کشمیر اور مودی کا بھارت
25 فروری 2019 2019-02-25

دو ہفتے تک برصغیر کے دو بڑے ممالک کے درمیان شدید کشیدگی رہی۔ کشیدگی کی حد یہ تھی کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے اپنے فوجی سربراہوں کو مناسب صورت میں کارروائی کے اختیارات بھی دے دیئے تھے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات بہت غیر معمولی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس کو خطرناک قرار دیا اورحالات کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اور کہا کہ امریکہ اس کشیدگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اپک بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی بظاہر پلوامہ واقعے کے بعد ابھری۔ لیکن اس سے قبل بھی یہ چنگاری جل رہی تھی۔ بھارت کے اس جارحانہ اور جنگجویانہ رویے کو وہاں ہونے والے انتخابات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی اس بنیاد پر انتخابات جیتنا چاہتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی لگتی ہے۔ چھ آٹھ ماہ پہلے تک بھارت میں صورتحال یہ تھی کہ مختلف صوبوں میں چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپ ابھر رہے تھے۔ وہ مودی کی حکمران بی جے پی کو شکست دینے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر قرب آرہے تھے۔ اگر ان گروپوں کے ایک دوسرے سے قریب آنے کا سلسلہ جاری رہتا تو شاید بی جے پی بڑی انتخابات میں بڑی اکثریت حاصل نہیں کرسکتی تھی اور اسکو حکومت بنانے یا اس وک مستحکم رکھنے کے لئے اتحادیوں کی ضرورت پڑتی۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران بھارت میں رونما ہونے والے واقعات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں جمہوری اور کثیر مذہبی، رواداری کا رنگ ہلکا پڑا ہے۔ اس کی جگہ انتہا پسندی، ملک خواہ خطے میں بالادست ہونے کی طرف گیا ہے۔ اس نئی پہچان نے روشن خیال، جمہوریت پسند، ملک کو ہر حوالے سے کثیر رنگی کے ماحول کے لئے خطرہ پیدا کردیا۔ مودی کی اس پالیسی کی ملک کے اندر بھی مزاحمت ہوتی رہی۔ فکری سطح پر یہ رجحان مضبوط ہورہا تھا۔جس کو سیاسی اور عملی شکل دینا باقی تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اس کے خلاف جو قوتیں جمع ہو رہی ہیں ان میں مخلتف الخیالی زیادہ ہے۔ اور ان کا اتحاد جو ابھی ابتدائی شکل میں ہے، ایک ملک گیر سطح قوت کی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے۔ اس صورتحال میں نریندر مودی ایک ایسے کارڈ کی تلاش میں تھے کہ وہ لوگوں کو ایک چھتری کے نیچے کھڑا کر سکے۔ اور رومانس پیدا کر سکے۔ مذہبی رومانیت بہرحال برصغیر کا المیہ رہی ہے۔ سیاست ہو یااور کوئی سماجی تعلق خوف اور لالچ یا بالادستی ہمیشہ انسان کے لئے پر کشش رہے ہیں۔ یہی تینوں چیزیں اس کی سوچ اور عمل کا اہم محرک رہی ہیں۔لہٰذا انہوں نے ہندوتوا اور پاکستان سے کشیدگی کا بیانیہ اختیار کیا۔

مودی کی پالیسی ایک طرف ملک کی اندرونی سیاست کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا توڑ ڈھونڈتی ہے تو دوسری طرف خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔اس خطے میں امریکہ اور سوویت یونین دو بڑے کھلاڑی رہے ہیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد خطے میں خلاء پیدا ہوا۔ نوے کے عشرے میں امریکہ کی دلچسپی ختم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ افغان کی پراکسی جنگ میں اہم پارٹنر پاکستان کوامریکہ نے اعلانیہ طور پر غیراہم قرار دے دیا تھا۔پھر ہوا یہ کہ چین اور انڈیا اپنا اثر رسوخ بڑھانے لگے۔ ان کی معیشتیں بڑی تھی اور وہ براہ راست کسی بڑے اور جلتے ہوئے تنازع میں ملوث نہیں تھے۔اس لے ان کو یہ سہولت حاصل ہو گئی کہ وہ اپنی حیثیت منائیں اور ایک جگہ حاصل کر لیں۔ پاکستان دشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کا پارٹنر بنا تو کچھ دہشتگردی اس کو اپنے حصے میں بھی آئی، جس کا وہ خود بھی شکار ہوتارہا۔ دوسری جانب پڑوسی ممالک پاکستان پر دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کا الزام لگاتے رہے۔

اب جب افغانستان سے امریکہ اپنی افواج کے انخلاء میں سنجیدہ ہے ، اور تیاری کے لئے طالبان سے بات چیت ہورہی ہے۔ تو ایک بار پھر خطے میں خلا پیدا ہونے جارہا ہے۔ اس خلاپر کرنے کے لئے چین اور انڈیا دونوں کوشان ہیں چین کا سی پیک منصوبہ خطے سے بعد از امریکی انخلاء کے لئے بنائے رکھا تھا۔اس منصوبے میں پاکستان حصہ دار ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا ایران سے قربت رکھتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا میں اپنا مارکیٹ اور رول یقینی بنانا چہاتا ہے۔ چہار بہار بندرگاہ اس کی واضح مثال ہے۔ ابھی انڈیاور چین کے درمیان مقابلہ جاری تھا کہ سعودی عرب بھی خطے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں آگیا ہے۔ یہ خطہ جہاں اکثرمسلم ممالک ہیں، لہٰذا سعودی عرب کے لئے سوچ کے حوالے سے نرم گوشہ موجود ہے۔ انڈیا اپنی پالیسیوں کو منتوع بنا رہا ہے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اور کشیدگی ہے۔ جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع ہے لیکن انڈیا کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے معاشی تعلقات ہیں۔ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے انڈیا میں سعودی عرب نے کئی گنازیادہ سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے انڈیا میں معاشی مفادات زیادہ ہیں۔ سعودی عرب علاقے میں نہ صرف معاشی بلکی جغرافیائی حکمت عملی اور فوجی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس خطے میں اہم کردارا دا کرنا چاہتا ہے اس مقصد کے لئے مسلم ممالک کی اتحادی فوج کی بنیاد رکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشی معاملات میں انڈیا سے اور فوجی معاملات میں پاکستان سے قریب ہونے جارہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ہے لیکن یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ انڈیا سعودی عرب اور ایران دونوں سے نبھا کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب چین کے ساتھ اسلحہ اور بعض فوجی امور کے تعلقات بنانے جارہا ہے۔ ان دونوں کو قریب لانے میں پاکستان بھی رول ادا کرسکتاہے۔ ولی عہدسعودی عرب کا دورہ پاکستان، انڈیا، چین اور ملائیشیا اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

چند ماہ پہلے امریکہ نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض دینے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اب پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے ایک طرف آئی ایم ایف قرضہ دینے کے لئے تیار ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کی مالی مدد کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ خطے میں مختلف ممالک کا اباہمی روابط اور تعلقات کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ جاری ہے۔ اس کھینچاتانی نے ایک نئی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ جس کے اثرات مجموعی طور پر اس خطے کے صورتحال پر ہی نہیں بلکہ خطے کے ممالک کی اندرونی صورتحال خواہ سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ برصغیرکے عوام کو سمجھنا چاہئے یہ بات اہم ہے کہ آج کے دور کے مختلف جحانات اور تضادات کیلئے اس خطے کا میدان زیادہ موزوں ہے ۔القاعدہ، داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کیلئے میدانِ جنگ بھی یہی خطہ ہے۔ انڈیا کی ا ندرونی سیاست خواہ پاکستان کی طرف رویہ اور خارجہ پالیسی اس پس منظر میں ہی سمجھی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے موقف میں لچک آگئی، زبان نرم اور انداز بدل گئے۔ جس کا اظہار انہوں نے راجستھان میں ریلی سے خطاب کرتے وقت کیا۔

بھارت کی جنگ پسند رویہ کے باعث وہاں کی جمہوری اور رواداری اور برداشت کے نظام کو جو نقصان پہنچا سو پہنچا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ یہاں بھی رواداری اور برداشت کا ماحول دباؤ میں آگیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی پالیسی نہ صرف اپنے عوام کو بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور پورے برصغیر میں جمہوری اور رواداری کو پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ عالمی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور نئی صف بندیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے پاکستان خواہ بھارت دونوں کی جمہوری اور اہل دانش کو یہ پس منظر نظر میں رکھنا چاہئے اور اس اسی حوالے سے اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔


ای پیپر