تحر یکِ انصا ف کا پہلا سال :کیا کھو یا کیا پا یا
25 اگست 2019 2019-08-25

ماہِ روا ں کی اٹھا ر ہ تا ر یخ کو تحریکِ انصا ف کی حکو مت کا پہلا ایک سا ل مکمل ہو چکا ہے۔ اِ س پو رے سا ل میں ملک نے، عوا م نے اور خو د حکومت نے کیا کھو یا اور کیا پایا، اس کا جا ئز ہ لینے کے تین مختلف نقطئہ نظر ہیں۔ پہلا نقطئہ نظر عوا م کا ہے، دوسرا اپو ز یشن جما عتو ں کا ، اور جبکہ تیسرا غیر جا نبد ار مبصر ین کا ہے۔ اب ا گر عوا م کی با ت کی جا ئے تو ان کا کا ر کر دگی جا نچنے کا طر یقہ کا ر انتہا ئی سا دہ ہو تا ہے۔ و ہ یو ں کہ و ہ دیکھتے ہیں کہ حکو مت کے تحت مہنگا ئی میں کمی آ ئی ہے یا اضا فہ ہو ا ہے۔ کیو نکہ ان کی دو وقت کی رو ٹی اور قر ض سے پاک ز ند گی کا دارو مدار سیدھا سید ھا مہنگا ئی میں کمی بیشی سے منسلک ہو تا ہے۔ اب وجہ خوا ہ کچھ بھی بیا ن کی جا ئے، اس حقیقت سے انکا ر ممکن نہیں کہ شر حِ مہنگا ئی میں ا ضا فہ اس شد ت سے ہوا ہے کہ عوا م کے حا ل پہ یہ مثل صد ق آ ن پڑی ہے کہ گنجی کیا نہا ئے اور کیا نچو ڑے۔ اِس کے بعد اگر سیا ست دا نو ں یا سیا سی پا رٹیو ں کی بات کی جا ئے تو وہ حکو مت کی کا ر کر گی کا مو از نہ اپنے ادوار سے کر تے نظر آ تے ہیں۔ اب اگر غیر جا نبدا ر مبصر ین کی با ت کی جا ئے تو ان کے نز دیک وفاق اور صوبوں، بالخصوص پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں حکومت کو کیا کامیابیاں حاصل ہوئیں، یہ دیکھنا قطعاً مشکل نہیں، نہ ہی کسی کو پوچھنے یا بتانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے سال بھر میڈیا بھی ہر اچھی بری خبر عوام تک پہنچاتا رہا ہے، اس کے بعد یہ پوچھنا کہ حکومت کی کارکردگی کیسی رہی، یہ تجاہل عارفانہ کے زمرے میں آئے گا۔ 1992ء کے امریکی صدارتی الیکشن میں بل کلنٹن صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کے انتخابی مہم کے مفکر جیمز کارول تھے۔ انہوں نے بہت خوبصورت انداز میں بل کلنٹن کی ترجیحات کو ووٹرز کے سامنے رکھا۔ نہ صرف ترجیحات کے دریا کو کوزے میں بند کردیا بلکہ اندازِ بیان بھی ایسا تھا کہ امریکی سیاست میں لافانی ثابت ہوا۔ ان کے بقول سیاست میں ووٹر کے لیے یہ فیصلہ کرنا بھی اہم ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے، یعنی تبدیلی یا حسب سابق زندگی۔ ووٹر کے لیے ایک اور اہمیت کا موضوع ہوتا ہے، وہ ہے معیشت۔ اس کے علاوہ ووٹر یہ بھی چاہتا ہے کہ صحت عامہ کی سہولیات کو بھی بھولا نہ جائے۔ صدر کلنٹن کی صدارتی مہم چلی اور کامیاب رہی۔وہ آٹھ سال صدر رہنے کے بعد سابق صدور کی صف میں شامل ہوچکے ہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران ووٹر کی مذکورہ نبض شناسی نے امریکی سیاست کی تین انمول حقیقتوں کو بڑی صراحت اور خوبصورتی سے بیان کردیا ہے۔ ہمارے ہاں حقیقت اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ آج جب ہر زبان پر اور ہر ذہن میں حکومت کے پہلے ایک سال کی کارکردگی سے متعلق سوالات موجود ہیں تو جواب کے لیے تقاضا بھی ان تینوں شعبوں سے متعلق ہی ہے۔ دیکھا جائے تو جناب عمران خان نے بھی بل کلنٹن کی طرح، تبدیلی کی ہی بات کی تھی۔ آج بھی وہ یہی ترجیح دہراتے ہیں لیکن قابل غور یہ ہے کہ ایک سال میں تبدیل کیا ہوا؟ کیا نئے چہرے سامنے آئے ہیں اور اگر چہرے پرانے ہی ہیں تو ان سے نئے کاموں کی توقع کیونکر ہوسکتی ہے؟ کیا نظام بدلنے کا عمل شروع ہوچکا ہے؟ کیا کسی کو دور اُفق پر ہی سہی، کہیں نیا پاکستان یعنی وہ حالات جن کا تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں تصور پیش کیا گیا تھا یا رہنمائوں نے زبان و بیان سے لوگوں کو یقین دلایا تھا، کہیں نظر آتا ہے؟ رہی بات معیشت کی تو بیرونی دنیا کے معتبر ایوانوں میں ہماری جملہ کامیابیاں اپنی جگہ، دنیا میں ہماری بڑھتی ہوئی عزت بھی اپنی جگہ، کشمیر کی آزادی کے لیے سنہری الفاظ میں لکھی ہماری کامیابیوں سے بھی انکار ممکن نہیں، مگر ان کامیابیوں سے گھروں کے چولہے نہیں جلتے، شکم سیری نہیں ہوتی، بچوں کے جسم نہیں ڈھانپے جاسکتے، بیماروں کو دوا نہیں مل سکتی۔ قصہ مختصر، جسم اور جان کا رشتہ کامیابیوں کے ان دعووں سے قائم نہیں رہتا۔ مگر دیکھیں کیا ملکی معیشت اور خاندانوں کی معیشت میں گزشتہ ایک سال کے دوران میں بہتری کے کوئی آثار نظر آتے ہیں؟ آج یہ سوال کوئی نہیں پوچھ رہا۔ اگر کوئی کسی وجہ سے پوچھ لے تو اسے شاید جواب نہیں ملے گا۔ ہاں اس سوال پر چند سیاسی مبصرین سابقہ حکومتوں کی معاشی بدعنوانیاں گنوانا شروع کردیں گے لیکن ان میں کچھ نیا نہیں ہوتا، وہی ہوتا ہے جس کا ذکر سب پاکستان تحریک انصاف کی زبانی سنتے آرہے ہیں، لیکن اب تک نہ تو چوروں کی چوری ثابت ہوئی ہے، نہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی گئی ہے اور نہ بھاگے ہوئے چوروں تک قانون کے ہاتھ پہنچ پائے ہیں؛ البتہ ہم اپنے جوان عزم دہراتے رہتے ہیں۔

رہ گئی صحت عامہ کی سہولیات کی بات تو صحت انصاف کارڈ کا سب ضرور سنتے ہیں مگر اب تک کتنوں کو یہ سہولت مل سکی ہے؟ جو ابھی تک محروم ہیں، حکومت نے ان کے لیے کیا کیا ہے؟ ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا بھی ہم سنتے ہیں، ان میں کئی گنا اضافہ اسی سال کے دوران ہوا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور مشینوں کی خرابی کا بھی سنتے ہیں۔ ایک ایک بستر پر تین تین مریضوں کو لیٹے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔ یہ بھی سن چکے ہیں کہ رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران وطن عزیز میں پولیو کے 53 نئے مریض سامنے آچکے ہیں۔ یہ تعداد پچھلے کئی سالوں کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ باقی دنیا میں 2019ء کے دوران تاحال 62 مریض سامنے آئے ہیں، اس کے مقابلے میں صرف پاکستان میں 53 مریض دریافت ہوئے ہیں۔ یہ چونکا دینے والی صورتحال ہے اور ابھی رواں سال کے ساڑھے چار ماہ باقی ہیں۔ ہیپا ٹائٹس، تپ دق اور غذائی قلت وغیرہ میں بھی ہم دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھیں تو کہنا پڑتا ہے کہ نیا پاکستان، جس کا وعدہ تحریک انصاف نے کیا تھا، ابھی بنتا نظر نہیں آرہا۔ ہاں! آج کا پاکستان اس لحاظ سے ضرور نیا ہے کہ اس میں عام آدمی کی زندگی اگست 2018ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل او رمایوس کن ہے۔ آج کا پاکستان اس لحاظ سے نیا پاکستان کہلاسکتا ہے کہ یہاں ’’امید‘‘ پچھلے برسوں کی نسبت یقینا بہت موہوم ہوچکی ہے۔ درست کہ نئے پاکستان کے لیے جو کچھ کرنا ضروری ہے وہ شاید ایک سال میں ممکن نہیں لیکن ایک سال کے دوران ان میں سے ہر کام کی ابتدا تو ہوسکتی تھی۔ مایوسی اسی بات کی ہے کہ سب آج بھی اپنے عزم دہراتے رہتے ہیں، دعوے کرتے رہتے ہیں، مگر عملی کارکردگی ان دعووں اور عزم کی تصدیق نہیں کرتی۔ شاید پاکستان تحریک انصاف کو ابھی تک یقین نہیں آ یا کہ باتوں، وعدوں اور دعووں کا وقت گزرچکا ہے، اب صرف کام کا وقت ہے اور اس میں سے بھی 20 فیصد گزرچکا ہے!


ای پیپر