متوالا بمقابلہ جیالا
25 دسمبر 2020 2020-12-25

متوالا:” جیالے سنو، ہمیں اطلاعات مل رہی ہیںکہ تم لوگ استعفوں سے بھاگ رہے ہو،ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لیناچاہتے ہو اورسینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ خبردار، تاریخ کے اس موڑپرووٹ کوعزت دینے کی جدوجہد سے غداری مت کرنا ورنہ ہمارے بعد تمہارا کام بھی تمام کر دیا جائے، تم سندھ تک محدود کر دئیے گئے ہو اوراگلی مرتبہ سندھ سے فارغ کر دئیے جاو گے۔۔“

جیالا:” ہاہاہا، ہم متوالے نہیں جیالے ہیں اور ہمیں فارغ کرنامشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ ہم اصل میں لوہے کے چنے ہیں اورہمیں کوئی نہیں چبا سکتا ۔ جو چبائے گا اس کے دانت ٹوٹ جائیں گے۔ ہمارا راستہ نہیں روکا جا سکا بلکہ ہم نے عام انتخابات میں سندھ میں پہلے سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں اور اگلے انتخابات میں پھر ثابت ہوجائے گاکہ یہ ایک زرداری ہی سب پر بھاری ہے۔۔“

متوالا:” بس کرو بس ۔ اصل سوالوں کے جواب نہیں دئیے اور ایک زرداری سب پر بھاری پر پہنچ گئے۔ یہ نعرے تم لوگوں نے سینیٹ میں چئیرمین اورڈپٹی چئیرمین کے الیکشن میں بھی لگائے تھے اور پھر پتھر چاٹ کے واپس آئے تھے۔ یہی آصف زرداری جب بطور صدر عمران خان کو راستہ دے رہے تھے ، تمہارے وزرا عمران خان کی بولی بول رہے تھے تو تمہارا خیال تھا کہ عمران خان ، نواز شریف کاووٹ توڑے گامگر اس نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کا صفایا کر دیا ۔میں اس موقعے پرکہنا نہیں چاہتامگرملک کے ساتھ سازش کا آغازتم لوگوں نے ہی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر بلوچستان اسمبلی سے کیا تھا۔۔“

جیالا: ” متوالے،اصل بات یہ ہے کہ تہاری قیادت کواگلے پانچ سو سال کے لئے باہر نکال دیا گیا ہے اور اب تم چاہتے ہو کہ ہمیں استعمال کر کے واپس اقتدار میں آجاو توہم اتنے پاگل نہیں ہیں۔ اس سے پہلے یاد کرو جب مولانا نصراللہ خان سے تم لوگوں نے اے آر ڈی بنوایا تھا تو اس کے بعد سب کے سب سرور پیلس جدہ پہنچ گئے تھے اور پھر بی بی کی وجہ سے میاں نواز شریف واپس آئے تھے ۔تم لوگوں نے اس وقت بھی لحاظ نہیںرکھا تھا جب زرداری صاحب نے تمہیں حکومت میں شامل کیا تھا مگرتم لوگ افتخارچوہدری جیسے بندے کے لئے ہمیں چھوڑ گئے تھے، طعنے مت دوکہ ہمیں بھی سب یاد ہے۔َ۔“

متوالا: ” جھوٹ،اگر سب یاد ہوتا تو میثاق جمہوریت بھی یاد ہوتا اور وہ دن بھی یاد ہوتا جب بی بی شہید کو لیاقت باغ میں نشانہ بنایا گیا تھا تو میاں نواز شریف سیاسی مخالف ہونے کے باوجود سب سے پہلے مری روڈ پنڈی کے ہسپتال پہنچے تھے اور اپنی انتخابی مہم بھی ملتوی کر دی تھی۔ہماری قیادت رکھ رکھاو اور شرم حیا والی ہے اور ساتھ نبھانا جانتی ہے مگر تم لوگ صرف اپنا وقتی سیاسی مفاد دیکھتے ہو۔۔“

جیالا:” ہاہاہا، بہت شرم حیا اور رکھ رکھاو والی ہے اور ساتھ نبھانا جانتی ہے،مجھے بتاو، جب ہمارے لیڈر آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا تھا اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا بیان دیا تھا تو کون بھاگ گیا تھا۔ کس نے بطور وزیراعظم ، زرداری صاحب سے طے شدہ ملاقات منسوخ ہی نہیںکی تھی بلکہ روس کے دورے پر گئے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ٹیلی فون پر اپنی یہ کارکردگی بتا کر شاباش بھی لی تھی۔ تب میثاق جمہوریت کہاں گیا تھا، کس نے ردی کی ٹوکری میں پھینکا تھا،واہ واہ ، اگر تم یہ سب کرو تو یہ رام لِیلا ہے اور ہم کچھ کریں تو کریکٹر ڈھیلا ہے۔۔“

متوالا: ” واپس موضوع پر آواوربتاو کہ تم لوگ اسمبلیوں سے استعفے دے رہے ہو یا نہیں اور سینیٹ انتخابات کابائیکاٹ کر رہے ہویا نہیں ؟

جیالا:” صبر کرو، بی بی شہید کی برسی ہونے دو،وہاں ہماری سنٹرل ورکنگ کمیٹی سمیت پارٹی کے تمام اداروں کے اجلاس ہوں گے اور ہم وہاں فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اورکیا نہیں کرنا ہے مگر اس بات کوبھول جاو کہ تم ہمیں استعمال کرسکو گے، ہماری قیادت نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں، ہم تاریخ سے سبق سیکھ چکے ہیں جب ہم نے پچاسی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا تو فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم کھیل کے میدان سے باہر نہیں جائیں گے بلکہ میدان میں رہ کر مقابلہ کریں گے۔ہمارے پاس سندھ کی حکومت موجود ہے اور ہم اسی صورت اسے ختم کریں گے جب اس کے بھرپور فوائد لے سکیں ورنہ نہیں۔۔”

متوالا:” میں تمہیں بتاناچاہتاہوںکہ اتحادمیں بہت فائدے ہیں، چار سو استعفوں پرضمنی انتخابات نہیں ہو سکیں گے ۔میں تمہیں خفیہ اطلاع دیتا ہوں کہ بین الاقوامی سطح پر ہم نے میدان ہموار کر لیا ہے۔ میاں نواز شریف کی سعودی ولی عہد سے بات ہوچکی ہے۔ وہ سعودیہ کا وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکا اس کے ساتھ جائے گا جس کے ساتھ سعودی عرب ہو گا جیسے ماضی میں سعودی عرب نے یمن تنازعے پر ناراض ہو کر میاں صاحب کے خلاف کردارادا کیا تھا تو اب وہ عمران خان سے سخت ناراض ہے۔ چین بھی ناراض ہو چکا اور اب ترکی بھی جو آدھا ناراض تھا وہ پورا ہونے جا رہا ہے جب اس کی لاہورمیںبہترین کام کرنے والی کمپنیوں کو ذلیل کیا جا رہا ہے، البیراک اور اوز پاک کمپنیوں کے چار ارب کے واجبات دبا لئے گئے ہیں، ان کمپنیوں کے ترک آفیشئلز کے گھروں پر رات تین بجے پولیس بھیجی جا رہی ہے۔ مان لو کہ حکومت بین الاقوامی سطح پرمکمل ناکام ہوچکی۔ جوبائیڈن کا جیتنا بھی ہمارے لئے اچھا ہے، ہمیں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت ہے۔۔“

جیالا:” وہ سب ٹھیک ہے مگر ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم جو کچھ دیں گے اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔اگر ہم نے واپس سندھ کی حکومت تک ہی آنا ہے تو پھر ہمیں اس خجل خواری کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ہمیں گارنٹی چاہئے کہ اس کے بدلے میں ہمیں وفاق میں بھی حکومت ملے گی۔ ہم پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی کی بحالی چاہتے ہیں اوراس کے لئے بھی ہمیں سوچ و بچار کرنا ہے کہ کیا یہ نواز لیگ کے ساتھ اتحاد اور تعاون کی صورت میں ہوسکتی ہے یا ہم مزید نیچے اور پیچھے چلے جائیں گے۔ یاد رکھو کہ پیپلزپارٹی ختم ہونے کے لئے نہیں بنی، نہ اسے ضیا ختم کر سکا اور نہ ہی مشرف، اب بھی کوئی نہیں کرسکتا۔۔“

متوالا: ” ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کا وہ ووٹ بنک واپس آنا چاہئے جو تحریک انصاف اڑا کر کے لے گئی اور مان لو کہ یہ تب تمہاری قیادت کی غلط پالیسی سے ہوا،وہ ہمیں مارتے مارتے خود پنجاب میں مارے گئے۔ تحریک انصاف کے مقابلے میں ہم پیپلزپارٹی کو ایک بہت بہتر جماعت سمجھتے ہیں مگر ہمارا اور تمہارا اصل مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ہم ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی کروا سکیں، انتخابات میں مداخلت کا خاتمہ کروا سکیں، حقیقی عوامی اور جمہوری حکومتوں کے قیام کو یقینی بنا سکیں کہ یہی راستہ پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ انہیں عوام ہی اقتدار میں لا اور نکال سکتے ہیں تو اس وقت تک وہ عوام کے لئے نہیں سوچیں گی، وہ اس اسٹیبلشمنٹ کے لئے ہی کام کریں گی جو انہیں اقتدار دینے اور لینے کی طاقت رکھتی ہو گی۔۔“

جیالا: ” بات تمہاری اصولی طور پر ٹھیک ہے اوربلاول بھٹو زرداری بھی یہی باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے ہی عمران خان کوپرائم منسٹر سلیکٹڈجیسالقب دیا ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بحث کرنی ہے کہ کیا ہم ایک مرتبہ پھرپچاسی والی غلطی کریں اورسسٹم سے باہر ہوجائیں۔ پیپلزپارٹی سسٹم سے باہر نہیں ہونا چاہتی ، وہ سسٹم کا حصہ رہنا چاہتی ہے۔ ہم جو کچھ کریں گے وہ آئین اور جمہوریت کے لئے کریں گے۔ میرا یقین ہے کہ اگر پیپلزپارٹی استعفے دے گی تو بھی ٹھیک کرے گی اور اگرنہیں دے گی تب بھی ٹھیک کرے گی، سوری، ہم سب کچھ کر سکتے ہیں مگر نون لیگ کی بی ٹیم نہیں بن سکتے۔

متوالا: ” پھر جان لو کہ پیپلزپارٹی کا کوئی مستقبل نہیں،میاں نواز شریف ہی واحد لیڈر ہیں ۔۔“

جیالا: ” کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے ۔۔“


ای پیپر