبت کیجئے ۔


ای پیپر