حکمرانی رویہ، بونگیاں ودیگر ذرائع! 
25 اگست 2020 2020-08-25

وزیراعظم عمران خان سے دوماہ قبل ہونے والی ون ٹوون ملاقات پر لکھے جانے والے ایک کالم میں، میں نے عرض کیا تھا”ملاقات میں وزیراعظم ایک پرانے تعلق کی بے تکلفی میں فرمانے لگے“ تم اتنے بے شرم ہو میرے خلاف کالم لکھ کر، اور انٹرویو دے کر مجھے ہی واٹس ایپ کردیتے ہو“۔....اُن کی اس بے تکلفی پر مجھے ہنسی آگئی، میں نے عرض کیا ”وہ میں اِس لیے واٹس ایپ کردیتا ہوں کوئی اور اپنی طرف سے مرچ مصالحے لگاکر کرے گا، یا آپ کے نوٹس میں آئے گا تو آپ شاید زیادہ بُرا منائیں گے کیونکہ ایسی باتوں پر بُرا منانا اب آپ کا ”حکومتی حق“ ہے، یہ ”حق“ تقریباً سبھی حکمران خودبخود استعمال کرلیتے ہیں،.... شریف برادران کے سامنے تو اُن سے اچھا لباس کوئی پہن کر آجاتا تھا وہ اُس کا بُرا مان جاتے تھے، ایک بار نون لیگی ایم پی اے نے مجھے بتایا سیلاب زدگان کی مددکے حوالے سے اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ایک میٹنگ میں شرکت کی اُنہیں دعوت ملی، وہ اُس میٹنگ میں ذرا اچھا لباس پہن کرچلے گئے، میٹنگ میں آتے ہی وزیراعلیٰ نے اُنہیں گھور کر دیکھا، اور کہا ”لوگ ڈوب رہے ہیں، آپ کو شرم نہیں آتی ایسا قیمتی لباس پہن کر میٹنگ میں آگئے ہیں؟“۔....عین اُسی لمحے اُس ایم پی اے کی نظراُس انتہائی قیمتی گھڑی پر پڑی جو وزیراعلیٰ یا مبینہ خادم اعلیٰ نے خود پہنی ہوئی تھی، بے چارے ایم پی اے ”جوش غلامی“ میں اُن سے یہ بھی نہیں کہہ سکے ”سر میرا لباس آپ کی گھڑی سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے“.... آج کا ایم پی اے مبینہ طورپر وزیراعلیٰ پر ہاتھ اُٹھالے یا اُنہیں گالیاں وغیرہ دے لے وزیراعلیٰ بالکل بُرانہیں مناتے، یہ ”تبدیلی“ نہیں تو اور کیا ہے؟۔ اگلے روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہمارے ارشاد بھٹی صاحب کو ایک انٹرویو دیا، جو ہمیں اُن کے کالم کی صورت میں گزشتہ روز پڑھنے کو ملا، انٹرویو میں باقی تو تقریباً ساری باتیں سننے کے قابل تھیں یا جھوٹ تھا جو بزدار صاحب کی ”خصوصیت“ ہے، پر ایک بات اُنہوں نے بالکل درست کہی اُن کی اس بات میں ایک درد تھا جو شریف برادران کے حکومتی زمانے میں اُن کے ہر ایم پی اے، ایم این اے، حتیٰ کہ کچھ منسٹرز کو بھی ہوتا تھا، انٹرویو میں ارشاد بھٹی نے اُن سے پوچھا ”وزیراعلیٰ بن کر پہلے دن جب آپ دفتر گئے آپ کے کیا احساسات تھے؟“.... وہ بولے ” پانچ برسوں تک ہر ماہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بذریعہ فیکس ودیگر ذرائع سے ملنے کی درخواست کرتا رہا پر وہ ایک بار بھی مجھ سے نہیں ملے، بطور وزیراعلیٰ دفتر جاتے ہوئے پہلے روز میں یہ سوچ رہا تھا اب اللہ نے خود مجھے وزیراعلیٰ بنادیا ہے “....اللہ نے اُنہیں واقعی وزیراعلیٰ بنادیا ہے پر دوبرسوں میں بطور وزیراعلیٰ خلق خدا کو کوئی بڑا کیا کوئی چھوٹا ریلیف بھی عملی طورپر وہ نہیں دے سکے، اس کا اُنہیں حساب دینا پڑے گا۔ اللہ جب کسی کو اُس کی اوقات سے بہت زیادہ نوازدے تو اُسے ”نوازشریف“ نہیں بن جاناچاہیے۔ اللہ کی شکرگزاری کا میرے نزدیک سب سے اعلیٰ طریقہ دکھاوے کی عاجزی نہیں عملی طورپر انسانیت کی خدمت ہے، عملی طورپر پنجاب کے کسی شعبے میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی، بلکہ خرابیاں مزید بڑھتی جارہی ہیں، جن پر ایک دوکرایے کے کالم نویسوں سے اپنے حق میں کالم وغیرہ لکھواکر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ، علاوہ ازیں پنجاب کابینہ کے کچھ اراکین، پی ٹی آئی کے کچھ امپورٹڈ، لوکل وکھوچل ترجمانوں کو پنجاب کے ہرشعبے میں کوئی بہتری دکھائی دیتی ہے اُس کی واحد وجہ وزیراعلیٰ بزدارپر وزیراعظم کا اندھا اعتماد ہے، جس روز اِس اعتماد سے وہ محروم ہوگئے، اُن کا سایہ بھی اُن کا ساتھ شاید نہ دے، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی، پنجاب کابینہ کے کچھ اراکین، اور حکومت کے کچھ امپورٹیڈ، لوکل اور کھوجل ترجمان جو آج صرف وزیراعظم کے بزدار صاحب پر اندھے اعتماد کی وجہ سے اُن کے بارے میں مجبوراً شہد اُگلتے ہیں، اِس اعتماد سے محرومی کے بعد ایسا ”زہر“ اُگلیں گے ہماری سیاست کی جو خصوصی شناخت وروایت ہے، اور صرف سیاست کی نہیں پورے معاشرے کی ہے، اگلے روز میں اپنے اکلوتے بیٹے سے کہہ رہا تھا ” اللہ نے آپ کے باپ کو اُس کی اوقات سے بڑھ کر جس عزت کی بخشش عطا فرمائی ہے اُس کے نتیجے میں آپ کے کئی ” انکلز وآنٹیاں ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو آپ سے آپ کے والدین سے زیادہ محبت کرنے کی دعویدار ہیں، میرے مرنے کے بعد یہ ”آنٹیاں و انکلز“ آپ کا فون سننا چھوڑ دیں، آپ کے میسجز کا جواب نہ دیں، آپ سے تعلق یا رابطہ ختم کردیں، یا کم کردیں، اس بات کو ہرگز دل پر نہ لگانا، ہمارے معاشرے کی یہ عمومی فطرت ہے، ہم خود اس کا حصہ ہیں“،....میرا بس چلے ساری زندگی ایسے لوگوں کی جوتیوں میں بیٹھ کر گزار دوں جو لوگوں سے ان کی حیثیت کو پیش نظر رکھے بغیر محبت کرتے ہیں، اُن کے کام آتے ہیں، یہی اصل لوگ ہیں، ہم جیسے تو کچرا ہیں، کوڑا کرکٹ ہیں معاشرے میں اخلاقی آلودگی “ کو روز بروز جو بڑھاتے چلے جارہے ہیں، .... کالم کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی میں بات کررہا تھا، اُن کے ساتھ واٹس ایپ پر میرا رابطہ رہتا ہے، کبھی کبھی بات اور ملاقات بھی ہوجاتی ہے، جسے باقاعدہ طورپر میں بعض اوقات میں منظر عام پر اس لیے نہیں لاتا کچھ لوگ خصوصاً ہمارے کچھ افسران اپنی جائز ناجائز ضرورتوں خصوصاً اپنی اچھی پوسٹنگ وغیرہ کے لیے مجھے بطور ایک ”وسیلہ“ استعمال کرنا چاہتے ہیں، جوکہ جینوئن ضرورت مندوں اور دوستوں کے لیے مجھے ہونا بھی چاہیے پر کیا کروں وزیراعظم کا مزاج سفارش ماننے والا یا ہرسفارش ماننے والا نہیں ہے، ویسے بھی میرا تعلق اُس ”کورقبیلے“ سے ہرگز نہیں جس کی کوئی جائز ناجائز سفارش نہ ماننے کا نتیجہ اقتدارسے محرومی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے، سو اکثر لوگوں یا دوستوں سے مجھے جھوٹ بولنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم سے اب میرا کوئی رابطہ نہیں ہے، البتہ وزیراعظم خود کسی کے بارے میں خصوصاً کسی افسرکے بارے میں مجھ سے پوچھ لیں اس کا کردارکیسا ہے؟ پہلے میں یہی عرض کرتا ہوں”میرے جیسا ہی ہے“، کیونکہ میرے نزدیک ذاتی ضرورتوں اور غرضوں کے مارے ہوئے اِس معاشرے میں اُنہیں بیس کے فرق سے ہم سب ایک جیسے ہیں، البتہ کسی کے بارے میں وہ زور دے کرپوچھیں، میں اُس افسریا اُس کے کردار کے بارے میں اُس کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق ، محبت یا مخالفت کو پیش نظر رکھے بغیر، اپنی معلومات کے مطابق جو درست ہوتا ہے بتادیتا ہوں، ساتھ یہ بھی کہہ دیتا ہوں آپ اس بارے میں مزید معلومات بھی حاصل کرلیں، جیسا کہ اگلے روز کامران خان کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر کرپشن کے حوالے سے لگنے والے تمام الزامات اُنہوں نے صرف اس لیے مسترد کردیئے کہ آئی بی نے اُن کی تصدیق نہیں کی، ہماری اکثر ”خفیہ ایجنسیاں“ حکمرانوں کے موڈ، اور مزاج کے مطابق ہی رپورٹیں دیتی ہیں، کامران خان تو وزیراعظم سے یہ نہیں کہہ سکے، میری اُن سے گزارش ہے وہ دیگر ذرائع سے بھی پتہ کروالیں ۔!!


ای پیپر