انتہا پسند جنونی فرقہ پرست نریندر مودی کی پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی
25 فروری 2019 2019-02-25

14 فروری 2019 بروز جمعرات مقبوضہ کشمیر کے سب سے شورش زدہ علاقے پلوامہ میں ایک مظلوم نو جوان نے فوجی گاڑی پر سوار افسران اور جوانوں سمیت 42 بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد نریندر مودی جو انتخاب کے بخار میں مبتلا تھا نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اب معاملہ فوج کے سپرد ہے جسے ہم نے پورا اختیار دے رکھا ہے کہ جس طرح چاہے پاکستان سے بدلہ لے۔ کل وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جیسے کوتیساکے طرز پر فیصلہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہیں بھارت کے ساتھ رویہ اختیار کریں ( پی ٹی وی21 فروری) عمران خان کے اس بیان سے پہلے ہی بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف نفرت طاعون کی طرح پھیل گئی اور فرقہ پرست مودی حکومت نے پاکستان سے کیے گئے تجارتی مراعات کے معاہدے کو فوراً منسوخ کر دیا ساتھ ہی مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان جاری بس سروس کو منقطع کر دیا گیا حتیٰ کہ پاکستان کو ٹماٹر کی بر آمد بھی بند کر دی گئی جس سے پاکستان کے کسانوں کو بڑا فائدہ ہوا کیونکہ وہ برسوں سے شاکی تھے کہ بھارت سے گلے سڑے ٹماٹر یہاں سستے داموں بکتے ہیں۔ جب کہ ہمارے اعلیٰ درجے کے ٹماٹر پڑے رہتے ہیں۔ نریند مودی کی حکومت نے غریب کرکٹر سدھو ( جو انڈیا کی کرکٹ ٹیم کا شاندار کھلاڑی تھا) کو بھی نہ بخشا اور اس کا مقبول ترین ٹی وی پروگرام بند کروا دیا۔ مودی نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ اسے اتنا رسوا کرے گا کہ پاکستان عالمی برادری میں یکا اور تنہا ہو جائے گا۔ یہ دھمکی کافی مضحکہ خیز تھی کیونکہ ایسے وقت میں دی گئی کہ جب وزیر اعظم پاکستان سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے کامیاب دورے کر چکے تھے اور ان تمام ممالک میں ان کی بڑی پذیرائی کی گئی تھی اور اس کے دو دن بعد ہی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان میں مہمان کی حیثیت سے رونق افروز تھے اور انہوں نے خود کو اپنے وطن سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر گردانا اور اس حیثیت سے ایک شاہی فرمان کے ذریعے سعودی عرب میں قید 2017 پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا اور ساتھ ہی پاکستان کا حج کا کوٹہ بڑھا کر 2 لاکھ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اندرون پاکستان حامیوں کی سہولت کے لیے امیگریشن آفس قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ سعودی عرب پاکستان میں اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے لیے پہلے مرحلے پر 20 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جن میں گوادر میں تیل صاف کرنے والے کارخانے، پٹرولیم مصنوعات کی تیاری، روائتی اور قابل تجدید توانائی ، معیاریت اور دو طرفہ تجارت وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ معزز مہمان نے یہ وعدہ بھی کیا کہ سعودی عرب پاکستان سے 50 کروڑ ڈالر سالانہ کا گوشت پھل اور سبزی در آمد کرے گا۔ ادھر امیر قطر سے یہ معاہدہ ہو ا ہے کہ وہ ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دیں گے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد بھی پاکستان تشریف لائے اور 6.2 ارب ڈالر کی امداد دی۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کیا اور یمن کی خانہ جنگی کے آبرو مندانہ خاتمے کے لیے فریقین پر زور دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے تنازع کشمیر کو عالمی سطح پر اس طرح اجاگر کیا کہ یورپی یونین کی ذیلی کمیشن برائے انسانی حقوق نے مسئلہ کشمیر کو اپنا خاص موضوع بنایا اور کشمیریوں پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تاکید کی ہے کہ وہ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر بی جے پی کے ظلم و ستم کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ اسے مبصرین پاکستان کی موجودہ حکومت کی سفارتی کامیابی اور فتح سے تعبیر کرتے ہیں۔ ( اسلام 21 فروری 2019 ) ۔ یہاں سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان یکا اور تنہا ہو گیا ہے؟ اس کے بر عکس ہمیں تو نریندر مودی تنہا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ جب شہزادہ محمد بن سلمان بھارت پہنچے تو نریندر مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پلوامہ واقعے کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ جبکہ سعودی وزیر خارجہ سے جب ایک بھارتی نے پلوامہ کے واقع میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے تو میں اس پر کیا تبصرہ کروں۔ ( پی ٹی وی ، پبلک نیوز 20 فروری 2019ء )

مندرجہ بالا سطور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت بھارت کی حکومت خود یکا اور تنہا کھڑی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف کچھ نہ کہا بلکہ دونوں ہمسایہ ملکوں ( پاکستان اور بھارت ) کو مل کر چلنے کی ہدایت کی ( پی ٹی وی پبلک نیوز، ڈان 20 فروری 2019ء )

دنیا جانتی ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے نہ صرف مسلمانوں خاص طور پر کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے دلتوں کی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کو تو آئے دن گائے کشی کے ’’ جرم ‘‘ میں مارڈالا جاتا ہے جبکہ دلتوں کو بھی نہیں بحشا جاتا کیونکہ وہ مری ہوئی گائے کی کھال اتارتے ہیں اور شاید گوشت بھی کھا لیتے ہیں۔ در اصل ہندوستان میں غذائی بحران ہے اور جس کو جو ملتا ہے وہ کھا لیتا ہے۔

نریند ر مودی اتنا کٹر ہندو ہے کہ وہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام وینایک گوڈ سے کو قومی ہیرو سمجھتا ہے اور آدم خور ہندو فرقہ پرست ساورکر کو دیوتا گردانتا ہے۔ جو ہندو توا کا پرچارک ہے۔ مودی نے 2002 ء میں گجرات میں صوبائی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بڑے خونی ہندو مسلم فسادات کرائے اور ایک کانگریس لیڈر جعفری کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے۔ انہی انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے نریندر مودی کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا اور کوئی مہذب ملک بالخصوص یورپ اور امریکہ اس شخص کو ویزا دینے پر تیار نہیں تھا اور یہ کلّی طور پر تنہا تھا لیکن ہندو مسلم فسادات کرا کر انتخاب میں کامیاب ہو گیا اور اکثریت کی حمایت سے وزارت بنا لی۔ اس کے بعد بھی اکثر ممالک مودی کو ویزا دینے میں پس و پیش کر رہے تھے لیکن بین الاقوامی سیاست کی منافقت کے باعث بالآخر اسے یورپ اور امریکہ آنے کی اجازت مل گئی اور امریکہ کے کالے صدر باراک اوباما نے اسے گلے لگا لیا اور بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر خصوصی مہمان کی حیثیت سے آکر براجمان ہوا۔ ادھر میزبان نریندر مودی کا یہ عالم تھا کہ اس نے اپنے سر پرایسی پگڑی باندھ رکھی تھی کہ جس کی کلغی شاید اس کے قد سے بھی اونچی تھی اور اسے دیکھ کر اوباما اور مشیل اوباما زیر لب مسکراتے رہے اور جب مودی روسی اسلحہ کی نمائش کر رہا تھا تو باراک اوباما بے زار ہو کر چیونگم چبا رہا جسے ہندوستان کے غیور شہریوں نے تو اپنی ہتک سمجھا لیکن نریندر مودی کسی دیسی مرغی کر طرح اتراتا رہا گویا بڑا قابل فخر کارنامہ انجام دے رہا ہو۔

اب نریندر مودی نے احساس کمتری کے باعث مسلمانوں اور دلتوں کی نسل کشی کی منصوبے پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمارا نظریہ ہندو توا ہے یعنی بر صغیر ہند میں جتنی قومیں آباد ہیں وہ ہندو ہیں۔یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ کسی طرح ہندو فرقہ پرستوں نے با بری مسجد مسمار کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ گرجا گھروں پر بھی حملے کیے اور انہیں تاخت و تاراج کیا۔ پودریوں اور راہوں کے بے دردی سے قتل اور رہباؤں کی عصمت دری کی گئی۔ اگر کسی کو یقین نہ ہو تو بھارتی اخبارات کے ماضی کے صفحات دیکھ لے یا انسانی حقوق کی تنظیموں کی تفصیلی روداد پڑھ لے۔ لیکن واہ ری مغرب کی منافقت کہ ایسے پلید اور ننگ انسانیت درندے کو سینے سے لگا ئے ہوئے ہیں اور اسے ایشیائی بحرالکاہل میں اپنا چوکیدار بنا رکھا ہے ۔ یہ اسی امریکی صدر اوباما کا منصوبہ تھا کہ بھارت کو چین کے خلاف کھڑا کر کے اس علاقے میں مداخلت کا جواز پیدا کرے۔ جیسا میں اپنے کالموں میں لکھتا رہا ہوں کہ یہ اوباما کی پالیسی تھی جو ڈونلڈ ٹرمپ کو ورثہ میں ملی۔ در اصل امریکی استعمار ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا تھا یعنی چین اور پاکستان اور اسی لیے امریکیوں نے بھارت کو مراعات دے کر جدید ترین لڑا کا طیارے f-16 کی ٹیکنالوجی منتقل کی تاکہ بھارت اس خطے میں چین اور پاکستان کے خلاف جارحیت کر سکے۔

قصہ مختصر یہ استعمار کی پرانی گھسی پٹی چال ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ امریکہ کی پشت پناہی سے نریندر مودی کے عزائم اتنے بڑھ گئے کہ وہ اس خطے میں کلّی طور پر بھارت کی بالا دستی چاہتا ہے لیکن اس کے تو سیع پسندانہ عزائم میں پاکستان اور چین مائل ہیں جنہیں وہ تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ بھارت کوئی دم بھی خطے میں جنگ شروع کر سکتا ہے۔ جس کے لیے وہ طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ اس نے کشمیری عوام کی تحریک آزادی روکنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی دی ہے جو کہ انتہائی مخدوش ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی اسلحہ سے لیس ہیں اور کوئی بھی علاقائی تصادم ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ یہ ہی بات اسے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم تباہ کن ثابت ہو گا۔اس لیے ضروری ہے کہ فریقین جنگ کا خیال دل سے نکال کر تصفیہ طلب مسائل کا مذاکرات سے حل نکالیں ( پی ٹی وی 20 فروری2019)۔

ایک طرف تو نریندر مودی کی رقہ پرست حکومت نے پاکستان کے خلاف ہذیان برپا کر رکھا ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کی آل انڈیا کانگریس نے مودی پر الزام لگایا ہے کہ وہ پلوامہ کے واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ( ڈان 22 فروری) ایسا معلوم ہوتاہے کہ بھارت کے انصاف پسند عناصر میں نریندر مودی کی مریضانہ ذہنیت کے خلاف شدید رد عمل ہو رہا ہے۔ جیسا کہ کشمیری بر ہمن نژاد اور عدالت عظمیٰ کے سابق جج جناب مارکھنڈے کا ٹجو نے بی جے پی کی حکومت کو متنبہ کیا ہے۔ کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور پاکستان سے جنگ کا تصور بھی نہ کرے کیونکہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور اس پر حملہ کرنا کوئی مذاق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کی غیر یقینی اور ظالمانہ پالیسیوں نے کشمیریوں کو ہمارے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ ( نیو چینل 21 فروری 2019 )

یہی نکتہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اجاگر کیا کہ جنگ کرنا یا نہ کرنا اختیار میں ہے لیکن جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو کسی کے اختیار میں نہیں رہتی کاش کہ جنونی مودی اس بات کو سمجھ سکے۔


ای پیپر