ثالثی کی پھر پیشکش
25 اگست 2019 2019-08-25

اللہ ہم پر اور مظلوم کشمیری عوام پر رحم کرے، ٹرمپ نے ثالثی کی پھر پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ’’ جو کچھ میرے بس میں ہوا کروں گا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دھماکا خیز ہے۔ فرانس میں مودی سے ملاقات میں مسئلہ اٹھائوں گا‘‘۔ اس سے قبل انہوں نے جاپان میں مودی کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ کشمیر اٹھایا تھا۔ تھپکی دے کر کہا تھا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کردو، روز روز کی کل کل سے جان چھڑائو، پھر پاکستانی وزیر اعظم کو خصوصی دعوت پر اپنے پاس بلایا قریب بٹھایا انہیں بھی پر خلوص انداز میں یقین دہانی کرائی کہ مسئلہ کے حل کے لیے ثالثی کرائوں گا۔ ہم خوشی سے نڈھال ہوگئے۔ کسی نے تو سر پر ہاتھ رکھا اب اس مسئلہ کو حل ہی سمجھو، مودی نے وطن واپسی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں شامل کر کے اپنے تئیں مسئلہ حل کردیا۔ ثالثی دھری رہ گئی، ہم بیک فٹ پر چلے گئے سفارتی محاذ پر جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔ ابتدا او آئی سی سے کی عالم اسلام کا مسئلہ ہے اسے تو دل و جان سے ساتھ ہونا چاہیے۔ لیکن آئیں بائیں شائیں، مذمت کا ایک لفظ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا۔ جلد ہی احساس ہوگیا کہ بھارت نے سعودی عرب سمیت امارات کے تمام ملکوں میں اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ صرف سعودی عرب میں 24 کھرب کے معاہدے ہیں، امارات کی تمام ریاستوں میں انڈین ثقافت کا غلبہ ہے مختلف پراجیکٹس میں اس کی سرمایہ کاری ہے، کون برا کہے گا۔’’ ہم تو ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد‘‘ ہمارا روز کا آنا جانا لیکن سرمایہ کاری کے لیے جانے اور کشکول میں 3 ارب ڈالر لے کر آنے میں بڑا فرق ہے۔ ملائیشیا نے مسئلہ پر غور کا عندیہ دیا۔ اب تک غور ہی چل رہا ہے۔ امریکا کا پہلا رد عمل تھا کہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے مگر اس نے ہم سے مشاورت نہیں کی ۔ سفید جھوٹ، مشاورت ہی سے سب کچھ ہوا، ہمارے بڑے سر جوڑ کر بلکہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے اہل درد نے بر ملا کہا۔

بے خبری میں ایک عمارت ٹوٹ گئی

اب کوئی آغاز کرو تو جانیں ہم

سلامتی کونسل کی تجویز دی گئی، وزیر خارجہ کی کوششیں رنگ لائیں، اجلاس بلایا گیا اجلاس بلانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ اجلاس ہوتے ہی بلانے کے لیے ہیں۔ ایک گھنٹہ 20 منٹ تک ان کیمرا اجلاس، لوگ پوچھتے پھرے کیا نتیجہ نکلا سب نے کہا مشورے ہو رہے ہیں۔ کمال ہے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے 20 دن ہوگئے زندگی ساکت ہوکر رہ گئی۔ ارکان کے مشورے ہی ختم نہیں ہوئے۔ ذرا سی تسلی سے ہماری تشفی ہوگئی کہ مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے۔ اسے حل ہونا چاہیے۔ کسی قرارداد کی نوبت ہی نہیں آئی۔ لوگوں نے اپنے طور پر اندازے لگانے شروع کردیے۔ ما شاء اللہ ملک میں عقلمندوں اور اہل دانش کی کمی نہیں۔ کسی نے کہا سلامتی کونسل کے 5 بڑوں کا جھکائو کس طرف ہوگا ،ایک کروڑ کا سوال، لیکن کوئی ابہام نہیں، صرف’’ چین اپنا یار ہے۔ اس پہ جاں نثار ہے پر وہاں جو ہے نظام اس کو دور سے سلام‘‘۔ ہم نے یار عزیز سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن وہ پاکستانی موقف کا واحد حامی، فراننس اب تک چپ روس نے مشاورت کا عندیہ دے دیا۔ ہاں یا ناں میں جواب نہ سوجھے تو مشاورت کا کہہ کر خاموش ہوجائو۔ امریکا اور برطانیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت تک آئے تاہم کہا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے کس سے امید وفا رکھی جائے، مایوسی گناہ حوصلہ بڑھانے کے لیے آواز اونچی رکھو، بلند آواز سے کہا کشمیر کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ لوگوں نے کہا سرحد تک جانے کی بات کی ہے لوگ بھی تو بال کی کھال نکالتے ہیں۔ آخری حد تک جانے کی بات سنتے ہی کنٹرول لائن پر تواتر سے گولہ باری شروع ہوگئی۔ ہمارے جوان اور جواں سال شہری شہید ہوگئے بلا شبہ ہم نے دشمن کے فوجی بھی جہنم رسید کیے بنکر تباہ کردیے۔ ہماری بہادر افواج نے ہر بار بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ بنکروں سے دھواں اٹھتا دیکھ کر کتنی خوشی ہوئی لیکن بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر مودی کو کوئی افسوس نہ ہوا ایک بھی فوجی گجرات کا نہیں تھا اپنا کہاں ہوا۔ سکھ فوجی مارا گیا۔ مرنے دو زندہ رہتا تو خالصتان کے لیے تحریک چلاتا۔ اس سارے سینیریو کو ہمارے وزیر اعظم نے دکھ سے دیکھا کہا کیا دنیا خاموشی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی دیکھتی رہے گی۔ اب بھی شک ہے؟ دنیا خاموشی سے ہی دیکھ رہی ہے۔ 40 لاکھ کشمیری گھروں میں محصور، بچے بھوک اور بیمار دوائوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ بندگان خدا کو سجدہ ریز ہونے کی اجازت نہیں،یوم سیاہ سے بھی مودی کو فالج نہیں ہوا۔ مضبوط اعصاب کا مالک ہے سپر پاور کی تھپکی۔

بظاہر جو نظر آتا ہے اس چہرے کو مت دیکھو

ہزاروں قتل کر کے بھی بہت معصوم لگتا ہے

مودی کا نظریہ ہندو توا، اپنے ملک کو نظریاتی بنیادوں پر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ہندو گجرات کے قصائی کو دیوتا اور اوتار کا درجہ دے دیں گے۔ سیاستدان کو اور کیا چاہیے پنڈت نہرو، واجپائی اوتار نہ بن سکے۔ لوگ مودی کے بت بنا کر پوجا کریں گے۔ ہم اپنے ملک کو اسلامی اور جمہوری نہ بنا سکے۔ ایک سیکولر ملک نظریاتی بن رہا ہے مقام فکر، کیا پاکستان دنیا اور خطہ کی بدلتی صورتحال اپنی خود مختاری اور اقتصادی بقا کو لاحق خطرات کا صحیح اندازہ لگا رہا ہے؟ سچ پوچھیے تو ہم انجانی راہوں میں بھٹک رہے ہیں۔ ہماری حالت یہ ہے کہ’’ٹھہر جاتے ہیں بس دو گام چل کر‘‘ پوچھنے پر کہا جاتا ہے۔’’ یہاں سے راستہ آگے نہیں ہے‘‘۔ ہم ٹھہر ٹھہر کر ثالثوں کی جانب دیکھتے ہیں شاید راہنمائی کا کوئی اشارہ سوجھے اور ہم اپنی سمت متعین کرسکیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بحیثیت قوم کشمیر کو نہ تو بھول سکتے ہیں اور نہ ہی وہاں بھارت کی بالا دستی قبول کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے کیا کریں؟ نعرے، جلسے، جلوس، بیانات قراردادیں سب کر کے دیکھ لیں۔ شہباز شریف جذباتی ہوگئے کہامودی کے ہاتھ توڑ دیں گے کشمیر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، ہاتھ کہاں ٹوٹے وہ اپنے دونوں ہاتھوں بلکہ دونوں پائوں سے کشمیر پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ ہم پھر ٹرمپ کی ثالثی کے منتظر ہیں۔ بحث مباحثے چل رہے ہیں۔ ٹرمپ کیا ثالثی کرے گا؟ ایک تجزیہ کار نے برملا کہہ دیا ٹرمپ کی ثالثی سے پاکستان کے حق میں فیصلہ نہیں ہوگا۔ مودی اب خدانخواستہ آزاد کشمیر پر ثالثی کیلئے زور دے گا۔ ہمارے سیاستدان سچائی بیان نہیں کرتے الزامات لگانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں حکم ربی ہے کہ تم تک کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو، ایمل ولی خان نے منہ بھر کے الزام لگا دیا کہ مشرق وسطیٰ کی ایک کمپنی نے کشمیر ڈیل میں اہم کردار ادا کیا اور بقول ان کے یہ سودا 75 ارب ڈالر میں طے ہوا۔ خبر کہاں سے آئی کس نے دی؟ چھاپنے والوں نے چھاپ دی اور ملک و قوم کے عدم استحکام پر چھاپ لگا دی، ہمارا المیہ ہے کہ ہم اندرونی مسائل اور تنازعات میں الجھ کر ’’جرم ضعیفی‘‘ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جس کی سزا مرگ مفاجات ہے۔ قوم خانوں میں بٹ گئی ہے کشمیر ہمارا ہے کا نعرہ ذاتی مفادات اور عناد کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ ہم سیاسی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے مورچوں میں بیٹھے گزشتہ ایک سال کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ تاہم اس پر اتفاق ہے کہ ہم معاشی دلدل سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ ملک اندرونی اختلافات اور اقتصادی بدحالی کا شکار ہو تو ثالثی کرنے والے بھی بالا دست کی حمایت کرتے ہیں یہاں حالت یہ ہے کہ

خواب پھولوں کا دکھا رکھا ہے

ڈھیر کانٹوں کا لگا رکھا ہے

مسائل کے حل کے لیے ملکی استحکام قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی نا گزیر یہاں تینوں کا فقدان، سبھی عقل کل، کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نے ہوائوں کے دوش پر پیغام بھیجا کہ۔

ہم نے حکومت کی تو سب کو عزت دی

تم کوئی اعزاز کرو تو جانیں ہم

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم چند مہینوں کے لیے سہی ذاتی دشمنیاں اور سیاسی مخاصمت ختم کر کے، ’’سیاسی دشمنوں‘‘ کے ساتھ مل بیٹھیں اور بھارت کیخلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرلیں۔ ملک میں سیاسی استحکام سے دنیا میں اچھا پیغام جائے گا اور ٹرمپ ثالثی کرتے ہوئے برابری کا رویہ اختیار کرے گا۔


ای پیپر