آزمائش شرط ہے
25 اگست 2019 2019-08-25

ہوئی کچھ تاخیر تو باعث کچھ تاخیر بھی تھا۔ سستی ، کاہلی ، سیاسی افق پر واقعات کی تیزرفتار۔ اس رفتار کے ساتھ بھاگنے کی کوشش میں یہ ناتوان ہلکان۔مسقط سے واپسی پر کالم نویسی میں مسلسل ناغے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ خلیج عمان کے ہلکورے لیتے خاموش پانیوں کے کنارے اس شہر بے مثال میں زندگی کو زیست کرتے پاک وطن کے سپوتوں نے ایسی کہکشاں سجائی تھی۔ وطن کی محبت میں سرشار ان بے لوث رضاکاروں میں سے کسی ایک کی بھی محبت کا قرض اتارنے میں کوتاہی ہوئی تو قلق رہے گا۔ پھر ان میز بانوں کی کشادہ دلی یاد آتی ہے تو اطمینان سا ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ کسی کا تذکرہ نہ ہوسکا تو معافی مل جائے گی۔ یار زندہ صحبت باقی۔گزرے ایک سال میں مسقط یہ دوسرا دورہ تھا۔ جس طرح پہلا دورہ اچانک ہوا۔ اسی طرح یہ دوسری حاضری بھی۔مسقط سے پہلا تعارف تو برادر صغیر امیر حمزہ کے ذریعہ ہوا اور دوسرا تعارف سفیر پاکستان جناب علی جاوید ہیں۔ سفیر صاحب تو خیر اب اپنا سفارتی عرصہ ملازمت مکمل کرکے واپس آگئے۔ اور اب درجہ اعلی کا کورس کرنے میں منہمک ہیں۔ امید ہے کہ کورس مکمل کرکے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ وہ اوائل جولائی کا ہی کوئی دن تھا جب سفیر پاکستان کی دعوت ملی کہ پاکستان فیسٹول کی تقریب ہے ۔ اور آپ نے شرکت کرنی ہے ۔ فوری طور پر حامی بھر لی۔ متوقع مہمانوں کی فہرست پڑھی تو ماتھے پر پسینہ آگیا۔ کہاں صحافت ، ظرافت ،فن ، ادب کے وہ درخشندہ ستارے اور کہاں یہ قلم و کیمرہ مزدور۔ بہر حال سوچا کہ کہیں پچھلی صف میں چھپ کر وقت گزار لیں گے۔سو وقت مقررہ سے ایک دن کی تاخیر سے مسقط لینڈ کر گئے۔ جہاں برادر زیب جعفری مہمان کے سواگت کیلئے موجود تھے۔ ایسا مودب ، وضع دار خوش گفتار کہ رشک آگیا۔ ہوٹل میں استاد محترم عطا الحق قاسمی ، شہنشاہ ظرافت انعام الحق جاوید ، سلیمان گیلانی اور خالد شریف جگمگا رہے تھے۔ خالد شریف کو کون نہیں جانتا۔ ادب دشمنی کے اس پر آشوب دور میں ماورا پبلیکیشنز کے نام سے کتاب دوستی کی شمع جلائے بیٹھے ہیں۔ شوریدہ ہواؤں کے سامنے جلتے چراغ کو بھجنے نہ دینا بھی تو جوے شیر لانے کی مانند ہے ۔ اور پھر جناب سہیل وڑائچ ، جاوید چوہدری ، مربّی و محسن طلعت حسین اور لاہور کا نوجوان بانکا سجیلا فرخ شہباز وڑائچ۔ تقریب کیلئے شام کا وقت مقرر تھا۔ ہال تک پہنچنے سے پہلے یہی خیال تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی منعقدہ روائتی تقریب ہوگی۔ لیکن جذبوں ، وارفتگی ، مٹی کی محبت میں گندھی یہ تقریب کچھ انوکھی اور الگ تھی۔ ایساکب ہوتا ہے کہ تقریب گلگت سے لیکر چاروں صوبوں کی نمائندہ ہو۔ دھرتی کے فرزند ہندو ، مسیحی بھی شانہ بشانہ وطن کا پرچم تھامے کھڑے ہوں۔ایسا کب اور کہاں ہو تا ہے ۔ لیکن برادر قمر ریاض اور امیر حمزہ کے نوجوان رضاکاروں نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ ان نوجوانوں کو مشورہ ہے کہ ایونٹ مینجمنٹ کے شعبہ میں قسمت آزمائی کریں۔ بڑے بڑوں کو مات دے ڈالیں گے۔پاکستان فیسٹیول کی داستان بہت طویل ہے ۔ بہت وقت اور سپیس درکار ہے ۔مسقط میں گزرے دنوں کی یادگاریں لعل و جواہر سے بھری گھٹڑی کی طرح ہیں جب ضرورت پڑی جواہر نکالا اور کارزار حیات میں کیش کرا لیا۔ نوجوان شاعر علی یاسر کی حیرت زدہ کردینے والی شاعری، ابرار ندیم کی انمول پنجابی نظم قمر ریاض کی بہار کے موسموں میں کھلی کونپلوں کی مانند تروتازہ شاعری۔ اور ان گنت دوست۔دوبئی سے آئے رانا احسان اور گوہر رشید بٹ کی ہمہ وقت مسکراہٹیں۔ یہ سب سرمایہ حیات ہیں۔ ایسا سرمایہ جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور پھر زاہد شکور۔ اپنے شہر نگاراں سا ہیوال کی ازلی محبتوں کا امین۔ بس اس سے تعارف دم رخصت ہوا۔ سو تشنگی رہ گئی۔ مسقط کے اس دوسرے دورے نے ایک مرتبہ پھر ریاض بھائی سے ملاقات کا موقع دیا۔ جن محبت کا یہ خاکسار پہلے ہی قرض دار ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ لکھنے میں کوتاہی رہ گئی ہوگی۔ کسی دوست کا تذکرہ رہ گیا ہوگا۔ معافی کا خواستگاررہوں گا۔ بس ایک ترکیب ہے ۔ بالکل مفت۔امیر حمزہ ، زاہد شکور قمر ریاض چندہ مہم چلائیں۔ اس بندہ مزدور کو پھر بلائیں۔ اور ہاں اس بار سلالہ کا وزٹ بالکل نہ بولیں۔ احباب یقین رکھیں کسی ڈونر کا نام ہرگز نہیں بھولوں گا۔ آزمائش شرط ہے ۔


ای پیپر