نیو کاسل سے غرناطہ
25 فروری 2019 2019-02-25

ایزی جیٹ کی ایئر لائن تھی۔ لیکن پرواز ایزی نہ تھی۔ مہنگی تھی۔ کھانے کی اشیاء تو قیمتاً تھیں پانی بھی پیسوں کا تھا۔ جہاز چھوٹا تھا۔ سواریاں کم تھیں لیکن پوری تھیں بلکہ ڈبل پوریاں تھیں۔ گوریاں اور گورے تھے۔ اور شریف تھے۔وہ الگ بات ہم نے اپنی زندگی میں اتنے موٹے گورے اور اتنی چوڑی چکلی گوریاں کسی ایک جگہ نہیں دیکھی تھیں اور وہ بھی اس چھوٹے سے نمانے جہاز میں۔ جیسے ایک چھوٹے ڈربے میں ڈھیر ساری موٹی تازی مرغیاں اور مرغے پھڑپھڑا رہے ہوں۔ ایک طرف ہمیں جہاز پر ترس آتا جس پر اتنا گہرا گورا بوجھ ڈال دیا گیا تھا۔ اور دوسرے ہمیں خود پر خوف آتا۔ اگر اس بوجھ سے یہ جہاز ادھر ادھر ہو گیا۔ لیکن قابل اطمینان بات یہ تھی۔ جہاز ادھر ادھر تو ہوا لیکن اوپر نیچے نہیں ہوا۔ جونہی کوئی موٹا گورا جہاز میں چلنا شروع کرتا۔ جہاز یوں ڈولنے بلکہ جھومنے لگتا جیسے اس نے پکا کش لگا رکھا ہو۔ ہم چونک کر دیکھتے۔ یہ جہاز ہچکولے کیوں کھا رہا ہے۔ اور معلوم پڑتا۔ جہاز اس بوجھ تلے ہچکیاں لے رہا ہے۔ حد تو یہ تھی۔ ایک ریکارڈ توڑ لحیم شہیم گورا اپنی سیٹ پر فٹ ہونے سے قاصر تھا۔ اور سارا راستہ اس نے کھڑے ہو کر سفر کیا۔ اوپر سے وہ کمبخت اتنے دلدوز طریقے سے قہقہہ لگاتا۔ کہ جہاز کو اپنی پڑ جاتی۔ ستم ظریفی یہ تھی۔ ایک طویل قہقہے کے بعد اس کا منہ بند ہو جاتا۔ لیکن اس کا وسیع رقبے میں پھیلا پیٹ بدستور اچھل کود کرتا رہتا جیسے انڈر گراونڈ قہقہہ جاری ہو۔ جبکہ ہمارے ساتھ بیٹھی گوری ایک بار ٹھیک ٹھاک ہنس کر خاموش ہو جاتی۔ لیکن اس کا قہقہہ پھر بھی نکلتا رہتا۔ ہم نے کافی سائنس لڑائی۔ اس کے اس بعد از خاموشی قہقہے کا سورس معلوم کر سکیں۔ لیکن ہر بار شدید ناکامی ہوئی۔ کئی بار ایسا ہوا وہ موٹا اور یہ موٹی ہنس کر چپ ہو جاتے لیکن موٹے کے پیٹ میں زلزلہ اور اس موٹی کے بند ہونٹوں پر قہقہہ جاری رہتا۔ سفر مختصر تھا۔ ورنہ جہاز میں زلزلے کی یہ کیفیت نجانے کب تک جاری رھتی۔ اوپر سے پینے پلانے کا عمل جاری تھا۔ گورے سارا سال جوڑتے ہیں تاکہ چھٹیوں پر جا سکیں۔ اور اس جہاز پر لگتا تھا۔ جیسے ایک دو گورے محلے اکھٹے ہو کر آ گئے ہیں عجیب چہل پہل اور تہوار جیسی کیفیت تھی۔ بوڑھے بھی خوشی کے مارے کلکاریاں مار رہے تھے۔ ادھر پائلٹ نے لینڈنگ کا اعلان کیا۔ اور ادھر ایک گوری نے آ کر چیک کرنا شروع کیا۔ ہم نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھی ہے۔ ہماری سیٹ سیدھی ہے۔ اور ہماری کھڑکھی کھلی ہے۔ اور خدا کا کرنا ایسا ہوا۔ نہ ہماری سیٹ بیلٹ بندھی تھی۔ نہ سیٹ سیدھی تھی۔ اور نہ کھڑکھی کھلی تھی۔ ایئر ہوسٹس نے ایک دلربا مسکراہٹ سے ہمیں دیکھا۔ ہم نے جوابا ایک ہونق بلکہ یملی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بیلٹ لگانے کا کہا۔ ہم نے اپنے ہاتھ سے بیلٹ باندھی۔ اس نے ہماری سیٹ سیدھی کی۔ اس کے اشارے پر کھڑکی بند کر دی۔ اور باہر کی فضاء سے ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا۔ یہ رابطہ اندر بھی ٹوٹ چکا تھا۔ اور وہ گوری ایئر ہوسٹس اب ایک اور مسافر کی سیٹ سیدھی کر تھی۔ ہم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ شالا مسافر نہ تھیوے کوء۔ لیکن بات یہ تھی۔ یہ سفر ہمارا خود اختیار کردہ تھا۔

چند دن پہلے ہمارے بڑے بیٹے نبیل نے ہم سے پوچھا۔ چھٹیوں پر مراکو چلیں۔

ہمارا جواب تھا۔ سپین

پراگ ، وینس اور ویانا چلیں۔

ہمارا جواب تھا۔ غرناطہ ، قرطبہ اور اشبیلیہ

وہاں کیا پڑا ہے۔

ہمارے خواب ، ہمارا بچپن

کیا ہسٹری پڑھی تھی۔

تاریخ بھی اور نسیم حجازی کے ناول بھی۔

یہ کون تھا ؟

چھوڑو یہ کون تھا۔ بس تمہاری نسل خوش قسمت ہے۔

کیوں خوش قسمت ہے۔

تم لوگ مسلمانوں کی نشاتہ ثانیہ سے بچ گئے۔

اور تین دن بعد نبیل نے کہا۔ اسپین کا پروگرام فائنل ہو گیا ہے۔ اور اج ہم ایزی جیٹ کی فلائٹ میں ایزی لوڈ بن کر بیٹھے تھے۔ اور موٹے گوروں اور گوریوں کی اچھل کود سے محفوظ ہو رہے تھے۔ مالاگا یعنی مالقہ سے ہم نے غرناطہ کے لیے ٹیکسی بک کروا رکھی تھی۔ راستے میں ٹیکسی ڈرائیور سے جو مختصر گفتگو ہوء۔ وہ کچھ یوں تھی۔

اپ کا نام

منا لو

ہسپانوی

سی یعنی یس

منا لو کے معنی

میں خائن میں رہتا ہوں۔

بزنس کیسا ہے۔

قریب ہی ہے۔

یہ درخت کونسے ہیں

دو سو میل

ٹیکسی تمہاری ہے۔

میرے تین بچے ہیں

ہمیں معلوم ہو گیا۔ منا لو کو منانا اتنا آسان نہیں۔ وہ انگریزی میں پیدل تھا۔ اور ہم ہسپانوی کی الف بے سے ناواقف۔ چناچہ کچھ دیر اشاروں میں بات کی۔ اور پھر طویل خاموشی۔ راستہ خوبصورت تھا۔ اور ہم یہی سوچتے رہے۔ آج سے چند سو سال پہلے مالقہ سے غرناطہ پہنچنے کے لیے گہوڑوں کی پشت پر کتنی دیر لگتی ہو گی۔ کیا یہ وہی سڑک ہے ؟ جس پر کبھی گھڑ سوار سفر کرتے تھے۔


ای پیپر