مقبوضہ کشمیر ، خواتین کی عصمت دری ،قابض بھارتی فوج کا اہم ہتھیار
25 فروری 2020 (00:33) 2020-02-25

سرینگر:کشمیری خواتین کا یوم مزاحمت کو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف منایا گیا،روک سکو تو روک لو ایک سترہ سالہ کشمیری لڑکی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم تحریک آزادی کے دوران اپنے مردوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جب تک آزادی حاصل نہیں ہوگی، نہیں رکیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے جڑواں دیہات کنن اور پوش پورہ میں بڑے پیمانے پر عصمت دری اور تشدد سے بچ جانے والوں کی جدوجہد سے متاثر ہوکر 2014کے بعد سے ہر سال منایا جاتا ہے۔1991میں 23اور24فروری کی درمیانی شب انڈین آرمی نے وادی کشمیر کے کنن اور پوش پورہ گاوں میں سرچ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر 23سے 100 کشمیری خواتین کا گینگ ریپ کیا تھا۔اورمردوں کے ساتھ بھی بے دردری سے جسمانی تشددکیاگیا۔کنن اور پوش پورہ سے بچ جانے والوں کی تین دہائیوں سے جاری جدوجہد مقبوضہ جموں و کشمیر میں خطے میں ہندوستانی ریاست کے تنظیمی اور ساختی تشدد کے خلاف جاری وسیع جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔اس دن کے سلسلے میں ایک سترہ سالہ کشمیری لڑکی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم تحریک آزادی کے دوران اپنے مردوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جب تک آزادی حاصل نہیں ہوگی نہیں رکیں گے۔

2013میں مشہور وکیل اور ہیومین رائٹس اکٹوسٹ پرویز امروز کی نگرانی میں خواتین نے جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل رٹ دائر کی۔ جب ہائی کورٹ نے ان کی شناخت مانگی تو پچاس عورتوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ فوج نے نومبر 2013میں کپوارہ کورٹ میں اس کیس کو بند کرنے کے لیے ایک رٹ دائر کی جس کو کورٹ نے خارج کر دیا۔

اس کے بعد فوج نے بڑے ہتھکنڈے استعمال میں لائے اور کنن اور پوش پورہ میں دھماکہ بھی کرایا تاکہ یہ لوگ ڈر کے مارے اس کیس کو واپس لے لیں مگر ایسا نہیں ہوا ۔مئی 2014میں ہائی کورٹ کی جانب سے ایک حکم صادر ہوا جس میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ اس کیس کو خوددیکھے گی کیونکہ پولیس اس کیس کی تفتیش میں پوری طرح ناکام ہو گئی ہے۔یہ چوبیس سالوں کے بعد واقعی ان لوگوں کے لیے فتح تھی جو اس کیس کو چوبیس سالوں سے ایک سٹیٹ اور طاقت کے خلاف بہادری کے ساتھ لڑتے آرہے تھے۔اس لیے 23فروری 2013کو پہلی بار یوم مزاحمت خواتین کشمیر منایا گیا جو اب ہر سال منایا جاتا ہے ۔

میڈیا کے مطابق سی دن ڈی سی یاسین نے اس کیس کی حقیقت سب کے سامنے رکھ دی تھی۔ ڈی سی یاسین کی رپورٹ سچائی پر مبنی ہے جس کو وقتافوقتا مسترد کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔


ای پیپر