بھارت اور پاکستان کا سیاسی منظر نامہ
25 فروری 2019 2019-02-25

پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظوں کی جو گولہ باری ہو چکی اس کی ابتدا بھارت نے ہی کی تھی۔یہ ایک سوچی سمجھی کوشش ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ آنے والے لوک سبھا انتخاب میں بھارتی ووٹ سمیٹ سکیں اور یہ مہم جوئی مودی کے لیے دوسری مدت کے وزیر اعظم بنے کا راستہ صاف کر سکے۔ مودی سرکار نے پلوامہ واقعہ کو لے کر پاکستان کو بدنام کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا ہے یہ حکمت عملی درست نہیں سیاسی بلیک میلنگ بھی ہے ماضی میں بھارت نے سیاچن پر جو کچھ کیا یہ بھارت کی جارحیت کا ایسا ثبوت ہے جو افسوسناک بھی ہے۔ مشرف دور میں کارگل کا جو معاملہ اٹھا تھا اس نے بھارتی فوج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا تھا۔نواز شریف کے ساتھ فروری 1999 میں واجپائی نے معاہدہ لاہور کیا تھا۔گارگل کے معاملا ت کو لے کر بھارت کی بی جے پی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان پر حملہ کریں گے جنگ کی دھمکیوں کے جواب میں پاکستان صلح کے راستے پر چل پڑا، امریکہ نے ایک ٹیلی فون کال اسوقت کے صدر بل کلنٹن نے بھی کرڈالی ۔نواز شریف اس بحث میں الجھے بغیر اس روز امریکہ روانہ ہوئے جب پورے امریکہ میں آزادی کے دن کی چھٹی ہوتی ہے اس روز وائٹ ہاوس کا ساراعملہ چھٹی پر تھا۔ بل کلنٹن نے نوا شریف سے ملاقات کی البتہ امریکہ صدر کے کشمیر کے گول مول وعدے کے مطابق نواز شریف نے انتہا پسند ہندوں کو ٹھنڈا کردیا۔البتہ اس کی نوازشریف کو کا فی قیمت چکانی پڑی۔اب پاک بھارت تعلقات میں ایک بار پھر گرماگرمی کا دور چل رہا ہے۔ پس منظر میں جنرل شاہد عزیز اور مرحوم جنرل گلزار کیانی نے بھی روشنی ڈالی تھی۔ بھارت نے ایک بار پھر 2001 میں اٹیمی جنگ چھڑنے کا اعلان کیا۔ یہ وقت وہ تھا جب نائن الیون کے بعدپاکستان امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ اس میں اسوقت کے امریکی صدر بش اور پینٹاگون سب سے زیادہ پریشان تھا۔ امریکہ کی جانب سے امن قافلے چل پڑے تھے۔ نائب وزیر خارجہ کریسٹینا روکا نے پہلے بھارت پھر واہگہ بارڈر کے زریعے پاکستان آئیں ۔ بھارت نے منہ کی کھانے کے بعد کنڑول لائن پر امن رکھا۔ ایسی مہم جوئی راجیو گاندھی نے بھی شروع کی تھی۔ضیا الحق سیاسی حوالے سے ناپسندیدہ حکمران رہا ہے اور تاریخ میں بھی انکا یہی مرتبہ درج ہے۔ پاکستان کو اٹیمی طاقت بنے سے پہلے ہی پاکستان سے جنگ کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔اس کے جواب میں ضیا الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کا پتہ پھینکااور بھارت میں راجیو کو امن اور دوستی کا لیکچر بھی دیا۔جب راجیو ضیا الحق کو دورے کے اختتام پر الوداع کرنے لگے توضیا الحق نے ان کے کان میں ایک جملہ پھینک کر اس کے طوطے اڑا دیے۔اس دھمکی کے بعد خود راجیو امن کی باتیں کرنے لگے۔ سپہ سالار کی تازہ حکمت عملی نے جنوب مشرقی ایشیا میں امن کاجو پتہ پھینکا ہے وہ زبردست ہے۔ ۔ امریکہ بھی اب دنیا کا چودھری بننے کی بجائے اپنے عوام کی ضرورتوں کے بارے میں سوچتا ہے۔امریکہ نہیں اصل قیمت تو پاکستان نے ادا کی ہی ۔ بھارت کو سوچنا چاہیے کہ وہ سیاست کے لیے پاکستان کا دشمنی والا چہرہ اپنے عوام کو کب تک دکھتا رہے گا۔خود بھارت ایک جنون میں مبتلا ہیبھارت ایک سیکولر ملک اور بھارتی آئین کی 42ویں ترمیم تمام مذاہب کو آزادیاں دیتی ہے۔ مگر یہ بھارت کے آئین کا اصل چہرہ نہیں ہے۔ یہاں کوئی بھی حکومت ہو اقلیتوں کا جینا ہر حکومت میں مشکل رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا عہد کشمیریوں اور بھارتی اقلیتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ ۔ ۔ 1980 کی دھائی میں خالصتان بناے کا مطالبہ زور پکڑا تو انتہا پسند ہندو بھی میدان میں آگئے۔ اندرا گاندھی کے حکم پر انڈین فوج کا گولڈن ٹیمپل میں یکم جون سے 8 جون ایک ہفتہ کا آپریشن بلیو اسٹارہوا۔ اس خونی آپریشن نے سکھوں کو ناراض کر دیا۔ رد عمل میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے بنگلے پر مشین گن کی گولیوں سے بھارتی وزیر اعظم کوقتل کر دیا۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد شدت پسند ہندوؤں نے آزادنہ 3 دن تک ملک بھر کی سکھ خواتین کا ریپ، سکھ مردوں کا قتل اور ان کے گھروں، کاروباری مراکز کو نذر آتش کیا۔سکھ مخالف فسادات کی پوری لہر بھارت میں پھیل گئی تھی تاہم نئی دہلی میں ہزاروں سکھ برداری کے لوگوں کو گھروں سے باہر گھیسٹ کر انہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ہندو انتہا پسندوں کو شرمناک چہرہ اس وقت بے نقاب ہوا جب مسلمانوں کے خلاف مذہبی جذبات کو بھڑکایا گیا۔6 دسمبر 1992 کو دن 12 بجے بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کی موجودگی میں بابری مسجدکوشہید کردیا ۔ نریندر مودی 2001 میں گجرات کے وزیر اعلی بن گئے اب ان کے بھی مسلمانوں کے خلاف حوصلے بلند ہوگئے۔ 2002 میں گجرات کے فسادات میں مودی نے غنڈوں کو کھلے عام دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی ۔گجرات فسادات کے2 سے 3 دنوں میں 1500 مسلمانو ں کا سڑک پر قتلِ عام کیا گیا۔ مودی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے تب سے گائے کی حفاظت کے نت نئے حربے آزما رہی ہے۔ ۔ پاکستان آج تک سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو نہیں بھولا جب اٹھارہ فروری 2007 کی درمیانی رات دلی سے لاہور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی دو بوگیوں میں رکھے گئے بم دھماکوں میں 68 افراد زندہ جل گئے جن میں ساٹھ پاکستانی تھے مریکا کے مذہبی آزادی کے نگران ادارے ''کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم'' نے بھانڈا کے سیکولرازم کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ مذہبی آزادی پر جاری رپورٹ کے مطابق بھارت میں نہ صرف مسلمان بلکہ نچلی ذات کے ہندو دلت بھی محفوظ نہیں۔

رپورٹ میں مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر کا پارلیمنٹ میں دیا بیان شامل کیا گیا ہے۔ بیان میں انہوں نے کہا کہ 2017 میں 822 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں 111 افراد ہلاک اور 2،384 زخمی ہوئے۔ شدت پسند ہندو تنظیموں نے گزشتہ برس دس مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ بھارت میں اس وقت کیفیت ہے اس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تحریک حریت کا نمایاں ہونا ہے کشمیریوں کی تیسری نسل آزادی کے لیے پرعزم ہے۔ دہلی اس وقت مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے،

مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کے لیے وادی میں نافذ العمل بھارتی آئین کی دفعہ 370 کی شق 35 اے میں ترمیم کرنے کے لیے پر تول رہی ہے، جس کے بعد ہندوؤں کو کشمیر منتقل کرنے کی راہ میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں رہے گی، اور ریاست جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔ جب تک کشمیر کا ایک ایک بچہ موجود ہے یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکتی جو بھی ہو جانا امن کی طرف ہی پڑے گا۔ دونوں جانب سے فوجی سطح پر جو تیاریاں ہو رہی ہیں وہ امن کے لیے ہیں۔ اب جنگ ہوگی اور ضرور ہوگی ہونی بھی چاہیے۔ یہ جنگ معاشیات کی ہونی چاہیے۔اس خطے میں سب سے زیادہ غربت،بیروزگاری ہے۔ اس خطے میں دونوں طرف سے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔اب پاکستان ماضی جیسا نہیں ہے۔


ای پیپر