ہمارے حقیقی مسیحا
25 فروری 2019 2019-02-25

یہ جنوری کا آغاز تھا ،بارش ہورہی تھی لیکن موسم کی خرابی کے باوجود جی ٹی روڈ پر واقع دینہ شہرکے ایک ہسپتال میں مریض جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ یہاں فری میڈیکل آئی کیمپ لگایا گیا تھا ۔ کیمپ کا اہتمام ضلع جہلم کی معروف سماجی تنظیم ،تنظیم مغلیہ نے کیا تھا ۔ظفر ہسپتال کے مالک ڈاکٹر ظفر نے اپنا دومنزلہ ہسپتا ل کیمپ انتظامیہ کے حوالے کردیاتھا ۔ میں خود بھی عرصہ پندرہ برس سے مریضوں کو دیکھ رہا ہوں اور ہر اتوار کو فری کیمپ لگاتا ہوں ۔اللہ کے کرم سے میں اب تک ہزاروں مریضوں کو مفت ادویات دے چکاہوں ۔ میرا طریقہ علاج ہومیو پیتھی اور متبادل ادویہ کا ہے ۔اس کیمپ میں بھی میں ادویات کے ساتھ موجود تھا ۔اگرچہ بنیادی طور پر یہ کیمپ امراض چشم کیلئے لگا یا گیاتھا لیکن ڈاکٹر ظفر اپنی ٹیم کے ہمراہ مریضوں کے جنرل چیک اپ کیلئے بھی موجود تھے اور مفت ادویات فراہم کررہے تھے ۔

الشفاٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کی ٹیم اپنے جدید ترین سامان کے ساتھ کیمپ میں موجود تھی ۔ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف پوری مستعدی کیساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔میرے لیے حیرانی کی وہی بات کہ دینہ شہر کوئی دوردراز کا علاقہ نہیں ہے لیکن پھر بھی وہاں بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔سوال یہ تھا کہ کیا ان لوگوں کے پاس ایسی کوئی سہولت نہیں ہے کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں کا مناسب اور بروقت چیک اپ کراسکیں یا انہیں شعور نہیں کہ آنکھیں دراصل زندگی ہیں۔

حالانکہ اس سوال کا جواب ہمیں چند روز پہلے مل چکا تھا ۔کیمپ کے انعقاد کے حوالے سے جناب ندیم ساجد مغل کی سربراہی میں منتظمین کے ایک وفد کی میٹنگ الشفاٹرسٹ کے کانفرنس ہال میں ہوئی تھی ۔ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈئر( ر) رضوان اصغر نے بڑی تفصیل سے اس معاملے پر روشنی ڈالی تھی ۔بریگیڈئر رضوان نے بتایا تھا کہ آنکھوں کے مریضوں میں اسّی فیصد ایسے مریض ہیں کہ اگر انہیں بروقت چیک اپ اورعلاج کی سہولت میسر آجاتی تو ان کی بینائی محفوظ ہوسکتی تھی ۔ انہوں نے یہ بھی بتا یا تھا کہ ملک میں بڑھتی آبادی کے لحاظ سے سہولیات کا فقدان بھی بڑھ رہا ہے اور دوسری مشکل یہ ہے کہ لوگوں میں آگہی بھی نہیں ہے ۔میٹنگ میں موجود آوٹ ریچ پروگرام کے انچارج کرنل ڈاکٹر طارق نے بتایا تھاکہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے دوردراز کے بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ڈاکٹر یا ہسپتال کا تصور ہی نہیں کیاجا سکتا ۔لیکن ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ الشفا کی ٹیمیں ایسے علاقوں میں بھی پہنچتی ہیں اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتی ہیں ۔بتایا گیا تھا کہ ہر ماہ سرجیکل میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں ۔سرجیکل کیمپ ایک لحاظ سے جدید طرز کے ہسپتال ہوتے ہیں جو ان علاقوں میں عارضی طور پر آنکھوں کے آپریشن کیلئے لگائے جاتے ہیں۔کانفرنس ہال میں بریفنگ کے بعد الشفا کے صدرلیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید سے ملاقات ہوئی تھی ۔یہ وہی جنرل صاحب ہیں جنہیں الخالد اورالضرار ٹینکس کے پروجیکٹ کا خالق کہا جاتا ہے۔الشفا ٹرسٹ کے بانی مرحوم جنرل جہانداد خان جنرل حامد جاوید کی انتظامی صلاحییتوں سے واقف تھے۔انہیں علم تھا کہ الشفا ٹرسٹ جیسے قومی ادارے کی ذمہ داریاں سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔جونہی جنرل صاحب ریٹائرڈ ہوئے جنرل مرحوم نے ذمہ داریوں کی یہ گٹھڑی جنرل حامد کے سر پر رکھی اور خود بڑے اطمینان کے ساتھ راہی ملک عدم ہوئے ۔

جنرل حامد جاوید نے ہمارے وفد کو بتایا تھا کہ لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے زکواۃ فارم کی پابندی ختم کردی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اندھے پن کا چیلنج اتنا بڑا ہے کہ اکیلا پرائیویٹ سیکٹر اس چیلنج سے نہیں نپٹ سکتا اس کیلئے حکومت کو بھی آگے آنا ہوگا ۔جنرل صاحب نے بتایا تھا کہ بچوں میں ایسی بیماریاں ہوتی ہیں کہ اگر پیدائش کے فوراً بعد ان کا معائنہ اور علاج نہ ہوتو جوانی میں بینائی ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔الشفا ٹرسٹ اس پرابلم کو کم کرنے کیلئے چلڈرن ہسپتال کی تعمیر میں مصروف ہے ۔یاد رہے کہ چلڈرن آئی ہسپتال کی بلڈنگ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ خطے کا یہ سب سے بڑا ہسپتال اس سال کے آخر میں کام شروع کردے گا ۔

دینہ میں فری میڈیکل کیمپ کے اختتام پر پانچ سو مریضوں کی آنکھوں کا چیک اپ ہوچکا تھا ،ایک سو کے قریب مریضوں کو آپریشن کیلئے کارڈ جاری کئے جاچکے تھے ۔یہ آپریشن الشفا راولپنڈی ہسپتال میں ہوچکے ہیں۔ راولپنڈی ،مظفرآباد،سکھر اور کوہاٹ میں ٹرسٹ کے چارہسپتال ہرسال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔کیمپ اور سکول اسکریننگ کے ذریعے چار لاکھ سے زائد افراد کو سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔کوئی دن ایسا نہیں ہوتاجس دن الشفا ٹرسٹ کی ٹیمیں ملک کے کسی نہ کسی حصّے میں لوگوں کی بینائی بحال کرنے میں مصروف نہ ہوں ۔اور یہ کام مکمل طور پر فری ہورہا ہوتا ہے ۔ادویات مفت ملتی ہیں ۔جنرل حامد جاوید بتاتے ہیں کہ اخراجات کا بڑا حصّہ ٹرسٹ برداشت کرتا ہے جو مخیر لوگوں کے عطیات سے پورا کیاجاتا ہے ۔


ای پیپر