اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کی مدد کی تو کیا غلط کیا؟
25 اگست 2019 2019-08-25

ہمیں اس حقیقت کو ماننے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ ملک پاکستان میں زیادہ تر حکومتیں بنانے اور توڑنے میں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ حکومت بھی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے باعث وجود میں آئی ہے۔ لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس حقیقت کو ماننے میں شرم اور اس حقیقت کو ایشو بنا کر اچھالنے میں بڑائی کیسے ہے۔

اگر ہم پچھلے چالیس سال کی بات کریں تو اسٹیبلشمنٹ نے پہلے نواز شریف پر تجربہ کیا، پھر بے نظیر کو موقع دیا، پھر مشرف خود آ گئے، پھر پیپلز پارٹی کو لے آئے اور پھر نواز شریف پر شفقت کا ہاتھ رکھا گیا۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے مایوسی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو آزمانے کا جوا کھیلا۔ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں مدد کی۔ ملکی حالات عمران خان کے سامنے رکھے اور کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کا یقین دلایا۔ کچھ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی مانیں اور کچھ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کی مان لیں۔ دونوں ہم آہنگی اور مشاورت کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں۔

دورہ امریکہ کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب خان صاحب سے کہیں دور ایک عام سپہ سالارکی حیثیت میں نظر آئے جبکہ عمران خان ہر جگہ قافلے کو لیڈ کرتے دکھائی دیے۔ باجوہ صاحب اکثر تصاویر میں خان صاحب کو دیکھ کر خوش ہوتے دکھائی دیے۔ یہ باڈی لینگویج پیغام دے رہی تھی کہ ہمارا لگایا گیا پودا پھل پھول رہا ہے۔ پاکستان اور پاک فوج کی عزت میں اضافہ کروا رہا ہے۔ پاک فوج کو بین الاقوامی برادری میں صفائیاں نہیں دینا پڑ رہی ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ یہ گلہ رہا ہے کہ سیاسی حکمران کبھی فوج کا کیس نہیں لڑتے۔ بیرون ملک جب فوج پر تنقید ہوتی ہے تو یہ فوج کا دفاع کرنے کی بجائے خاموش رہتے ہیں یا فوج ہی کی برائیاں کرتے ہیں۔ مخالفین کو نکیل ڈالنے کی بجائے انھیں سپورٹ کرتے ہیں اور مخالفین کے پروپیگنڈا کو ملک میں اس طرح آ کر پیش کرتے ہیں جیسے فوج ملک کی دشمن اور بیرونی طاقتیں پاکستان کی دوست ہیں۔ پیپلز پارٹی کا میمو گیٹ سکینڈل اور ن لیگ کی ڈان لیکس اس کے واضح ثبوت ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے موجودہ سیٹ اپ میں ایک بھی ایسا وزیر یا مشیر نہیں ہے جو فوج کے خلاف استعمال ہو سکے۔ یہ واحد الیکشن ہے جس میں مبینہ طور پر انڈین لابی والے تمام سیاستدان الیکشن ہار گئے ہیں۔ اب جو بھی حکومت میں ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ سیٹ اپ کام کر گیا تو ملک کو ترقی کا پانچواں گئیر لگ جائے گا۔ اکانومی اپنی اصل جگہ پر گر کر سر اٹھائے گی۔ معاشی پالیسی مستقل ہو جائے گی۔ لوٹ مار کم ہو جائے گی۔ ہر ادارہ اپنا بوجھ خود اٹھانے لگے گا، پاکستان آہستہ آہستہ قرضوں کے بھنور سے نکل جائے گا، معاشی بحران ختم ہو جائے گا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج قائم ہو گا، عمران خان پاکستان کے لیے لازم و ملزوم ہو جائیں گے اور پندرہ سال تک پاکستان تحریک انصاف کو کوئی ہلا نہیں سکے گا۔

اسٹیبلشمنٹ کا اس انداز میں سوچنا فطری عمل ہے۔ اس سوچ پر تنقید کرنا یا اسے پاکستانی جمہوریت دشمنی قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ن لیگ، پیپلز پارٹی میں جرات ہے تو آئیں پوری دنیا کے سامنے ثبوت رکھیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار نہیں ہیں۔ دنیا کو بتائیں کہ ذالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کو ڈیڈی کہہ کر نہیں پکارتے تھے۔ یہ بھی کہیں کہ بینظیر بھٹو فوجی آمر مشرف کے ساتھ ڈیل کر کے پاکستان نہیں آئی تھیں۔ یہ بھی اقرار کریں کہ یوسف رضا گیلانی بھری محفلوں میں یہ کہتے نہیں پھرتے تھے کہ ہمیں تو جنرل کیانی کے بوٹ پالش کرنے کا موقع چاہیے۔ جنرل صاحب صرف ایک مرتبہ اجازت دے دیں۔

ن لیگ عوام کو بتائے کہ کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار نہیں ہے۔ نواز شریف حلف دیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے تلوے نہیں چاٹتے رہے۔ نواز شریف دل پر ہاتھ رکھ کر قوم کو بتائیں کہ جنرل ضیاالحق انہیں اپنا تیسرا بیٹا کہتے تھے یا نہیں۔ کیا نواز شریف بھرے جلسوں میں یہ اعلان نہیں کرتے تھے کہ میں جنرل ضیاالحق کا جانشین ہوں اور میں مرتے دم تک جنرل ضیا کا مشن آگے بڑھاؤں گا۔

سچ یہ ہے کہ تاریخ کے اوراق اس طرح کے سینکڑوں قصوں سے بھرے پڑے ہیں اور کوئی شخص ان واقعات کی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو تحریک انصاف پر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ لینے پر تنقید کیوں کی جارہی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی منافقت کیوں دکھا رہے ہیں۔

میرا کہنا ہے کہ منافقت دکھانے کی بجائے یہ وقت ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی مشترکہ پریس کانفرنس میں سرعام اس حقیقت کا اقرار کریں کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حکومتیں بناتے اور توڑتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے سیاسی نظام میں موجود خامیاں ہیں۔ فوج کی مداخلت جائز تھی اور جائز ہے کیونکہ ہمارا سیاسی نظام دنیا کا کمزور ترین نظام ہے جو صرف کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار کو سپورٹ کرتا ہے اور اس کے بدلے ملک کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں دے پاتا۔ اسٹیبلشمنٹ نے ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا ہے جو ان کا حق تھا کیونکہ بیچ چوراہے تجوری کھلی رکھنے والے کو چوری کا گلہ نہیں کرنا چاہیے۔


ای پیپر