پلوامہ حملہ ،سوالات،الزامات اور حل
25 فروری 2019 2019-02-25

14 فروری کو کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں ہندوستان کی سنٹرل ریزرو پولیس فور س (سی آر پی ایف)کے جوانوں کو لے جانے والی گاڑی پر خودکش حملہ میں 40 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ہندوستان کے سیکیورٹی اہلکاروں کا یہ قافلہ جموں سے سری نگر جارہا تھا۔بتایا جارہا ہے کہ اس قافلہ میں 70 سے زیادہ گاڑیاں تھیں ،جس میں 2500 اہلکار سوار تھے۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فدائی حملہ مقامی باشندے عادل احمد نے کیا ہے۔ پلوامہ سانحہ کے بعد ہندوستان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔12 دن گزرنے کے باوجود نہ ہندوستان کی چیخیں ختم ہو رہی ہیں اور نہ ہی ان کے آنسو تھم رہے ہیں۔ پلوامہ حملہ کے فوری بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نر یندر مودی نے بغیر کسی تحقیق کے اس فدائی حملہ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی تھی،لیکن خود ہندوستان اور پوری دنیا نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ پلوامہ حملہ سے ایک روز قبل ایران کے پاسداران انقلاب کی بس پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں 20 اہلکار جاں بحق ہو ئے تھے۔یہ دونوں واقعات اس وقت ہوئے کہ جب 3 دن بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے والے تھے۔پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہونے پر دستخط ہونے والے تھے۔کیا ایسے حالات اور صورت حال میں اسلام آباد یہ رسک لے سکتا تھا کہ تہران اور دلی کو بارود سے بد بودار کر دے؟کیا ایسے حالات میں کہ جب پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو نے والی ہو ،اسلام آباد کے لئے خطے میں کشیدگی فائدہ مند ہو سکتی ہے؟ یقیناًاس کا جواب نفی میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ نر یندر مو دی کے الزامات کو پوری دنیا نے مسترد کیا۔لیکن ایک سوال جو فدائی عادل احمد کے والد نے ہندوستان سے پوچھا کہ میرے بیٹے کو کس نے خود کش حملہ آور بنا یا اس کا جواب ابھی تک نر یندر مو دی نے نہیں دیا۔ خود ہندوستان کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب حملہ آور معلوم اور مقامی ہے تو پھر الزام پاکستان پر کیوں لگا یا جارہا ہے؟پاکستان کہ جس میں سالوں بعد امن لوٹ آیا ہے وہ کیوں خطے میں عدم استحکام پیدا کر یگا؟ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) متحدہ عرب امارات میں جاری ہیں۔ چوتھے سیزیں کے آٹھ مقابلے پاکستان میں ہونے ہیں۔امکان یہی ہے کہ ایک دو سال بعد ،پی ایس ایل کے تمام مقابلے پاکستان ہی میں ہونگے۔تو قع کی جارہی ہے کہ پی ایس ایل پاکستان میں لوٹ آنے سے یہاں کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہو نگے۔بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ پاکستان کا رخ کریگی۔ایسی صورت حال میں واقعی کو ئی احمق ہی ہوگا کہ جو اپنی ٹانگوں پر خود ہی کلہاڑی مارے گا۔چند بر س قبل صورت حال یہ تھی کہ پاکستان میں روزانہ 3 ،4 دھماکے ہوا کر تے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مہینوں بعد دہشت گردی کی کوئی ایک آدھ کارروائی رونما ہو جاتی ہے۔جس ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں لوگوں کی قربانی دی ہو۔ جس کے لاکھوں افراد دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے ہوں۔جس کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان دہشت گر دی کی وجہ سے بر داشت کرنا پڑا ہو ا،وہ ملک کیوں خطے میں اس وقت عدم استحکام پید ا کرنے کی کو شش کریگا کہ جب وہاں امن واپس لو ٹ رہا ہو؟ جب ان کے کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہونے والے ہوں ۔ جب ان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے دنیا بھر سے سرمایہ کار آرہے ہوں، تو کیوں خطے میں دہشت گردی کو زندہ رکھنے کی حماقت کر یگا؟

پاکستان اس وقت افغانستان میں قیام امن کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہے۔اگر ایک طر ف وہ کابل میں دہشت گر دی کی آگ پر پانی ڈال رہا ہے تو دوسری طرف وہ تہران اور دلی میں اسی آگ کو ہوا کیوں دے گا؟دہشت گردی کی آگ کے شعلے کابل میں ہوں، تہران یا دلی میں اسلام آباد اس سے براہ راست متاثر ہوتا ہے تو پھر کیوں وہ افغانستاب میں اسی آگ کو بجھانے جبکہ ہندوستان اور ایران میں اسے بڑھکانے کی کوشش کریگا؟یہی وہ بنیاد ی نقطہ ہے کہ جو ہندوستان اور ایران کو سمجھ نہیں آرہا ہے اور بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزامات لگا رہے ہیں۔

پلوامہ میں ہندوستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر خود کش حملہ اس وقت کیا گیا کہ جب بلو چستان سے گر فتار بھارتی بحریہ کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو کا مقدمہ چند روز بعد سماعت کے لئے مقرر تھا۔ایسی صورتحال میں پاکستان کو کیا ضرورت تھی کہ پلوامہ میں ہندوستان کے سیکیوورٹی اہلکار وں پر حملے کا رسک لے کر عالمی عدالت انصاف میں اپنا مقدمہ کمزور کرتے۔پوری دنیا کو معلوم ہے کہ مقبو ضہ جموں کشمیر میں ہندوستان کی فوج نے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔نو جوانوں کو مارا جارہا ہے۔بزرگوں کو اپاہج بنایا جارہا ہے۔عورتوں کو بے آبرو کیا جارہا ہے۔نہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ عزت اور نہ مال۔ایسے میں کشمیر کے باسیوں کے پاس ایک ہی حل ہے کہ جب بھی موقع ملے ہندوستان کے فوجی اہلکاروں کو سبق سکھانے کے لئے نشانہ بنا یا۔آزادی کی اس 70 سالہ جدوجہد میں لاکھوں کشمیریوں نے جانوں کے نظرانے پیش کئے ہیں۔ لا کھوں کی تعداد میں لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے ہیں۔لاکھوں خواتین نے عزتوں کی قربانیاں دی ہیں۔ظلم کی یہ رات اتنی طویل اور اندھیری ہے کہ جب بھی کشمیری عوام کو مو قع ملتا ہے وہ بدلہ لینے کے لئے کسی بھی کارروائی سے گریز نہیں کرتے۔ اس لئے ہندوستان کو چاہئے کہ پاکستان پر الزامات کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرکریں اس سے ان کو جواب مل جائے گا کہ کشمیر کی عوام ہندوستان کی فوج سے نفرت کیوں کر تے ہیں؟

رہی بات دھمکیوں کی تو یاد رہے کہ ہندوستان کبھی بھی حملے کی غلطی نہیں کریگا۔چند مہینے بعد ہندوستان میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔سب ڈرامہ اسی لئے رچایا جارہا ہے۔ افغانستان میں بھی صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں ،اس لئے وہاں بھی پاکستان مخالف جذبات بھڑکانے کے لئے میدان گر م ہے۔میرے خیال میں ہندوستان ،افغانستان اور ایران کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت بھی نہیں اس لئے کہ یہاں کے سیاست دان ذاتی مفاد کے لئے ماحول کو گر ما دیتے ہیں۔دو وجوہات ہیں اس کی ۔ایک اندرونی ملک عوام کی ہمدردی حا صل کرنا اور دوسرا پاکستان میں مو جود اپنے تنخواہ داروں کو باور کرانا کہ جاگتے رہنا ہم تمھارے ساتھ ہیں۔تینوں ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ہر دو ،تین سال بعد وہ ماحول کو نہیں گرمائیں گے تو پاکستان میں مو جود ان کے آلہ کار لبرلز دانشور ،نام نہاد قوم پرست اور متشدد ہم فرقہ کسی اور طرف نکل جا ئیں گے اور ان کی عشروں کی محنت اور سرمایہ کاری ختم ہو جائے گی۔اگر پاکستان میں مو جود یہی لبرلز دانشور ، نام نہاد قوم پرست اور ہم فرقہ لوگوں پر ان ممالک سے امداد کوبند کر دیا جائے تو مجھے امید ہے کہ تینوں ممالک سے دھمکیوں کا سلسلہ کسی حد تک ختم ہو جائے گا۔ پھر جنگ کی بجائے امن کی بات ہو گی۔بس پیسے رکنے کی دیر ہے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔


ای پیپر