’’شیخ پیر‘‘ خواجہ سرا؟
25 اگست 2020 (23:28) 2020-08-25

دوستو،محققین نے معروف ادیب، ڈرامہ نگار اور شاعر ولیم شیکسپیئر غزلوں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ یقینی طور پر شیکسپیئر مخنث یعنی خواجہ سراتھے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق کے نتائج آئندہ مہینوں میں شائع ہونے والی کتاب میں پیش کیے جائیں گے۔ محققین نے بتایا ہے کہ شیکسپیئر (براڈ) کی اینی ہیتھوے کے ساتھ 34 سالہ شادی کے دوران کئی مردوں اور خواتین کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔ ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سر اسٹینلی ویلز اور ڈاکٹر پال ایڈمنڈسن نے شیکسپیئر کی 154 غزلوں کا جائزہ لیا جو انہوں نے 1609ء کے ایڈیشن میں جمع کی تھیں۔ ان کے تجزیے کے بعد یہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ شیکسپیئر کو نوجوانوں میں زیادہ دلچسپی تھی اور اکثر اپنی شاعری میں جن لوگوں کا ذکر کرتے تھے وہ ان سے حقیقی زندگی میں متاثر معلوم ہوتے تھے۔ ڈاکٹر ایڈمنڈسن کا کہنا تھا کہ جس طرح کی جنسی نوعیت کی زبان غزلوں میں بیان کی گئی ہے وہ یقینی طور پر کسی مرد کو لبھانے کیلئے معلوم ہوتی ہے اور اس سے ہمارا یہ شک دور ہوتا ہے کہ شیکسپیئر مخنث (بائی سیکسوئل) تھے۔

باباجی نے جب بھی شیکسپیئر کے حوالے سے کوئی بات کی ہمیشہ انہیں ’’ شیخ پیر‘‘ کہا۔۔ اب یہ باباجی کی انگریزی کا مسئلہ سمجھ لیں یا کسی قسم کی کوئی عقیدت۔۔ ہم نے کبھی ان سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ وہ انگریز ادیب کو شیخ پیر کیوں کہتے ہیں؟؟پاکستان دنیا کے ان چند خوش نصیب ممالک میں شمار ہوتا ہے جن میں ہر سال خواجہ سراؤں کی قومی کانفرنس ہوتی ہے اور ملک بھر کے کھسرے اس میں مذہبی جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔یہ پانچ برس پرانی بات ہے آل پاکستان خواجہ سرا کانفرنس میں کھسروں نے چھ فٹ تین انچ کاایک خوبصورت نوجوان دیکھا‘ یہ نوجوان مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا اور کسی بھی زاویے سے خواجہ سرا دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن وہ اس کے باوجود کانفرنس میں سر جھکا کر بیٹھا تھا۔۔ خواجہ سراؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کھسرا کھسرے اور غیر کھسرے کو کروڑوں لوگوں میں پہچان لیتا ہے چنانچہ کانفرنس کے معزز اراکین بھی جلد ہی بھانپ گئے یہ اجنبی حقیقتاً اجنبی ہے چنانچہ انہوں نے اس کا گھیراؤ کر لیا۔۔نوجوان نے انہیں کھسرا ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا آخر میں جب معائنے کی باری آ گئی تو وہ شرما کر بولا ’’بھائیو اور بہنو میں جسم نہیں دل کا کھسرا ہوں۔

خبریں سنانے والی خاتون نے یہ تشویش ناک خبر دی کہ چمن میں خواجہ سرا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے 5 بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ سننے والے حیران تھے کہ یہ کون سی وبا ہے جو بچوں کو ہلاک کررہی ہے! خاتون نے پہلے تو کھُسرے کی وبا کہا، پھر خیال آیا کہ کھسرا کہنے سے اس مخلوق کی دل آزاری ہوگی، چنانچہ کھسرے کا مہذب ترجمہ کردیا۔۔ خواجہ سرا۔ یہ بات قابلِ تعریف ہے کہ خاتون نیوز ریڈر کو یہ معلوم تھا کہ کھسرے کا متبادل خواجہ سرا ہے ورنہ اب یہ لفظ عام نہیں رہا، زیادہ سے زیادہ ہیجڑا یا مخنث کہہ دیا جاتا ہے جس وبا کا ذکر تھا وہ خسرہ ہے۔ مرد کوئی گالی نہیں نہ ہی اس میں کچھ گھٹیا ہے۔ عورت بھی کوئی گالی نہیں نہ ہی اس میں کچھ گھٹیا ہے پھر کھسرا کیوں گالی اور گھٹیا ہوا، ایسی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ کھسرا لفظ جو کہ ایک جنس کی نمائندگی کرتا ہے کیوں گالی بنا دیا گیا۔ کیوں اسے گھٹیا بنا دیا گیا۔اب جب سے ہمیں انگریزوں کی نئی ریسرچ کا علم ہوا کہ شیکسپیئر خواجہ سرا تھا، یقین کریں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہیں، ہم نے باباجی سے فی الحال اب تک یہ راز آشکار نہیں کیا، ورنہ ہمیں یقین ہے کہ وہ اس غم میں کھانا پینا ہی نہ بھول جائیں، کیوں کہ شیکسپیئر ان کی فیوریٹ شخصیت ہیں۔

امیرگھرانوں میں پیداہونے والے ہیجڑے بچے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اچھی نوکریاں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کاروبار یا فیشن انڈسٹری میں کہیں نہ کہیں کھپ جاتے ہیں۔ انھیںہمارے ملک میں والدین کی بہتر معاشی حیثیت کی وجہ سے متعدد سماجی مشکلات کاسامنا نہیں کرناپڑتا۔مگرجب اس جنس کاکوئی بچہ غریب یامتوسط گھرانے میں پیداہوتاہے توگھرپر قیامت گزرجاتی ہے۔پہلے توکسی کوکانوں کان خبرنہیں ہونے دی جاتی۔ بچے کوگھرسے باہرنکلنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔والدین کا رویہ بھی اس کے ساتھ اتنا مشفقانہ نہیں ہوتاجتنا دوسرے بچوں سے روارکھاجاتا ہے۔یہ بچے شفقت پدری سے محروم رہتے ہیں۔جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں، انھیں احساس ہوجاتا ہے کہ وہ عام لڑکوں اورلڑکیوں سے مختلف ہیں۔یہ بچے اکثر کمروں میں محدودہوکررہ جاتے ہیں۔ اس شدت کااحساس کمتری ہوجاتاہے کہ پُراعتماد بات کرنے کی استطاعت سے محروم ہوجاتے ہیں۔گھروالوں کے نامناسب رویہ اور لوگوں کے طعنوں سے تنگ آکر اکثر خواجہ سرا کسی نہ کسی عمرمیں گھرچھوڑنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔ اپنے جیسے لوگوں کے گروہوں میں رہناشروع کردیتے ہیں۔ ایک جیسے بدقسمت اورعذاب میں مبتلاگروہ ان کی شناخت بن جاتے ہیں۔اگرکسی خواجہ سراکوپتہ چلتاہے کہ کسی گھرمیں انکاہم جنس بچہ یابچی پیداہواہے توباجماعت گھروں کارخ کرلیتے ہیں۔والدین کوبتاتے ہیں کہ بچہ ان کے حوالے کردیاجائے کیونکہ وہ اس کی پرورش نہیں کرسکتے۔غریب گھرانوں کے افرادتو پہلے ہی ظلم کی چکی میں پِس رہے ہوتے ہیں لہذا قدرت کافیصلہ تسلیم کرتے ہوئے ننھامناسابچہ خواجہ سراؤں کے گرو کے حوالے کردیتے ہیں۔اب اپنے لختِ جگرسے ان کاکوئی تعلق نہیں رہتا۔اکثراوقات تومعصوم بچوں کوعلم ہی نہیں ہوتاکہ وہ کون ہیں،ان کاوالداوروالدہ کون ہیں۔کس شہرمیں پیداہوئے تھے۔

گیبریل گارشیا مارکیز دنیا کا مشہور نوبل انعام یافتہ لکھاری ہے‘ اس نے کسی جگہ لکھا تھا دنیا کا ہر مرد ایک وقت تک نامرد ہوتاہے پھر اس کی زندگی میں کوئی عورت داخل ہوتی ہے اور وہ اسے مرد ہونے کا احساس دلاتی ہے۔۔ہمارا معاشرہ بھی نامردوں کا معاشرہ تھا‘ ہم سب ڈر‘ ڈر کر سہم‘سہم کر زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر ہماری معاشرتی زندگی میں عدلیہ اور میڈیا آیا اور اس نے ہمیں مرد بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ۔دل کے یہ کھسرے آنکھ‘ ناک اور کان بند کر کے اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں‘یہ ان لیڈروں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں اور نہ ہی اس لوٹ مار پر ان کے ہونٹوں پر شکوے اور شکایت کا کوئی حرف آتا ہے‘یہ لوگ کھسروں کی طرح شرما شرما کر زندگی گزار دیتے ہیں۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ہم اگر اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیں توہمیں کروڑوں کی تعداد میں دل کے کھسرے ملیں گے‘ یہ لوگ پاکستان میں رہتے ہیں‘ پاکستان کا کھاتے ہیں‘ ان کی جیب میں پاکستان کا شناختی کارڈ ہے لیکن یہ لوگ پاکستان کے لٹنے اور برباد ہونے پر خاموش رہتے ہیں اور کوئی ادارہ‘ کوئی عدالت ان کے اس رویے پر ان کا احتساب نہیں کرتی۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر