اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
25 فروری 2020 2020-02-25

(پندرہویں و آخری قسط۔ گزشتہ سے پیوستہ)

میں اپنے گزشتہ کالم میں وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے چند روز قبل نامزد وزیراعظم عمران خان کو میڈیا کے حوالے سے دیئے گئے مشوروں کی تفصیل عرض کررہا تھا۔ اِس موقع پر اُنہوں نے چند صحافیوں کا نام لے کر اُن پر جو الزامات لگائے اُن میں ایک دو نام ایسے بھی تھے میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا، میں نے خان صاحب سے کہا اقتدارمیں آنے کے بعد آپ کو اپنا دل بڑا کرنا پڑے گا، دو چار اینکرز یا کالم نویسوں نے الیکشن کے دوران آپ کے یا پی ٹی آئی کے خلاف کوئی کردار ادا کیا بھی ہے آپ اُسے فراموش کرکے اُن بیسیوں اینکرز اور کالم نویسوں کا ذکر خیر کریں جنہوں نے الیکشن کے دنوں میں آپ کو سپورٹ کیا، میں نے اُن سے کہا ”آپ کو تو شاید اُن اینکرز اور کالم نویسوں کے بارے میں علم نہ ہو ، میں نے اُنہیں پیشکش کیمیں آپ کو ایک لسٹ فراہم کردیتا ہوں آپ کو زیادہ سے زیادہ دس پندرہ منٹ لگیں گے، آپ اِن سب کو کال کرکے اُن کا شکریہ ادا کریں، اُن سے گزارش کریں آپ کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی وہ آپ کی رہنمائی کرتے رہیں، میں نے تو اُنہیں یہاں تک مشورہ دیا جو اینکرز یا کالم نویس الیکشن کے دنوں میں آپ کے خلاف بولتے رہے آپ اُنہیں بھی کال کریں، اِس کا آپ کو فائدہ ہی ہوگا، میں نے اِس ضمن میں اُنہیں ایک واقعہ سنایا، یہ واقعہ میں پہلے بھی شاید لکھ چکا ہوں“....آصف علی زرداری اپنی کچھ حرکتوں کی وجہ سے مجھے سخت ناپسند تھے، میں نے اُن کے خلاف بہت لکھا، خصوصاً میں جب نوائے وقت میں تھا مجھے اُن کے خلاف کھل کر لکھنے کا موقع اِس لیے بھی مِل گیا نوائے وقت کے مالک مجید نظامی شریف برادران کی محبت میں زرداری کے کچھ زیادہ ہی خلاف تھے، 2008ءکے الیکشن کے نتیجے میں زرداری صدر بن گئے، چند دنوں بعد اُن کے دومخلص ترین ساتھیوں ڈاکٹر قیوم سومرو اور احمد ریاض شیخ نے مجھ سے رابطہ کیا اور زرداری صاحب کا پیغام مجھ تک پہنچایا وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، میں نے اُن کی فرمائش ٹال دی، اُن سے نہ ملنے کی دیگر وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی تھی میں اتنا اُن کے خلاف لکھ چکا ہوں مجھے اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم آئے گی، کچھ عرصے بعد زرداری کی مجید نظامی سے ملاقات ہوئی، اب مجھے صحیح طرح یاد نہیں پڑتا کہ وہ نظامی صاحب سے ملنے آئے تھے یا نظامی صاحب اُن سے ملنے گئے تھے، بہرحال اِس ملاقات کے بعد اچانک ایک روز نظامی صاحب کی طرف سے مجھے پیغام ملا ” آپ زرداری صاحب سے مِل لیں“،.... میں نے اُن سے پوچھا یہ آپ کا حکم ہے؟، وہ فرمانے لگے ”نہیں میرا مشورہ ہے“ .... جس انداز میں اُنہوں نے یہ کہا مجھے اُن کا ”حکم“ ہی لگا، میں نے سوچا اب جبکہ میں اُن سے ملنے کے لیے معذرت کرچکا ہوں اب خود اُن سے ملنے کے لیے کیسے رابطہ کروں؟،ایک دوروز بعد مجھے ایوانِ صدرسے ڈاکٹر فرح ناز اصفحانی کا فون آیا، وہ صدر زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری تھیں، بعد میں پتہ چلا وہ حسین حقانی کی بیوی بھی ہیں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر اُنہیں رکن قومی اسمبلی بھی بنایا گیا ہے، خیر اُنہوں نے مجھ سے کہا آپ کل 12بجے تشریف لے آئیں صدر صاحب سے آپ کی ملاقات ہے، اُنہوں نے پیشکش کی آپ کا ہوائی ٹکٹ اور ایک روزہ قیام کا بندوبست کردیا گیا ہے، میں نے اُن کی یہ پیشکش قبول کرنے سے معذرت کرلی، میں نے عرض کیا میں خود اپنی گاڑی پر آﺅں گا اور اُسی روز واپس چلا جاﺅں گا، زرداری سے ملاقات ہوئی۔ جس عاجزانہ انداز میں وہ مجھ سے ملے، جو الفاظ میرے بارے میں اور میرے کالموں کے حوالے سے اُنہوں نے کہے۔ اور بوقت رخصت کتابوں کے جو تحائف دیئے، میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایک شخص جو کتنے ہی سالوں اُن کے اور اُن کی پالیسیوں کے خلاف لکھ رہا ہو اُس کے ساتھ ایسا حسنِ سلوک وہ کریں گے، اُنہوں نے مجھ سے کہا ”ہم نے زندگی میں جو ارادہ کیا اللہ نے ہمیں کامیابی دی، یہ ممکن نہیں ہم یہ ارادہ کرلیں ہم نے آپ کو اپنا بنانا ہے اور ہم اِس میں ناکام ہو جائیں، چالیس منٹ کی اِس ملاقات میں بہت سی سیاسی گپ شپ بھی ہوئی، میں نے اُن سے اجازت چاہی وہ اپنے دفتر سے نکل کر ایوان صدر کی لفٹ تک مجھے چھوڑنے آئے، .... میں نے خان صاحب سے کہا ”آپ کے نزدیک اِس قسم کے اخلاقی رویوں کی شاید کوئی قدروقیمت نہ ہو ، پر زرداری کے ساتھ ملاقات کے بعد میں جب بھی اُن کے خلاف کوئی سخت بات لکھنے لگتا ہوں میرے اندر سے کوئی قوت مجھے روک دیتی ہے“....خان صاحب نے میری یہ ساری داستان غور سے سُنی پر اُن کی باڈی لینگوئج سے صاف ظاہر ہورہا تھا وہ یہ سن کر زیادہ خوش یا متاثر نہیں ہوئے، مجھے بھی یقین ہوگیا میں میڈیا کے حوالے سے اُن کی سوچ اور رویہ تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، .... آخری مشورہ میں نے اُنہیں یہ دیا ” اس وقت پاکستان کا ہرادارہ ہر شعبہ تیزی سے زوال کی جانب بڑھ رہا ہے، اداروں کو ٹھیک کرنے کے لیے یا اُن کی سمت درست کرنے کے لیے آپ کو بہترین ٹیم کا انتخاب کرنا چاہیے، پی ٹی آئی میں بے شمار پڑھے لکھے لوگ خصوصاً نوجوان موجود ہیں، اُنہوں نے الیکشن بھی جتیے ہیں، وہ مختلف شعبوں کے ماہر ہیں، بجائے اس کے آپ اپنی جماعت میں اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہونے والے لوٹوں، کھوٹوں اور کھوتوں سے کام چلائیں وفاقی کابینہ میں صرف ایسے لوگوں کو شامل کریں جنہوں نے برس ہا برس آپ کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت پاکستان بنانے کی جدوجہد کی ۔ جو واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، جو آپ سے خصوصاً اِس ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اُن میں کئی نوجوان ایسے ہیں جو پاکستان کی محبت میں اپنی برطانوی اور امریکی شہریت چھوڑ کر آپ کی جدوجہد میں شامل ہوئے ہیں، ممکن ہے وفاقی کابینہ میں کوٹہ ”آپ پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے، آپ اِس حوالے سے ہرممکن حدتک مزاحمت کیجئے گا، جنم جنم کے میلے اور لیک شدہ سیاسی لوٹوں کو وفاقی کابینہ میں اور صوبائی کابینہ میں آپ نے شامل کرلیا یہ محض چند مہینوں میں ملک ترقی کا آپ کا سارا ایجنڈہ برباد کرکے رکھ دیں گے، کیونکہ یہ ہمیشہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں، میں نے اِس موقع پر دس بارہ نام بھی لیے، جنہیں سنتے ہی وہ بولے ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اِن کو اپنی کابینہ میں ، میں شامل کروں“ .... میں اُن کی یہ بات سُن کر بڑا خوش ہوا پر دُکھ کی بات ہے اب وہ سارے وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، .... میں نے اُن سے یہ بھی کہا ”کسی بھی جماعت کے کارکن اُس جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، وزیراعظم بننے کے بعد آپ کا اُن کے ساتھ رابطہ کسی نہ کسی طرح جُڑا رہنا چاہیے“ ....افسوس خان صاحب نے میرے کسی مشورے پر عمل نہیں کیا، اِس مشورے پر تو بالکل ہی نہیں کیا کہ کارکنوں کے ساتھ آپ کا تعلق اور رابطہ جُڑا رہنا چاہیے، حالت اب یہ ہے پی ٹی آئی کے بڑے بڑے عہدیداروں کو وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے لیے ”بھائی لوگوں“ کا محتاج ہونا پڑتا ہے، اُن کی منتیں ترلے کرنے پڑتے ہیں، .... بس دُکھ ہوتا ہے جب میں سوچتا ہوں خان صاحب بلندیوں کے کس مقام سے پستیوں کے کس مقام پر آن پہنچے؟اُن کے اور اُن کی حکومت کے آدھے سے زیادہ مسئلے تو صرف اِسی سے حل ہوسکتے ہیں وہ اپنے کانوں کو پکا کرلیں اور اپنی زبان پر قابو پالیں، کبھی کبھی اُن کی باڈی لینگوئج خصوصاً اُن کی ”بونگیوں“ سے لگتا ہے صرف عوام نہیں وہ خود بھی مایوس ہوچکے ہیں، ” اس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں “ (ختم شد)


ای پیپر