مسجدفتح
25 اگست 2020 (23:33) 2020-08-25

افلاطون کی اکیڈیمی اور ہیڈرین لائبریری دکھاتے ہوئے ہمیں یہ بتایاہی نہیں گیاکہ اسی مقام پر اہل اسلام کی عبادت گاہ یعنی مسجدبھی موجودہے۔ یونان جانے والے سیاحوں کو یہ تو خیال بھی نہیں آتا ہوگاکہ یونان پر اہل اسلام کی حکومت کا دور بھی گزرچکاہے… گزر چکی ہے یہ فصل بہار ان پر بھی…عثمانی ترکوںنے ۱۴۵۳ء سے ۱۸۲۱ء تک یونان پر حکومت کی ہے ۔اس دور میں یونان میں جگہ جگہ مساجدتعمیر ہوئیں جو آج تمام کی تمام بندہیں اورمعروف شکل میں مسجدکی تعمیرپر پابندی ہے ۔ ’’رومن اغورا‘‘ کی شمالی جانب مینارِہواکے قریب’’ مسجدفتح ‘‘واقع ہے۔یہ مسجدسلطان محمد فاتح کے ایتھنزمیں فاتحانہ داخلے کے موقع پر ۱۴۵۸ ء میں قائم کی گئی ۔بعض یونانی ذرائع کہتے ہیں کہ کریتے پرترکوں کی فتح کی یادمیں اس کانام مسجدفتح رکھا گیا۔ یونان میں دو ہزار جزیرے ہیں جن میں سے ۱۷۰ جزیروں پر آبادی ہے، کریتے ان میں سب سے بڑا جزیرہ ہے، اس لیے اس کی فتح اہم واقعہ تھی شایداسی بناپر مسجدکانام رکھاگیاہو،مقامی یونانی اس کے محل وقوع کی بناپر، اسے گندم منڈی کی مسجد کہتے تھے۔ سترھویں صدی میں اسے کیتھولک چرچ میں تبدیل کردیاگیا ۔۱۸۲۴ء کی جنگ آزادی ِیونان کے بعد اسے ایک اسکول میں بدل دیاگیا۔ بعدازاں کبھی ملٹری بیرکس کے طور پر اور پھرملٹری بیکری کے طور پراستعمال ہوتی رہی۔ بیسویں صدی کے آغازسے اسے اغورا سے ملنے والے تاریخی آثار کے ایک اسٹور کے طور پر استعمال کیاجانے لگا۔۲۰۱۷ء میں اسے ثقافتی نمائش گاہ بنایاگیا۔ ترک حکومت اس مسجد کی بحالی کیلئے کوشاں رہی ہے لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ہوسکی ۔یونانی حکومت نے اس کے بدلے میں اسلامک سنٹر بنانے کیلئے ایک الگ جگہ دینے کی پیش کش کی ۲۰۱۷ء میں یونانی پارلیمنٹ نے جس کی منظوری بھی دے دی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان یونان کے دورے پر آئے تو انھوںنے مجوزہ مسجد کا نقشہ طلب کیا، انھوںنے دیکھا کہ یونانی حکومت نے مسجدکے پلان میں مینارکی تعمیرکی اجازت نہیں دی ہے۔ انھوں نے ایک ایسی مسجدکی تعمیر کے منصوبے کوجو مینار کے بغیربنائی جارہی ہو،مسترد کر دیا۔ تاہم یہ عمارت بہ طور مسجدتونہیںبہ طوراسلامک سنٹر تعمیر ہو گئی اور حالیہ انتخابات کے زمانے میں یونان کے مذہبی امورکے وزیرنے اس کا افتتاح بھی کردیالیکن یونان کی آرتھوڈوکس اکثریت نے یونانی حکومت کی جانب سے مسجدکی تعمیراجازت دیے جانے کو عدالت میں چیلنج کردیاہے جس کے بعد یہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑگیا ۔

جہاں مسلمان ہوں وہاں از بس مساجد بھی ہوتی ہیں اس لیے یونان میں مسجدکی تعمیرکی اجازت نہ ہونے کے باعث اسلامک سنٹر کی طرزپر بہت سی ایسی عمارتیں قائم ہیں جن میں  وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّہِ أَحَداً  اور یہ کہ مسجدیں (خاص) اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو (۷۲:۱۸) پر عمل کے لیے پانچ وقت  صدائے تکبیر بلند ہوتی ہیں جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا ہوتے ہیں ، بچوں کے لیے تعلیم وتعلم کا اہتمام کیاجاتاہے اور دیگر مذہبی شعائروتقریبات کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔یہ تووہ مساجد ہیں جو یہاں کی مسلم آبادی نے بنائی ہیں جہاں تک تاریخی مساجد کا تعلق ہے تو پچاس سے زیادہ تاریخی مساجد کی فہرست ،ان کی تصاویرکے ساتھ انٹرنیٹ پر موجودہے ۔جارج سی ملز (George C Miles)نے The Arab Maosque in Athensکے عنوان سے ایک مفصل تحقیقی مقالہ لکھاہے جو American Numismatic Society کے ریسرچ جرنل میں شائع ہواہے ۔اس محققانہ مقالے میں فاضل مقالہ نگار کی توجہ ایتھنز کی مسجد کے پتھروں اور دیواروں پر لکھی ہوئی قرآنی عبارتوں کے فنی پہلووں پررہی ہے جن کے نقشوں، خاکوں اور تصویروں سے انھوںنے اپنے مقالے کو مزین کیاہے۔انھوںنے پتھروں کے ٹکڑوں کے ٹوٹ جانے کے باعث شکستہ ہوجانے والی آیات قرآنیہ کو مکمل کرنے اور ان کے مفاہیم اور حوالے فراہم کرنے پر توجہ مبذول کی ہے تاہم انھیں کریتے میں مسلم فن تعمیرکے ایسے آثارنہیں مل سکے۔ کریتے میں مسلمانوں کا داخلہ ترکوں سے بہت پہلے ہوچکاتھا اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہاں مسلم تہذیب کے ایسے آثارنہ پائے جاتے ہوں ۔ 

کچھ تو عام مذہبی احساس کی بناپر اورکچھ اس بناپرکہ یونان میں واقع اکثرقدیم مساجد کا تعلق عثمانی ترکوں سے ہے اہل یونان اپناتاریخی ورثہ ہونے کے باوصف ان مساجد سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ مذہبی اختلاف کے علاوہ اس کاپس منظر سیاسی ہے ۔ترکوں اوریونانیوں کے روابط میں ان کے صدیوں پر پھیلے معارضے حائل رہے ہیں ۔فاصلے، افرادکے درمیان ہوں یاقوموں کے، حادثوں ہی سے جنم لیتے ہیں اورپھر خودجدائی کاحادثہ بن جاتے ہیںاور جدائی ،قربت کی خواہشات پر غالب آجاتی ہے۔ یہ حادثے افرادمیں ہوں توملال انگیز یادبن کر’’ کس کس کو سنائیںگے جدائی کا سبب ہم +تومجھ سے خفاہے تو زمانے کے لیے آ‘‘…کا نعرئہ مستانہ بن جاتے ہیں اورقوموںکے درمیان ہوں تو ان کی عمرصدیوں پر محیط ہوجاتی ہے۔ لیکن کبھی ایسابھی  ہوتاہے کہ کچھ اور حادثے ،حادثوں کی پیداکردہ دوریوں کو کم کرنے کا باعث بھی بن جایاکرتے ہیں۔یونان اور ترکی کے درمیان بھی ایساہی ہوا صدیوںکی دوریوں کے بعد ۱۹۹۹ء میں دونو ممالک خوفناک زلزلے کا شکارہوئے ۔ایسے میں ترکوںنے اپنے شیوئہ قدیم کے مطابق یونانیوں کے لیے جذبہء خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔اہل ِیونان کی جانب سے بھی اس رویے کا مثبت جواب دیاگیا نتیجتاً صدیوں کی برف پگھلی اور دونو ممالک کے تعلقات نے ایک خوش گوار کروٹ لی ۔جس کا نتیجہ ہے کہ ترک صدر نے یونان کا دورہ کیا اور دونو ممالک کے باہمی فاصلوں میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ۔


ای پیپر