ہم، ہمارے حکمران اور ہمارے قائد اعظمؒ
25 دسمبر 2018 2018-12-25

آج قائد اعظم ؒ کا یوم پیدائش ہے اس موقع پر اس کے علاوہ کچھ اور لکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ہم اپنے قائد اور ان کے اعمال کو یاد کریں ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا کردار جن کے بالکل برعکس ہے، پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ ہی یہی ہے بانی پاکستان کے ان اعلیٰ و ارفع اعمال کو ہم نے مکمل طور پر فراموش کر دیا جسے ہم حقیقی معنوں میں اپنے لئے مشعل راہ بناتے تو آج اس قدر اندھیرے ہمارے مقدر میں نہ لکھے ہوتے.... میں آج قائد اعظم کے مختلف اعمال کو یاد کر کے اپنی وہ شرمندگی کچھ کم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہوں جو ان کے فرمودات کو نظرانداز کرنے اور ان کے افکار کو فراموش کرنے کی وجہ سے ہر وقت میرے اعصاب پر سوار رہتی ہے، میں اکثر سوچتا ہوں قائداعظمؒ کے بعد قائداعظمؒ ایسا ایک لیڈر بھی ہمیں مل گیا ہوتا آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی کہ بڑے سالوں کے بعد ایک ”امید“ بندھی تھی وہ بھی ٹوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مدینے کی ریاست تو پتہ نہیں ان سے بنتی ہے یا نہیں پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے کی کوشش ہی کر لیں یہ بھی ان کی مہربانی ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان قائداعظمؒ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں ممکن ہے وہ یہ سوچتے ہوں قائداعظمؒ کا زیادہ ذکر کرنے سے لوگ مجھ سے یہ سوال ہی نہ کرنا شروع کر دیں خود آپ کا کون سا عمل قائداعظمؒ کے اصولوں یا کردار کے عین مطابق ہے۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان تو قائداعظم کے یوم پیدائش اور یوم وفات وغیرہ پر خود ایک بیان تک ان کے بارے میں جاری نہیں کر سکتے، اس کے لئے بھی وہ اپنے پی آر اوز کے محتاج ہوتے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے تو لاہور میں مجلس قائداعظم کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ ”قائداعظم اس حوالے سے بھی بڑے عظیم رہنما تھے کہ میری اور ان کی سالگرہ کا دن ایک ہے شکر ہے ان کی پیدائش قائداعظم کی وفات کے بعد ہوئی ورنہ قائداعظمؒ کو یہ صدمہ ہمیشہ ستاتا رہتا کہ میں اس روز کیوں پیدا ہو گیا تھا....گزشتہ برس میں کراچی میں مقیم اپنے عزیز ترین چھوٹے بھائیوں عثمان راﺅ، سید فیضان مہمند، راحیل فدا اور شاہ فیصل خان کی دعوت پر گوادر اور کراچی گیا میں نے ان سے گزارش کی مجھے قائداعظمؒ کے مزار پر لے جائیں مزار کے احاطے میں جتنی گندگی میں نے دیکھی یوں محسوس ہوا جگہ جگہ حکمرانوں کے دماغ بکھرے پڑے ہیں وہاں موجود کچھ لوگوں نے بتایا مزار کے اردگرد کے مقامات مختلف جرائم کا گڑھ بنے ہوئے ہیں خصوصاً نوجوان لڑکے لڑکیاں اور کھسرے وغیرہ مزار کے احاطے کو اپنی واہیاتیوں کا محفوظ ترین مقام سمجھتے ہیں.... سندھ کے حکمرانوں کو تو قائداعظم سے ویسے ہی چڑ ہو گئی کہ ان کا کوئی عمل قائداعظم کے کسی سنہری اصول کے مطابق نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے، ہاں اگر قائداعظم نے بھی زندگی میں لوٹ مار کی ہوتی، دیگر عیاشیوں اور بدمعاشیوں میں بھی مثالیں قائم کی ہوتیں پھر سندھ کے حکمرانوں کے وہ ”ہیرو“ ہوتے.... مختلف اقسام کی مصلحتوں منافقتوں یوٹرن کے ماہروں اور صوبائیت کو ہوا دینے والے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو شاید معلوم نہیں پندرہ جون 1948ءکو کوئٹہ میونسپلٹی کی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایک سچے لیڈر قائداعظم نے فرمایا تھا ”ہم سب پاکستانی ہیں نہ بلوچی نہ پٹھان، نہ سندھی، نہ بنگالی اور نہ ہی ہم پنجابی ہیں، ہمیں صرف اور صرف پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہیئے، ہم جو کچھ کریں، جو قدم بھی اٹھائیں صرف اور صرف پاکستان کے مفاد میں اٹھائیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب بھی آپ کوئی نیا اقدام کریں تو پہلے رک کے ہزار مرتبہ سوچ لیں کہ یہ اقدام آپ کی ذاتی یا مقامی پسند و ناپسند کے زیراثر ہے یا پاکستان کی فلاح و بہبود کا خیال دوسری سب باتوں پر غالب ہے۔ اگر ہر شخص یوں اپنا محاسبہ کرے اور خود کو مجبور کر کے اپنے آپ پر اور دوسروں پر بھی ایمانداری کا اصول لاگو کرنے کا عادی ہو جائے تو میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن اور شاندار ہو گا.... ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے قائداعظمؒ کے ایسے کسی فرمان پر عمل نہ کر کرے ثابت کر دیا پاکستان کو کسی صورت میں وہ روشن اور شاندار نہیں دیکھنا چاہتے، البتہ اپنامستقبل وہ ہمیشہ روشن اور شاندار بنانے کے لئے کوشاں رہے جس کے نتیجے میں وہ اربوں کھربوں پتی ہو گئے اور ان کی بھوک ابھی تک ختم ہونے نام نہیں لے رہی۔ نہ ان کے وہ ”ڈرامے“ ختم ہونے کا نام لے رہے ہیں جن کے مطابق وہ خود کو غریبوں کا سب سے بڑا ہمدرد ثابت کرنے کے لئے ہمہ وقت تلے رہتے ہیں، غریبوں کے

لئے ”عارضی پناہ گاہیں“ بنانے والوں کو چاہئے سیکڑوں ایکڑز پر مشتمل اپنی رہائش گاہوں کے ایک ”کونے“ میں بھی غریبوں کے لئے کوئی عارضی پناہ گاہ بنا کر اپنے روایتی منافقانہ کردار سے تھوڑا بہت چھٹکارا حاصل کر لیں ورنہ دوسرے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح وہ نیب کی پکڑ میں نہ بھی آئے قدرت کا نیب انہیں کوئی رعایت نہیں دے گا.... مختلف اقسام کے ”دکھاوے“ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ساکھ کو وقتی طور پر ہی قائم یا بحال رکھ سکتے ہیں۔ مستقل طور پر وہ صرف اسی صورت میں تاری میں زندہ رہ سکتے ہیں اگر اپنے اعمال کو قائداعظمؒ کے سنہری اصولوں کے مطابق ڈھال لیں، ”اللہ نے انسان کے اختیار میں صرف کوشش دی ہے ناکامی اور کامیابی اللہ کے اختیار میں ہے....“ اپنی تقریروں میں اس حقیقت کا باربار ذکر کرن والوں کو یہ حقیقت اب اپنا کربھی دیکھنی چاہیئے ورنہ باتیں توں سبھی کرتے ہیں.... اگلے روز ایک نامور وکیل صاحب لمز میں پاکستان کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں گلا پھاڑ پھاڑ کر فرما رہے تھے ”ہمیں فخر ہے ہمارا تعلق قائداعظمؒ کے پیسے سے ہے“ میں نے اپنی باری میں ان کی خدمت میں عرض کیا ”حضورآپ کو معلوم ہے قائداعظمؒ کسی مقدمے کے بارے میں مطمئن نہ ہوتے اور فیس بھی وصول کر لی ہوئی تو فیس واپس کر دیتے؟ ایک بار وہ سنٹرل اسمبلی کے رکن تھے تو حکومت ہند بعض تاجروں پر ٹیکس عائد کرنا چاہتی تھی ان تاجروں نے سنٹرل اسمبلی کے کچھ ہندوستانی ارکان سے رابطہ کیا اور ان سے کہا وہ اس قانون کو منظور نہ ہونے دیں ان تاجروں کو سب سے بڑا خدشہ یا خطرہ یہ تھا وہ اس ضمن میں قائداعظم کو آمادہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ انہوں نے ایک خاص منصوبے کے تحت جن ایام میں یہ بل سنٹرل اسمبلی میں پیش ہونا تھا ان ایام میں ایک مقدمے میں قائداعظمؒ کی خدمات کو جب اس منصوبے کا پتہ چلا انہوں نے اس مقدمے کی وکالت کرنے سے انکار کر دیا اور اس ضمن میں وصول کی گئی رقم واپس کر دی.... میں اکثر سوچتا ہوں ہمارے سرکاری دفاتر میں قائداعظمؒ کی تصویر شاید قائد اعظمؒ کی روح کو دکھ پہنچانے کے لئے لگائی جاتی ہے کہ دیکھیئے آپ نے پاکستان کن مقاصد کے لئے بنایا تھا اور مختلف سرکاری نشستوں پر براجمان لوگ کیا کیا مقاصد پورے کر رہے ہیں؟ کرنسی نوٹوں پر قائداعظمؒ کی تصویر چھاپنے کے مقاصد بھی کچھ اس نوعیت کے ہی ہوں گے میرا بس چلے تو کرنسی نوٹوں اور سرکاری دفاتر سے قائداعظمؒ کی تصویریں فوری طور پر ہٹوا دوں تاکہ قائداعظمؒ کی روح کو سکون مل سکے، یا پھر اپنے سرکاری نظام کو قائداعظمؒ کی سوچ اور عمل کے مطابق ڈھال دوں!!


ای پیپر